Kashif Hafeez Siddiqui

To sick Minded Liberals – اسلام جواں مردوں کاراستہ

In Clsh of Civilizations on October 29, 2009 at 6:44 pm

اسلام جواں مردوں کاراستہ

ہمارے روشن خیال اور”تجدد پسند”حضرات جب کسی مسئلہ پر گفتگو فرماتے ہیں تو ان کی آخری حجت، جو ان کے نزدیک سب سے قوی حجت ہے، یہ ہوتی ہے کہ زمانے کا رنگ یہی ہے، ہوا کا رخ اسی طرف ہے، دنیا میں ایسا ہی ہورہا ہے۔ پھر ہم اس کی مخالفت کیسے کرسکتے ہیں اور مخالفت کرکے زندہ کیسے رہ سکتے ہیں! اخلاق کا سوال ہو۔ وہ کہیں گے کہ دنیا کا معیار اخلاق بدل چکا ہے۔ مطلب یہ نکلا کہ مسلمان اس پرانے معیار اخلاق پر کیسے قائم رہیں؟ پردے پر بحث ہو۔ارشاد ہوگا کہ دنیا سے پردہ اٹھ چکا ہے۔ مراد یہ ہوئی کہ جو چیز دنیا سے اٹھ چکی ہے اس کو مسلمان کیسے نہ اٹھائیں! تعلیم پر گفتگو ہو۔ ان کی آخری دلیل یہ ہوگی کہ دنیا میں اسلامی تعلیم کی مانگ ہی نہیں۔ مدعا یہ کھلا کہ مسلمان بچے وہ جنس بن کر کیسے نکلیں جن کی مانگ نہیں ہے اور وہ مال کیوں نہ بنیں جس کی مانگ ہے! سود پر تقریر ہو۔ ٹیپ کا بند یہ ہوگا کہ اب دنیا کا کام اس کے بغیر نہیں چل سکتا۔ گویا مسلمان کسی ایسی چیز سے احتراز کیسے کرسکتے ہیں جو اب دنیا کاکام چلانے کے لیے ضروری ہوگئی ہے غرض یہ کہ تمدن، معاشرت، اخلاق، تعلیم، معیشت،قانون،سیاست اور زندگی کے دوسرے شعبوں میں سے جس شعبے میں بھی وہ اصول اسلام سے ہٹ کر فرنگیت کا اتباع کرنا چاہتے ہیں،اس کے لیے زمانے کا رنگ اور ہوا کارخ اور دنیا کی رفتار وہ آخری حجت ہوتی ہے جو اس تقلید مغربی یا درحقیقت اس جزوی ارتداد کے جواز پر برہان قاطع سمجھ کر پیش کی جاتی ہے، اور خیال کیا جاتا ہے کہ عمارت اسلامی کے اجزائ میں سے ہر اس جز کو ساقط کردینا فرض ہے جس پر اس دلیل سے حملہ کیا جائے۔

ہم کہتے ہیں کہ شکست وریخت کی یہ تجویزیں جن کو متفرق طور پر پیش کرتے ہو، ان سب کو ملاکر ایک جامع تجویز کیوں نہیں بنالیتے؟ مکان کی ایک ایک دیوار۔ ایک ایک کمرے اور ایک ایک دالان کو گرانے کی علیحدہ علیحدہ تجوزیں پیش کرنے، اور ہر ایک پرفرداً فرداً بحث کرنے میں فضول وقت ضائع ہوتا ہے۔ کیوں نہیں کہتے کہ یہ پورا مکان گرادینے کی ضرورت ہے کیونکہ اس کا رنگ زمانے کے رنگ سے مختلف ہے، اس کا رخ ہوا کے رخ سے پھرا ہو ہے اور اسکی وضع ان مکانوں سے کسی طرف نہیں ملتی جو اب دنیا میں بن رہے ہیں۔

جن لوگوں کے حقیقی خیالات یہی ہیں ان سے تو بحث کرنا فضول ہے، ان کے لیے توصاف اور سیدھا سا جواب یہی ہے کہ اس مکان کو گرانے اور اس کی جگہ دوسرا مکان بنانے کی زحمت آپ کیوں اٹھاتے ہیں؟ جو دوسرا خوش وضع، خوشنما، خوش رنگ مکان آپ کو پسند آئے اس میں تشریف لے جائیے۔

اگر دریا کے دھارے پر بہنے کا شوق ہے تو اس کشتی کا لیبل کھرچنے کی تکلیف بھی کیوں اٹھائیے؟ جو کشتیاں پہلے سے بہہ رہی ہیں، انہی میں سے کسی میں نقل مقام فرما لیجئے۔ جو لوگ اپنے خیالات، اپنے اخلاق، اپنی معاشرت، اپنی معیشت ، اپنی تعلیم، غرض اپنی کسی چیز میں بھی مسلمان نہیں ہیں اور مسلمان رہنا نہیں چاہتے  ان کے برائے نام مسلمان رہنے سے اسلام کا قطعاً کوئی فائدہ نہیں بلکہ سرا سر نقصان ہے۔ وہ خدا پرست نہیں، ہوا پرست ہیں، اگر دنیا میں بت پرستی کا غلبہ ہوجائے تو یقیناً وہ بتوں کو پوجیں گے۔ اگر دنیا میں برہنگی کا رواج ہوجائے تو یقیناً وہ اپنے کپڑے اتار پھینکیں گے۔ اگر دنیا نجاستیں کھانے لگےتو یقیناً وہ کہیں گے کہ نجاست ہی پاکیزگی ہے اور پاکیزگی تو سراسر نجاست ہے۔ ان کے دل اور دماغ غلام ہیں اور غلامی ہی کے لیے گھڑے گئے ہیں۔ آج فرنگیت کا غلبہ ہے، اس لیے اپنےباطن سے لے کر ظاہر کے ایک ایک گوشے تک وہ فرنگی بننا چاہتے ہیں۔ کل اگر حبشیوں کا غلبہ ہوجائے تو یقیناً وہ حبشی بنیں گے۔ اپنے چہروں پر سیاہیاں پھیرں گے، اپنے ہونٹ موٹے کریں گے، اپنے بالوں میں حبشیوں کے سے گھونگھر پیدا کریں گے، ہر اس شے کی پوجا کرنے لگیں گے جو حبش سے ان کو پہنچے گی۔ ایسے غلاموں کی اسلام کو قطعاً ضرورت نہیں ہے، بخدا اگر کروڑوں کی مردم شماری میں سے ان سب منافقوں اور غلام فطرت لوگوں کے نام کٹ جائیں اور دنیا میں صرف چند ہزار وہ مسلمان رہ جائیں جن کی تعریف یہ ہو کہ ﴿وہ اللہ کے محبوب ہوں اور اللہ ان کا محبوب ہو، مسلمانوں کے لیے نرم اور کافروں کے لیے سخت ہوں، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہوں اور کسی ملامت کرنے والے کا انہیں خوف نہ ہو﴾﴿المائدہ84﴾تو اسلام اب سے بدرجہا زیادہ طاقتور ہوگا اور ان کروڑوں کا نکل جانا اس کے حق میں ایسا ہوگا جیسے کسی مریض کے جسم سے پیپ اور کچ لہو نکل جائے۔﴿اسلام جواں مردوں کاراستہ صفحہ نمبر3اور4﴾

 یہ شریعت بزدلوں اور نامردوں کے لیے نہیں اتری ے۔ نفس کے بندوں اور دنیا کے غلاموں کے لیے نہیں اتری ہے۔ ہوا کے رخ پر اڑنے والے خش و خاشاک، اور پانی کے بہاؤ پر بہنے والے حشرات الارض اور ہر رنگ میں رنگ جانے والے بے رنگوں کے لیے  نہیں اتری ہے۔ یہ ان بہادر شیروں کے لیے اتری ہے جو ہوا کا رخ بدل دینے کا عز م رکھتے ہوں، جو دریا کی روانی سے لڑنے اور اس کے بہاؤ کو پھر دینے کی ہمت رکھتے ہوں، جو صبغتہ اللہ کو دنیا کے ہر رنگ سے زیادہ محبوب رکھتے ہوں اور اسی رنگ میں تمام دنیا کو رنگ دینے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔﴿اسلام جواں مردوں کاراستہ صفحہ نمبر5﴾

 

مگر انقلاب یا ارتقائ ہمیشہ قوت ہی کے اثر سے رونما ہوا ہے، اور قوت ڈھل جانے کا نام نہیں ڈھال دینے کا نام ہے، مڑجانے کو قوت نہیں کہتے، موڑ دینے کو کہتے ہیں۔ دنیا میں کبھی نامردوں اور بزدلوں نے کوئی انقلاب پیدا نہیں کیا، جو لوگ اپنا کوئی اصول، کوئی مقصد حیات، کوئی نصب العین نہ رکھتے ہوں، جو بلند مقصد کے لیے قربانی دینے کا حوصلہ نہ رکھتے ہوں، جو خطرات ومشکلات کے مقابلہ کی ہمت نہ رکھتے ہوں، جن کو دنیا میں محض آسائش اور سہولت ہی مطلوب ہو، جو ہر سانچے میں ڈھل جانے اور ہر دباؤ سے دب جانے والے ہوں، ایسے لوگوں کا کوئی قابل ذکر کارنامہ انسانی تاریخ میں نہیں پایاجاتا۔ تاریخ بنانا صرف بہادر مردوں کا  کام ہے۔ انہی نے اپنے جہاد اور اپنی قربانیوں سے زندگی کے دریا کا رخ پھیرا ہے۔ دنیا کے خیالات بدلے ہیں۔ مناہج عمل میں انقلاب برپا کیا ہے۔زمانے کے رنگ میں رنگ جانے کے بجائے زمانے کو خود اپنے رنگ میں رنگ کر چھوڑا ہے۔﴿اسلام جواں مردوں کاراستہ صفحہ نمبر6اور7﴾

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: