Kashif Hafeez Siddiqui

کم از کم مجھے ان کی وفات کا کوئ غم نہیں

In pakistan, Urdu Columns on August 1, 2015 at 11:19 am

download (4)بھارت کے سابق مسلم صدر ابوالکلام اس جہان فانی سے اپنے تمام اعمال کے ساتھ کوچ کرگۓ – کچھ انفرادی اعمال ہوتے ہیں جن کا تعلق بندے اور اسکے رب سے ہوتا ہے اور کچھ اجتماعی اعمال ہوتے ہیں جن کا تعلق امت سے ہوتا ہے –

مثلا میر صادق اور میر جعفر ہو سکتا ہے اپنے انفرادی معاملات میں سراج ادولہ اور ٹیپو سلطان سے زیادہ پاکباز، صالح، نمازی، انسانیت کے دوست، زکوۃ صدقات کرنے والوں ہوں ، لیکن انکے اجتماعی فیصلے انکو کچھ اور ہی بتاتے ہیں – نوبل انعام دینے سے کیا ڈایئنامائیٹ کے خالق کے قصور معاف ہو جائیں گے –

اسی طرح ایک مسلمان امت کو چھوڑ کر وطنیت کے جزبے سے سرشار ہو اور مسلمانان پاکستان اور کشمیر کے خون سے رنگے ہاتھوں والے ازلی دشمن کو مسلمانوں کے ہی خلاف ایٹمی قوت بنانے میں ممدومعاون ہو – جو شہید افضل گورو کی معافی کی درخواست کو رد کر چکا ہو – جو “سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا” میں عمر بھر مگن رہے اور ” مسلم ہیں ہم وطن ہیں سارا جہاں ہمارا” کو بھلا بیٹھے

کم از کم مجھے اسکے مرنے کا کوئ غم نہیں

ملا محمد عمر ہم سے رخصت ہوۓ

In Miscellaneous, Urdu Columns on August 1, 2015 at 11:03 am

ملا محمد عمر ہم سے رخصت ہوۓ-  إِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ – 11813389_897636626990967_4628162187125975554_n
————————————————————–
مسلم تاریخ کا ایک اور بطل جلیل ، مرد کوہسار، مجاہد، جری، بہادر ، دلاور، دلیر، حوصلہ مند،نڈر ،شجاع، مرد میدان، عقاب کوہستان، حریت پسند، طوق غلامی کا منکر، مسلسل برسرپیکار، عزم و ہمت کی ایک لازوال رومانوی کہانی، نقیب حق، راستی کا علم بردار کہ جس کی شخصیت حکمت، دانائ،فراست، عقل مندی اور شجاعت کے جوہروں سے میزن،
اپنے ساتھیوں کا مرکز نگاہ ، مرکز یقین، انکی محبتوں کا گہوراہ۔ الفت کا مینارہ، احترام کا استعارہ، یقین کا منبع ، دو دہائ تک بلا شرکت غیر – ایک متفقہ رہنماء –
تحریک آزادی و حریت کا تابندہ ستارہ، جزبہء ایثار کی لازوال داستان، اپنے فیصلوں میں کوہ گراں اور اپنی جدوجہد میں اولی العزم، حکمت و دانائ کا ایک سیل رواں – ملا محمد عمر – ہم میں نہیں

بقول ایک دوست کے “کچھ لوگ تھے کہ اپنی سب فوجوں، توپوں، طیاروں اور ایٹم بموں کے ساتھ بھی ایک فون کال پر ڈھیر ہو گئے ۔۔ اور ایک شخص تھا کہ خالی ہاتھ ہی زمین کے خداؤں سے لڑ گیا ”

مجھے مرحوم کے دور اقتدار کےبہت سارے دینی و سیاسی تصورات سے شدید اختلاف رہا ہے اور ہے – سخت گیر ، زبردستی مسلط کردہ اسلامی خودساختہ تصورات، خواتین کی تعلیم کو روکنا، جدید زرایع ابلاغ سے کنارہ کشی، حزب وحدت اور شمالی اتحاد سے خوں آشام تصادم وغیرہ – مگر میں امریکی استبداد کے خلاف جدوجہد میں انکا اخلاقی حامی ضرور ہوں –

سمجھنا چاہئے کہ افغان طالبان اور پاکستانی طالبان میں بہت فرق ہے – ایک سراپا جدوجہد – دوسرے کسی ظلم و زیادتی کا رد عمل یا غیر ملکی سازشوں کا شکار یا انکے ایجینٹ -اسلامی دفعات کی موجودگی میں مسلح تخریبی جدوجہد کی کوئ گنجائیش پاکستانی سرحدوں میں نہیں نکلتی – نہ ہم ان کاروائیوں کے حامی اور نہ ہی ساتھی

ملا عمر عزم و حوصلے کی ایک عظیم داستان ہے – امریکی حملے کے بعد اپنا سب کچھ (اپنے مہمانوں کیلئے) قربان کر دینا آسان کام نہیں تھا – زبردست کارپٹ بمباری کا مقابلہ کرنا – پہلے پیچھے ہٹنا اور پھر یہاں تک کہ فوجی لحاظ سے صف اول کی اقوام کے اتحاد کو برابری کی بنیاد پہ لا کھڑا کرنا – انکو شکست خوردہ واپس جانے پہ مجبور کر دینا – 3000 سے زائد لاشیں اور 30 ہزار سے زائد زخمیوں اور اتنے ہی زہنی مریض ان ممالک میں واپس بھجوا کر وقت کے طاغوتوں کو اپنے پیروں میں جھکا لینا اور سر عام رسواء کر دینا – ایک بڑا کارنامہ ہے- تاریخ میں جب بھی اب جدید فوجی حکمت عملی پڑھائ جاۓ گی – وہاں ناممکن ہے کہ ملا عمر کی مزاحمت کا زکر نہ ہو – انکی اسٹڑیٹیجی کی بات نہ کی جاۓ- انکے ساتھیوں کی دلیری کا تزکرہ نہ ہو- انکے ساتھیوں کی جاں فروشی اور سرعت کا زکر نہ و – آج کابل میں بیساکھیوں پہ کھڑی لرزتی کانپتی ایک امریکی حمایت یافتہ مجہول حکومت موجود ہے-جس کا اپنا مستقبل غیر ملکی ، کابل تک محدود طاقتوں پہ منحصر ہے- مرحوم کی سنہرے لفظوں میں لکھی جانے والی جدوجہد آزادی نے دنیا کو دکھا دیا کہ ایمان کیسے کامیاب ہوتا ہے اور تمام انسانی خواہشیں، زرایع اور سازشیں کیسے ناکام ہوتی ہیں- باقی رہے بس نام اللہ کا

انہوں نے کبھی ناموری کی زندگی نہیں گزاری – گوشہ نشینی اختیار کی، احتیاط کا دامن چھوٹنے نہیں دیا – نہ کبھی بلند و بانگ دعویٰ کیا – اپنی زمیں پہ رہے۔ وہیں جدوجہد کی، وہیں مشکلیں سہیں اور اب اسی زمین میں دفن ہو گۓ – رعب اسقدر کہ دو سال تین ماہ تک صرف نام ہی چلتا رہا – آدھے سے زائد افغانستان کو پنجہ استبداد سے آزاد کرو الیا- دنیا کی تمام ٹیکںولوجی فیل اور ایمان کامیاب رہا

بقول رعایت اللہ فاروقی کے “وہ اپنے حصے کا کام کر بھی گئے اور منوا بھی گئے۔ وہ ایسے وقت میں دنیا سے رخصت ہوئے جب ان کا دشمن اپنی ایک لاکھ پچیس ہزار میں سے ایک لاکھ سے زائد فوج شکست کھا کر نکال چکا۔”

ہم انکی مغفرت اور بلند درجات کیلئے دعاء گو ہیں

بڑا مبارک جہاد ہے یہ، سحر کی امیـــــــــــــــد رکھنا زندہ
نہ چین ظلمت کو لینے دینا -شبوں کی نیندیں اڑاۓ رکھنا

A Discussion about Contemporary Services of Syed Abul A’ala Maududi (RA)

In Clsh of Civilizations, Islam - A Study, Pakistan History, Pakistan's Ideology on October 22, 2013 at 1:51 am

A Discussion about Syed Maududi

 

http://http://www.dailymotion.com/us/relevance/search/episode24+syed+modoodi+special/1#video=x1541p5

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 116 other followers