Kashif Hafeez Siddiqui

ہودبھوئے کی اسلام بیزاری

In Clsh of Civilizations on April 4, 2010 at 11:24 am

شاہ نواز فاروقی

رویز ہود بھوئے پاکستان کے ان سیکولر دانش وروں میں سے ہیں جو اسلام اور علماءکی ”پُرجوش مخالفت“ کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ان کا یہ جوش و جذبہ بسا اوقات اتنا بڑھ جاتا ہے کہ وہ ٹھوس حقائق کو بھی خاطر میں نہیں لاتے۔ مثلاً انہوں نے ایک بار اپنے مضمون میں امام غزالیؒ کو ”ملاّ“ یا Cleric قرار دیا۔ حالانکہ غزالیؒ علم کا سمندر تھے اور ان کے بارے میں یہ روایت ملتی ہے کہ غزالی کے ایک ہم عصر نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا۔ خواب میں حضوراکرم کے ساتھ حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ بھی موجود تھے اور رسول اکرم حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ سے پوچھ رہے تھے کہ کیا آپ کی امتوں میں غزالیؒ جیسا عالم ہوا ہی؟ اور ان دونوں جلیل القدر انبیاءکا جواب تھا کہ ان کی امتوں میں غزالیؒ کے پائے کا کوئی عالم نہیں ہوا۔ لیکن پرویز ہود بھوئے کے سیکولر تعصب نے امام غزالیؒ کو گلی محلے کی مسجد کے مولوی کی سطح پر لاکھڑا کیا۔ تاہم سوال یہ ہے کہ اس گفتگوکا محل کیا ہی؟اس گفتگو کی وجہ یہ ہے کہ پرویزہود بھوئے نے اپنے حالیہ مضمون ”Re-inventing Pakistan” میں اسلام اور اس کی تاثیرکا مذاق اڑایا ہے اور کہا ہے کہ اسلام مختلف مسائل کی وجہ سے قابلِ عمل نہیں ہے۔پرویزہود بھوئے نے اسلام پر پہلا حملہ یہ کیا ہے کہ انہوں نے اسلام کو مجرد نظریہ یا Abstract Ideology قرار دیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ پاکستان کو اگر کامیاب ہونا ہے تو اسے ایک ”نارمل ریاست“ بننا ہوگا۔ اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے وجود کو مختلف مفادات سے منسلک و مربوط کرے نہ کہ مجرد نظریات سے۔ اس کا آسان ترجمہ یہ ہے کہ پاکستان کے اتحادکی بنیاد اسلام کے بجائے ملک کے چاروں صوبوں اور مختلف گروہوں کے سیاسی، معاشی اور لسانی مفادات کو ہونا چاہیے۔ تو پرویزہود بھوئے کے نزدیک اسلام ایک مجرد نظریہ ہی؟ مگر مجرد نظریے کا مفہوم کیا ہی؟یونان کے ممتاز فلسفی افلاطون نے اپنی مشہور زمانہ تصنیف جمہوریہ میں ایک مثالی ریاست کا خاکہ پیش کیا تھا، لیکن اس خاکے میں کبھی رنگ نہ بھرا جاسکا اور افلاطون کا تصور مجرد رہ گیا۔ افلاطون کی طرح سرتھامس مور نے بھی مثالی ریاست یوٹوپیا کا تصور پیش کیا لیکن یہ ریاست بھی کبھی وجود میں نہ آسکی، یہاں تک کہ اب یوٹوپیا کا لفظ خیالی ریاست کے لیے مخصوص ہوکر رہ گیا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو مجرد نظریے کا مطلب ایسا نظریہ ہے جس پرکبھی عمل نہ ہوا ہو۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو اِس وقت دنیا میں اسلامی عقائدکو ماننے اور ان پر عمل کرنے والوں کی تعداد ایک ارب 57 کروڑ ہے۔ اسلامی عبادات پر کروڑوں لوگ عمل کررہے ہیں اور جو لوگ عمل نہیں کررہے وہ بھی بہرحال عبادات کے قائل ہیں۔ یہی معاملہ اسلام کے اخلاقی تصورات کا ہے۔ ایک ارب 57 کروڑ مسلمان ان تصورات کو مانتے اور کروڑوں مسلمان ان پر عمل کرتے ہیں۔ جہاں تک اسلام کے قوانین کا تعلق ہے تو ان پر رسول اکرم کے زمانہ¿ مبارک سے آج تک کلی یا جزوی طور پر عمل ہورہا ہے۔ یہی نہیں، اسلام نے ایک زندہ تہذیب تخلیق کی ہے۔ ہزاروں علوم و فنون پیدا کیے ہیں۔ عظیم علمائ‘ شاعر‘ ادیب اور سائنسدان پیدا کیے ہیں۔ تاریخ کی عظیم سلطنتیں صدیوں تک اسلام کی بنیاد پر کام کرتی رہی ہیں۔ مگر اس کے باوجود پرویزہود بھوئے کا کہناہے کہ اسلام ایک مجرد نظریہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پرویزہود بھوئے نے اپنے مضمون میں پاکستان میں ہونے والے ایک ملک گیر سروے کی مثال دی ہے جس کے مطابق ملک کے نوجوانوں سے جب پوچھا گیا کہ وہ خودکو سب سے پہلے کیا تصورکرتے ہیں، مسلمان یا پاکستانی؟ تو 75 فیصد نوجوانوں نے کہاکہ وہ پہلے مسلمان ہیں اور بعد میں پاکستانی‘ صرف 14 فیصد نوجوانوں نے کہاکہ وہ پہلے پاکستانی ہیں اور بعد میں مسلمان۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو پرویزہود بھوئے صاحب کا مسئلہ یہ نظرآتا ہے کہ چونکہ وہ خود اسلام پر ایمان نہیں رکھتے اس لیے اُن کے لیے اسلام بہرحال ایک مجرد نظریہ ہی، مگر ان کی سیکولر زیادتی یہ ہے کہ وہ اپنے تجربے کو پورے پاکستان کیا پوری اسلامی تاریخ پر منطبق کردیتے ہیں۔ ظاہر ہے اس سے اسلام کا تو کچھ بگڑتا نہیں البتہ اس سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کے سیکولر لوگوں کا ذہن کتنا سطحی اور تعصب زدہ ہے۔ہودبھوئے صاحب نے اپنے مضمون میں ایک مسئلہ یہ پیدا کیا ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان میں اسلام نافذ کرو، مگر کس کا اسلام؟ سنّیوں کا اسلام یا شیعوں کا اسلام؟ حنفیوں کا اسلام یا شافعیوں کا اسلام؟ مالکیوں کا اسلام یا حنبلیوں کا اسلام؟ تجزیہ کیا جائے تو یہ ذہنوں کو مسموم اور شک آلودکرنے کا طریقہ ہے۔ ورنہ یہ سرے سے کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ اور اگر بالفرض مسئلہ ہے بھی تو اس کا حل واضح ہے۔ حیرت ہے کہ ہودبھوئے صاحب ویسے تو جمہوریت کے بڑے قائل ہیں مگر اسلام اور مسالک کے حوالے سے انہیںکچھ اورکیا جمہوریت بھی یاد نہیں آتی۔ لیکن مسئلے کا حل کیا ہی؟ مسئلے کا حل یہ ہے کہ جہاں جس کی اکثریت ہے اس کا مذہب اور اس کا فقہ چلے گا۔ ایران میں شیعوں کی اکثریت ہے وہاں شیعہ مذہب اور فقہ جعفریہ چلے گا۔ پاکستان میں سنیوں اور حنفیوں کی اکثریت ہے اس لیے یہاں سنیوں کی تعبیر اور حنفیوں کی توجیہہ چلے گی۔ دنیا کے جن ملکوں میں شافعی اور حنبلی اکثریت میں ہیں وہاں اُن کی فقہ کے مطابق فیصلے ہوں گے۔ہود بھوئے نے اسلام کے غیر مو¿ثر ہونے کی مثال دیتے ہوئے مشرقی پاکستان کا حوالہ دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر اسلام اور حکومت اور قوت کا استعمال مو¿ثر ہوتا تو مشرقی پاکستان ہم سے جدا نہ ہوتا۔ انہوں نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے دو اسباب بیان کیے ہیں: (1) ناانصافی اور (20 جمہوریت کی عدم موجودگی۔مشرقی پاکستان کی علیحدگی اسلامی تاریخ کے عظیم سانحات میں سے ایک ہے۔ لیکن یہ سانحہ اسلام کے غیر مو¿ثر ہونے کا نہیں اسلام سے بغاوت کا شاخسانہ تھا۔ اسلام سے ایسی بغاوت جس میں اسلام کو زبانی جمع خرچ اور لفاظی تک محدود کردیا گیا تھا۔ ورنہ اسلام کی قوت یہ تھی کہ مسلمانوں کے جداگانہ تشخص کی تحریک بنگال سے چلی جہاں سے اس کے چلنے کا امکان سب سے کم تھا۔ اس تحریک کو بھارت کے مسلم اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں نے سب سے زیادہ فروغ دیا، حالانکہ پاکستان کے قیام کی صورت میں انہیں کوئی ”فائدہ“ ہونے والا نہیں تھا، اور اسلام کی قوت یہ تھی کہ بنگال 54 فیصد آبادی رکھنے کے باوجود قومی وسائل سے صرف 50 فیصد حصہ وصول کرنے پرآمادہ ہوگیا۔ اسلام کی قوت یہ تھی کہ مغربی پاکستان کا حکمران طبقہ 24 سال تک مشرقی پاکستان کا بدترین استیصال کرتا رہا لیکن مشرقی پاکستان کے لوگ خاموشی کے ساتھ سب کچھ برداشت کرتے رہے۔ یہ ”جمہوری برداشت“ نہیں تھی، یہ ”اسلامی برداشت“ تھی، اس لیے کہ مشرقی پاکستان کے لوگوں کو جمہوریت کا تو تجربہ ہی نہیں تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ایک جانب ہودبھوئے کہتے ہیں کہ پاکستان کے 75 فیصد نوجوان خود کو پہلے مسلمان کہتے ہیں اور بعد میں کچھ اور۔ اس کے باوجود انہوں نے لکھا ہے کہ پاکستانیوں کا کوئی مشترکہ تشخص نہیں ہی، ان کی کوئی مشترکہ ذہنی ساخت نہیں ہی، ان کے پاس مشترکہ تاریخ کا شعور نہیں ہے اور نہ ہی ان کے سامنے مشترکہ مقاصد ہیں۔ غورکیا جائے تو اہلِ پاکستان کی ”اسلامیت“ ان تمام مسائل کا حل فراہم کردیتی ہے۔ اسلام مشترکہ تشخص بھی فراہم کرتا ہی، مشترکہ ذہنی ساخت بھی۔ اسلام مشترکہ تاریخ کا شعور بھی مہیا کرتا ہے اور 17 کروڑ لوگوں کے سامنے نہیں ایک ارب 57 کروڑ لوگوں کے سامنے مشترکہ مقاصد بھی رکھتا ہے۔ مگر ہود بھوئے اہلِ پاکستان کو اسلام ہی سے دور دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ پاکستان کے سیکولر ذہن کی ایک اور بوالعجبی ہے۔ کہنے والوں نے بالکل درست کہا ہی: سورج نصف النہار پر ہوتا ہے مگر نفرت سے آلودہ آنکھ اُسے دیکھنے اور اُس کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکارکردیتی ہے۔ ہودبھوئے کا مسئلہ یہی ہے۔ انہیں اسلام سے چڑ ہے اور انہیں اسلام میں کوئی خوبی ہی نظر نہیں آتی۔

Advertisements
  1. Hoodbhoy is basically anti religion and believes in rationalism.his analysis should be seen accordingly.this the issue of belief.He don’t belief in a God who interferes in public life with the divine principles.that’s it.

  2. this is not only hoodbhoee’s problom.few of our “roshan khayal” scholers r involved in this same desies. Any how mr.farooquee gave them propper madison, hope fully they fell relex after complition of peek plazma level.

  3. thats a great job udid.we should be one unit as a muslim first of all and thn as a pakistani and eradicate those who r undermimning our islamic ideology

  4. No way….he is doing right according to his beliefs and faith. He believes in science and senses,so he is by default bound and obliged to follow the commands of science and scientific analysis,while religion is quite different way of life and is not dependent on scientific principles and senses.Mark my words….rationalism is … based on facts told by our senses while religion is not bound to follow the input of senses and science..This IS nuclear difference of the two “ways of life” or “life styles”….for more details ….think and study and share:)

  5. one of our friend commented
    “i dont know how to tag hoodboy but i know religion is his personal matter and we should listen to his scientific views and judge it on the basis of science”
    my humble reply is:
    YES…we should analyze his scientific conclusions on scientific basis and his “scientific analysis” of religious thoughts be analyzed according to “religious foundations”.off course priority according to the ultimate salvation….if science can lead us to “eternal peace” and “prosperity” and “Nijat” then science should kick religion out….otherwise no choice to show the scientific thoughts their real status in the real perspective of LIFE 🙂

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: