Kashif Hafeez Siddiqui

کیوں نہ ہو جان و دل فداء

In Urdu Columns on August 10, 2020 at 7:40 am

اس میں کیا شک کہ ۲۰۲۰ ایک بہت ہی مشکل سال کے طور پہ سامنے آیا ہے۔

آزمائشیں ۔ مصائیب ۔ چیلینجز
تواتر کے ساتھ یکے بعد دیگرے چلے آ رہے ہیں کہ رکنے کا نام ہی نہیں لگ رہے

انہی مصائیب اور مشکلات کے تسلسل میں جماعت اسلامی کراچی کے کسی جلوس میں بم دہماکہ تاریخ میں پہلی دفعہ ہوا ہے

جماعت اسلامی کی یکجہتی کشمیر ریلی میں 30 کے لگ بھگ افراد زخمی ہوئے ۔ جن میں سے ایک ساتھی رفیق تنولی بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے

کئ ایک ساتھی ایسے بھی تھے جو معمولی زخمی تھے مگر انہوں نے کسی ہسپتال جانا مناسب نہیں جانا۔ چھوٹی موٹی ڈریسنگ کے بعد گھر کو چلے گئے ۔ انکا نام اس فہرست میں شامل ہی نہیں

اس پورے سانحہ میں جماعت اسلامی کی اجتماعیت کے خیر اور منظم ہونے کا پہلو مذید نکھر کر اور ابھر کر سامنے آیا۔

بم حملے کے بعد شرکاء ریلی میں کوئ افراتفری ۔ پینک اور ہیجان سامنے نہیں آیا۔

کوئی چینخ و پکار یا آہ و بکا کا منظر نہیں دکھا

کارکنان میں سے کوئی بھی جائے موقع سے فرار نہیں ہوا۔ سب ثابت قدم رہے۔ زخمی ساتھیوں کی مدد میں اور ہسپتال لے جانے میں مصروف ہوگئے

تمام وہ کارکنان جن کےپاس گاڑیاں تھیں فورا آگے بڑھے اور زخمی ساتھیوں کو لیکر قریبی ہسپتالوں کی طرف روانہ ہو گئے۔ وہاں کوئ ایمبولینس اسوقت موجود نہیں تھی

پوری قیادت کارکنان کے درمیان موجود رہی۔ زمہ داران کو ہسپتالوں کی طرف روانہ کیا ۔ پروگرام کو منظم اور پرامن رکھا ۔ ریلی کو آگے کی طرف لیکر آگے بڑھے

محاورتا نہیں حقیقتا ردعمل میں ایک گملا بھی بھی نہیں ٹوٹا

دلچسپ بات یہ ہے کہ کوئی پولیس یا رینجر والا جماعت کی قیادت کو اپنے حصار میں لینے کیلئے آگے نہیں آیا (یہ کام ایجینسیوں کے SOPs میں شامل ہیں)

ایک ایک کارکن کی خبرگیری کیلئے قیادت پہنچی۔ تمام ہسپتالوں کا دورہ کیا ۔ ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس ۔ پھر رات 12 بجے تک مختلف پروگرامز میں شرکت ۔ ادارے میں قانونی کاروائی پہ مشاورت اور پھر رات گئے ہسپتالوں میں لیڈرشپ کے زعم میں نہیں بلکہ کارکنیت کے احساس کے ساتھ موجود رہی

آغاخان اور لیاقت نیشنل ہسپتال کے ڈاکٹرز کے ساتھ تسلسل سے رابطہ۔ زخمیوں کے نام بہ نام صورتحال سے اپ ڈیٹ ہو رہے تھے

دو نہایت شدید کارکنان ۔ عبدالاحد اور رفیق تنولی بھائی کے حوالے سے شدید مغموم

کسی زخمی کارکن کے کسی اہل خانہ نے دستیاب انتظامات سے عدم اطمینان کا اظہار نہیں کیا۔ نہ کوئی مطالبہ کیا

مختلف اضلاع کے امراء ہسپتالوں میں کارکنوں کے ساتھ موجود

کارکنان کا حال یہ کہ جو زخمی تھے وہ دوسروں کیلئے فکرمند، کسی اور زخمی کی مدد کیلئے مستعد، کوئ خونی لال لباس میں تکبیر کے نعروں میں مست

باقی کارکنان جوق در جوق ہسپتالوں کا رخ کر رہے تھے

ہرہر کارکن جانے اور انجانے ساتھی کیلئے پریشان

خواتین نظم اپنے بھائیوں کیلئے فکرمند ۔ مغموم اور دعاءگو

جماعت اسلامی یوتھ کے نوجوان ہسپتالوں میں خون دینے کیلئے تیار

واٹس ایپ ۔ فیس بک پہ ایک دوسرے کی خبرگیری اور دعاوں میں مصروف

یہ ہے جماعت اسلامی کی اجتماعیت کا
اصل رنگ
اصل روپ
اصل چہرہ

یہ وہ روپ ہے
یہ وہ لیلی ہے
جس سے پیار ہی نہیں ۔
عشق ہو جائے۔

ایسے میں جتنا سوچتا ہوں شکرگزاری کی وہ کیفیت طاری ہوتی ہے کہ
آنکھ سے آنسووں کی جھڑی لگ جاتی ہے

دل و دماغ ۔ دونوں پکار اٹھتے ہیں کہ
صد شکر کہ ہم جماعت اسلامی میں ہیں
صد شکر کہ ہم اس اجتماعیت میں ہیں

اللہ اکبر کبیرہ
والحمدللہ کثیرہ
سبحان اللہ و بکرہ اصیلا
لاالہ الا اللہ

آیا صوفیا کی میوزیم سے مسجد میں تبدیلی

In Urdu Columns on July 13, 2020 at 6:40 am

آپ کے سامنے ایک مختلف مطمح نظر رکھنا چاہتا ہوں ۔
امید کرتا ہوں کہ رہنمائی اور اصلاح کیجئیے

جزبات سے ہٹ کر ایک مختلف زاویہ نگاہ

قسطنطنیہ کی اہمیت عیسائیوں ۔ روم/یورپ کے باسیوں اور دنیا بھر کے عیسائیوں کیلئے نہایت محترم تھی اور ہے

آیا صوفیا یقینا صلیبیوں کا روحانی مرکز ہے
اتنا ہی جتنا مسلمانوں کیلئے بیت المقدس یا حرم ۔

اسی لئیے یورپ کے سیاحوں کی بڑی تعداد آیا صوفیا کی سیاحت /زیارت کیلئے ہرسال ترکی آتی ہے

جب قسطنطنیہ، عثمانیوں / مسلمانوں نے ایک خونریز معرکہ کے بعد فتح ہوا ہو گا تو صلیبیوں میں صف ماتم یقینا عالمی پیمانے ہر بچھی ہو گی

فتح مکہ ۔ فتح کسری ۔ فاطمی حکمرانوں کو نیست و نابود کرنے کے بعد فتح قسطنطنیہ مسلمانوں کی شان و شوکت کا علامتی نشان تھا

اس زمانے میں جب قوت کی بنیاد پہ شہر اور ملک فتح ہو رہے تھے تو غالبا مسلمان/ترک فاتح اخلاقی اور مذہبی رواداری کی تربیت کے لحاظ سے قرطبہ کے صلیبی بادشاہوں کی طرح ہی کے تھے اور مختلف نہیں تھے

عثمانیوں کے پاس، مسلمانوں کے قرون اعلی کے فاتحین کے علی الرغم دعوتی اور دینی زہن اس بلند پائے کا نہیں تھا کہ جو مزہبی رواداری کا صلاح الدین ایوبی کی طرح کوئی قابل تقلید مثال قائم کرتا

اسپین کے صلیبی بادشاہوں نے مساجد کو چرچز میں تبدیل کیا اور عثمانیوں نے آیا صوفیا کو مسجد میں تبدیل کر دیا ۔

عین ممکن ہے کہ اتاترک کے زمانے میں آیا صوفیا کی مسجد سے میوزیم میں تبدیلی ۔ یورپ کے دباؤ کا نتیجہ ہو۔ کیونکہ زمانے کے فاتح زمانہ وہی تھے۔ بیت المقدس کی فتح کے بعد فاتح جنرل کا یہ جملہ کہ Now cruised wars has overed
ثابت کرتا ہے کہ انہوں نے ماضی کو کبھی نہیں بھلایا

یہود نے فتح خیبر اور عیسائیوں نے لشکر ابرہہ کو کبھی بھی نہیں بھلایا۔
بلکہ امریکہ کے عراق پر حملے کے دوران خود بش کا صلیبی جنگوں کو یاد کرنا ڈاکیومینٹیڈ ہے۔

اس تناظر میں آیا صوفیا کی مسجد کے طور پر بحالی سیاسی اسٹنٹ زیادہ لگتا ہے۔
دلوں کا حال تو اللہ بہتر جانتا ہے۔

نہیں معلوم کہ اس فیصلے سے ترکی میں اسلام کو کیا فائدہ حاصل ہو گا ۔ مگر میرے نزدیک موجود حالات میں یہ بہت مستحسن فیصلہ نہیں

دنیا آج سے 500 سال پہلے والی نہیں ۔ بیت المقدس ۔ تین مزاہب کا مرکز ہے۔ اسکواسرائیل کیلئے روندنا آسان نہیں

اب آیا صوفیا دو مزاہب کا مرکز ہے۔ بطور مسلمان ہم کو قرون اولی کے مسلمانوں اور فاتحین کی رواداری کی روایت کو قائم رکھنا ضروری ہے۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ اور صلاح الدین ایوبی کے عمل کو صلح اور فتح سے ہٹ کر دیکھئیے تو آج تک دور رس اثرات رکھتے ہیں
دوسری طرف سومنات کے حوالے سے لٹیرے کا طعنہ ابھی تک دیا جاتا ہے۔

آج کی دنیا گلوبل ولیج ہے۔
آیا صوفیا میں نماز کی بحالی کسی گم گشتہ عظمت رفتہ کی بحالی نہیں ہے۔
اسکے مقامی سیاسی اثرات بھی کس حد تک پڑیں گے یہ بھی ابھی سوال ہے۔

Research According To Islamic Principles By – Maulana Maududi

In Urdu Columns on June 23, 2020 at 10:21 am

Translation of Maulana Maudidi speech – عہد حاضر میں اسلامی تحقیق کا طریقہ کار کیا ہونا چاہئے ؟

All the branches of knowledge in the world are divided into two parts: one comprises information which man has about the world and his life; and the other is that which groups of people arrange according to their particular mode of thought.

The food material available in the world is almost the same, but people consume the same things in different ways. Similarly, people have the same information of things in their surroundings. But different civilizations arrange that information differently which makes them stand out. 

The consequence of stagnation

If a nation stops seeking information and creating new things and ways of living, it gradually becomes weak and is ultimately subjugated by some other nation. It is subjugated not just politically and economically, but also intellectually.

Then the subjugated nation starts following the ways of the ruling nation, without even thinking if the new ways it is adopting suit it or not. As a result, its individuality keeps diminishing. Such nations ultimately remain in only history.

When Islam began asserting itself in the world, it did so not just through political and military ventures, but also by seeking new information and arranging it according to its core beliefs. As a result, it created a civilization that was embraced by a large part of the world.

Medical sciences and Muslims

Is it not true that Muslims wrote books on medicine according to their religious beliefs? They began with the praise of God and would choose only those substances for medicine which are Halal. Time and time again in those books, the writers would mention that the effect that medicines have is God’s blessing upon mankind. That these medicines are nothing in themselves. When the Muslim doctors examined patients, they would begin by uttering praise for God and seek His help.

The information that they had was the same as other around the world had. But the Muslim physicians used that information according to their religious beliefs.

I used the example of medicine because people usually say that this science has nothing to do with anyone’s beliefs. We should remember that our beliefs influence everything we do. We mould everything according to our faith.

When Muslim civilization was the model for the world

The result of the work done by the Muslims was that, for centuries, the rest of the world tried to imitate the Muslim civilization despite their religious prejudice against Islam.

Muslims promoted their thought system based on monotheism with such strength that polytheists found it hard to speak of their beliefs with any conviction. They tried to somehow reconcile their faith with monotheism. They said they were also monotheists and the other gods that they worshipped were a means to reach the God. Several monotheistic groups emerged within the polytheist religions.

The physical sciences and the sociological sciences developed by Muslims ruled the world. The Renaissance in the West owed a lot to the sciences developed by Muslims. The key people in that movement were educated in Spain which was the citadel of Muslim civilization for centuries.

There was a time when western scholars took pride in knowing Arabic. Even many of their religious leaders used to write their personal letters in Arabic. Others would complain that their scholars were so overawed by Arabic that they used the language in their private lives and had quit their national language(s).

This was all a result of Muslims’ hard work in research and inquiry. Other nations just followed them. In this manner, their psyche was also influenced by Islamic thoughts. If we read books of a group of Christian scholastics, we will find that they were almost literally copying their Muslim counterparts. There was no difference in those books and Muslims books except that of their belief in trinity of gods.

Then Muslims quit research

But then came a time when Muslim scholars stopped research work and became content with adding footnotes to the works written by their predecessors.

At the same time, the scholars in the West started research. They looked for new facts and came up with new systems.

As a result, Muslims stagnated and the West rose in power. By the 18th century, Western nations became so powerful that they managed to subjugate the Muslim nations.

When a nation becomes complacent and does not strive to move forward it inevitably starts declining in knowledge and power. And the nation which subjugates another does not only overcome its victim militarily and politically. It brings with it its whole civilizational framework and presents it as superior to the subjugated nation’s way of life.

The influence of western civilization

When Islam was the biggest power in the world, people thought only Muslims are civilized, cultured, and educated. Now that Western countries are powerful, people consider only they are civilized, cultured and educated. And we should follow them unquestioningly.

Whatever we say about it, practically it’s the western world’s way of living, way of thinking that we are following. If we want Muslim civilization to be revived, we will have to start research work anew.

What kind of research?

But we must be clear in our minds about what kind of research we need as Muslims. We don’t need research for the sake of research — the kind that Western scholars try to teach us, that seeks to examine texts attributed to some author not to get some ideas out of them but to prove their historical authenticity. It’s helpful in some ways but it’s not what we need. It won’t help us move forward.

We need the kind of research that has helped the West acquire the power that it has over the rest of the world today.

One kind of research is being promoted in our country. It is about Islam. But it is meant to produce an Islam which conforms to the Western ideals, which legitimizes whatever is legitimate in the West and delegitimize whatever is illegitimate in the West. We don’t need this kind of research either.

Research according to Islamic principles

We must challenge through well-argued intellectual criticism the notion that the Western philosophy of life is the best. Whatever facts there are in Western sciences are the whole world’s heritage. We have no problem with those. But the conclusions that they have reached about the universe through their discoveries are entirely wrong.

The social sciences they have developed, the social philosophies they have invented cannot lead to wellbeing of humanity. In fact, it will lead to destruction of humanity.

If we manage to successfully challenge this idea of the superiority of the Western world’s philosophy of life, Muslims will come out of the web that West has spun around us. Unless this is done we can’t expect Muslims to become leaders of the world. They will continue to be followers.

Knowing facts about the material world around us is one thing and forming a philosophy of life based on those facts is another. The facts that the West has discovered through its research work are to be accepted but the philosophy of life that it has developed on the basis of those facts is not acceptable.

Next, we’ll have to reformulate all sciences according to Islamic point of view in order to found the Islamic civilization. Man needs a comforting philosophy about what reality is. We should meet this need while remaining within the limits set by our faith.

To search for reality is in man’s nature. We cannot condemn this curiosity. We have to develop a philosophy according to the principles of Islam to tell the world what the reality of man is, what the reality of the universe is. Only when we have done this can we replace the sciences being taught in our colleges and universities.

When the Russians adopted communist way of thinking they re-formulated all the sciences taught in their educational institutions according to communism. They didn’t tolerate capitalist ideas. They did so because they knew it was not possible to build a true communist system unless they threw the capitalist ideology out of their education system.

Unless we adapt economics, law, psychology, and all other social sciences to the principles of Islam and teach them in our educational institutions, we can’t hope to revive Islamic civilization.

Reforming education system

Even if we tell our children that there is one God, that Muhammad (PBUH) was His prophet, and that Quran is the book of God, our young generation will not really believe in these things because when it goes to college it sees that God is never mentioned in whatever they learn.

Whether they study physical or social sciences they never learn anything about God. They are never told that our prophet gave us an economic system and a legal system.

On the contrary, a lot of things that they are taught are against Islamic teaching which makes them think that Islam is not a practicable religion. For example, they are taught how the interest-based financial system works. Because they have never been introduced to Islam’s economic principles they think that the interest-based financial system is the only system.

Our current education system makes them see Islamic legal system as extremely cruel because it allows for hand amputation and flogging to punish thieves and fornicators, respectively. After such education, how can we expect our young generation to follow Islam wholeheartedly?

People graduating from these institutions then run our government, our judiciary, our economy. Can we expect them to conduct any official business according to Islamic principles?

If you talk to them, very soon you will realize that they consider Islam a thing of past which can’t meet the needs of modern life. They can’t even imagine that there could be any system than that provided by the West.

Constructive work

We must prepare curriculum which teaches our young generation these sciences according to Islamic commandments. Currently we teach books that are written by those of us who consider aping the West the way forward. We must get such books written as could meet the needs of this curriculum.

Communist states have rejected not only the books written by capitalist economists but also the science books written in the capitalist world. They are developing what they call Soviet Science. They have compiled science books according to communist ideology.

If a child studies eight subjects in school and only one of them is about religion, he can’t be prepared for an Islamic way of life. This education system is eroding our individuality by the day. What to talk about the revival of Islam, we can’t even keep what we still have of Islam in our lives if we let this education system continue to be operated.