Kashif Hafeez Siddiqui

فرمودات مولانا اشرف علی تھانوی

In Miscellaneous on May 9, 2009 at 2:01 am

فرمودات مولانا اشرف علی تھانوی

مجھے وقت کی ناقدری سے بڑی تکلیف ہوتی ہے، نہ میں کسی کو کسی معاملہ میں منتظر رکھتا ہوں نہ کسی کا انتظار کرتا ہوں۔چاہتا ہوں کہ جو بات ہو سلیقہ کی ہو اور وقت پر ہو جائے، دوسرے کو اذیت سےبچانا میرے ذوق میں کل سلوک ہے۔ میں جو تقاضے کے ساتھ حتی الامکان وقت پر ہر کام سے فارغ ہو جاتا ہوں ، وجہ اس کی یہ ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ کچھ لمحات ایسے بھی ہوں کہ قلب غیراللہ کے ساتھ مشغول نہ ہو۔ تاکہ اگر کبھی خدا تعالی کی یاد کی توفیق ہوجائے تو کوئی مانع نہ ہو۔

ذرا اپنا نظام الاوقات مقرر کرکے اور اس پر عمل کرکے تو دیکھو تو یہ کیسی بڑی نعمت ہے۔ نعمتوں کا مشاہدہ، معیت الہیہ کا شرف، خدا تعالی سے مناجاتیں، تدبر تفکر اپنی زندگی کا جائزہ وغیرہ۔ یہ فراغت قلبی کی ہی تو برکتیں ہیں۔ اگر قلب کو ال٘لہ تعالی کے لئے فارغ کیا جائےگا تو پھر توجہ الی اللہ کی توفیق ہو گی اور قلب تجلی گاہ حق بن جائے گا۔ یہ بات صرف سمجھ لینے سے کافی نہیں ہوتی بلکہ اہتمام کے ساتھ عمل کرنے سے مقصود حاصل ہوتا ہے، اپنے قلب کو کم از کم تین منٹ روزانہ کوئی وقت مقرر کرکے مطلقاً فارغ رکھنے کی عادت ڈالو، پھر اس کے ثمرات دیکھو ۔

فرمودات مولانا اشرف علی تھانوی ۔ ڈاکٹر عبد الحئی عارفی مرتبہ مسعود احسن علوی

Advertisements
  1. Assalam u Alaikum
    Kashif bhai can u tell me where did u get this passage from, i am in search of the e-book related to Roza by Maulana Ashraf Ali Thanvi or can u tell me how can I download free ebooks by Maulana sahib. Wassalam Obaid

  2. Basically, someone forwarded me. i am not aware with source.

    Kashif

  3. مولوی اشرف علی تھانوی کی مجلس میں احمدیوں کے بارے میں کسی شخص نے کہا ’’حضرت ان لوگوں کا دین بھی کوئی دین ہے، نہ خدا کو مانیں نہ رسول کو‘‘ حضرت نے معاً لہجہ بدل کر ارشاد فرمایاکہ ’’یہ زیادتی ہے، توحید میں ہمارا ان کا کوئی اختلاف نہیں، اختلاف رسالت میں ہے۔ اور اس کے بھی صرف ایک باب میں یعنی عقیدہ ختم رسالت میں۔ بات کو بات کی جگہ پر رکھنا چاہئے‘‘۔ (سچی باتیں از عبد الماجد دریابادی۔ صفحہ۲۱۳۔ نفیس اکیڈمی۔ اسٹریچن روڈ کراچی نمبر۱)

  4. مشہور مفسر ، صحافی اور ماہر تعلیم مولانا ابولکلام آزاد صاحب

    ’ان کی یہ خصوصیت کہ وہ اسلام کے برخلاف ایک فتح نصیب جرنیل کا فرض پورا کرتے رہے ہمیں مجبور کرتی ہے کہ اس احساس کا کھلم کھلا اعتراف کیا جاوے تاکہ وہ مہتم بالشان تحریک جس نے ہمارے دشمنوں کو عرصہ تک پست اور پامال بنائے رکھا آئندہ بھی جاری رہے ۔۔۔۔ مرزا صاحب کی یہ خدمت آنے والی نسلوں کو گرانبار احسان رکھے گی کہ انہوں نے قلمی جہاد کرنے والوں کی پہلی صف میں شامل ہوکر اسلام کیطرف سے فرض مدافعت ادا کیا اور ایسا لٹریچر یادگار چھوڑا جو اس وقت تک کہ مسلمانوں کی رگوں میں زندہ خون رہے اور حمایت اسلام کا جذبہ ان کے شعار قومی کا عنوان نظر آئے ، قائم رہے گا ۔‘ (اخبار ملت ، لاہور ۔ 7جنوری 1911ء)

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: