Kashif Hafeez Siddiqui

فرانس کے لبرل طالبان

In Clsh of Civilizations on January 28, 2010 at 6:46 am

فرانس کے لبرل طالبان

anwer, sen, roy, bbc, urdu, london, انور سِن رائے

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

 

فرانس عورتوں کو یہ احساس دلانے میں ناکام رہا ہے کہ وہ چہرے پر نقاب ڈالے بغیر بھی محفوظ ہیں

فرانس میں ان عورتوں پر پابندی لگانے کی تجویز ہے جن کی تعداد ساڑھے چھ کروڑ کی آبادی میں صرف انیس سو ہے اور جو اپنی پسند کا لباس پہننے پر اصرار کرتی ہیں۔

پابندی لگانے والوں کو بھی ان کے سارے لباس پر نہیں صرف ان کے نقاب پر اعتراض ہے اور ان کا کہنا ہے کہ چہرہ چھپانا درست نہیں ہے۔

فرانس کی ایک پارلیمانی کمیٹی نے یہ تجویز دی ہے کہ ہسپتالوں، سکولوں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں نقاب پر پابندی لگا دی جائے اور جو اس پابندی کی خلاف ورزی کرے اس کے لیے فرانس میں رہائش اور شہریت کا حق ختم کر دیا جائے۔

بات ان انیس سو خواتین کی نہیں ہے جو چہرہ ڈھانپنے کو اپنی بنیادی آزادی اور لباس کا حصہ ہے۔

یہ پابندی کب لگے گی اور کیسی ہو گی یہ تو الگ بات ہے لیکن یہ بات ضرور ہے کہ فرانس ان انیس سو عورتوں کو یہ احساس دلانے میں ناکام رہا ہے کہ وہ چہرے پر نقاب ڈالے بغیر بھی اتنی ہی محفوظ ہیں جتنی کے وہ نقاب ڈال کر ہو سکتی ہیں۔

مزید یہ کہ حکومت مداخلت بے جا ہےکیونکہ مداخلت وہاں ہونی چاہیے جہاں مدد مانگی جائے۔

کہا یہ جا رہا ہے کہ مرد عورتوں کو نقاب ڈالنے یا پردہ کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ مگر اب تک ایک بھی عورت نے یہ شکایت نہیں کی۔

ایران اور افغانستان میں جو کام اسلام کے نام پر ہوا وہ فرانس میں ثقافت کے نام پر کیا جا رہا ہے

جب افغانستان میں طالبان نے عورتوں پر پابندیاں لگائیں تو اس کے خلاف پہلی آواز خود افغان عورتوں نے اٹھائی۔ بعد میں جب افغانستان پر امریکہ نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر حملہ کیا تو اسباب میں ایک سبب یہ بھی تھا۔

یہی صورت ایران میں ہوئی، حجاب اور چادر کے لیے حکومت کے دباؤ کے خلاف پہلا احتجاج ان عورتوں اور لڑکیوں نے ہی کیا جنہیں حجاب اور چادر پر مجبور کیا جا رہا تھا۔

اس میں سعودی عرب کا نام بھی آتا ہے۔ وہاں عورتوں نے اب تک خود پر ہونے والی مبینہ زیادتیوں کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھائی کہا جا سکتا ہے کہ وہاں زیادتی اس حد تک ہے کہ کوئی آواز تک نہیں اٹھاتا لیک تا حال یہ ایک مفروضہ ہی ہو گا۔

حجاب کے بعد نقاب کے معاملے پر فرانس میں ایک بار وہی صورتِ حال ہے جو افغانستان میں طالبان نے اور ایران میں آیت اللہ خمینی کے پیروکاروں نے پیدا کی۔

میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ نقاب اتروانے کے لیے ریاستی طاقت کا استعمال کرنے والوں کو برقعہ، چادر اور حجاب پہنانے کے لیے طاقت استعمال کرنے والوں سے الگ کیسے کیا جائے۔ وہ اگر اسلام کے نام پر کچھ کرتے ہیں تو یہ ثقافت کے نام پر کر رہے ہیں۔ وہ اگر اسلامی شدت پسند ہیں تو یہ لبرل شدت پسند۔

ظاہر ہے ہم اس پر کچھ نہیں کر سکتے لیکن فرانس کے زوال اور انفرادی آزادی کی موت پر گریہ تو کر ہی سکتے ہیں۔

  1. hijab har islami aurat ka haq hai

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: