Kashif Hafeez Siddiqui

نرالا تصور آزادی

In pakistan on August 17, 2009 at 11:03 am

 

بہ حیثیت مسلمان ہمارا تصور آزادی ساری اقوام سے نرالا ہے ۔ ہم اپنے آپ کو اس وقت تک آزاد نہیں سمجھ سکتے جب تک کہ ہم اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت و اطاعت کے لیے انفرادی اور اجتماعی حیثیت میں غیر الہیٰ ضابطہ وقانون سے آزاد نہ ہوجائیں۔ چاہے وہ ضابطہ قانون سمند رپار سے آیا ہو یا اپنے دیس کا ایجاد کردہ ہو۔

جب تک ہمارے اوپر غیر اسلامی دستور، غیر اسلامی قانون ، غیر اسلامی سیاست و معیشت اور غیر اسلامی تہذیبJamiat و تمدن مسلط رہے، اس وقت تک ہماری غلامی کی زنجیریں نہیں کٹتیں۔ ہمارے لیے صبح آزادی اس وقت طلوع ہوتی ہے، جب ہم اپنی پوری ملی زندگی کو کتاب وسنت کے سانچے میں ڈھالنے پر قادر ہوجائیں اور مدعا کو حاصل کرنے میں نہ غیروں کی طرف سے کوئی رکاوٹ باقی رہے، نہ اپنوں کی طرف سے کوئی مزاحمت!

یہی تصور آزادی تھا جو بر عظیم ہند کی غیر مسلموں کے ساتھ مل کر ایک متحدہ قومیت بنانے اور ایک مشترکہ جمہوری ریاست کی بنیاد ڈالنے میں مانع ہوا اور اسی کی وجہ سے ہم مجبور ہوگئے کہ اپنے لیے ایک جداگانہ خطہ زمین حاصل کریں۔ یہ خطہ زمین گراں بہا قربانیوں کے عوض میں ہمیں حاصل ہوا، درآں حالیکہ دوسری قربانیوں کے ساتھ ہمیں تقسیم کی مہلک ناانصافیاں بھی گوارا کرنی پڑیں۔ لیکن یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ اس خطہ ارضی کی آزادی کی ساری دولت انگریز ایسے جانشینوں کے سپرد کرکے گیا ہے جو اس کو نظام اسلامی کی تعمیر پر صرف کرنے میں برابر لیت و لعل کررہے ہیں۔

 کل یہی لوگ تھے کہ اسلامی نظام تمدن وسیاست کے نام پر آزادی کی جنگ میں مسلمان عوام کا تعاون حاصل کررہے تھے لیکن آج یہی لوگ ہیں کہ عوامی طرف سے اسلامی نظام کے مطالبے پر ان کے چہرے غضب آلود ہوجاتے ہیں

۔﴿اشارات، نعیم صدیقی،ترجمان القرآن، جلد32،عدد3، رمضان1368ھ، اگست 1949ء، ص3-4﴾

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: