Kashif Hafeez Siddiqui

ڈاکٹر اسرار کی موت کا نقصان- شاہ نواز فاروقی

In pakistan, Uncategorized on April 24, 2010 at 10:49 am

شاہ نواز فاروقی

ممتاز عالم دین ڈاکٹر اسرار احمد گزشتہ دنوں لاہور میں انتقال کرگئے۔ اناللہ وانا الیہ راجون۔ ان کی عمر 78 سال تھی۔ ہماری تہذیب میں عالم ِکی موت کو عالَم کی موت کہاگیاہے۔ اس کی وجہ ہے۔ عالَم کا اعتبار عالمِ کے دم سے ہے۔ عالم جس چیز کو اچھا کہے وہ اچھی ہے۔ عالم جس چیز کو برا کہے وہ بری ہے۔ یہاں تک کہ عالم چیزوں کے غائب اور موجود ہونے کا بھی فیصلہ کرتا ہے۔ دنیا میں ایسے بہت سے لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے اس حاضر و موجود دنیا کو بھی دلائل کی بنیاد پر ناموجود قرار دیا ہے اور لاکھوں لوگوں نے ان کے دلائل پر اعتبار کیا ہے۔

ڈاکٹر اسرار ان معنوں میں عالم دین نہیں تھے جن معنوں میں ہم مولانا اسرف علی تھانویؒ‘ مولانا مودودیؒ یا مولاناامین احسن اصلاحیؒ کو عالم دین کہتے ہیں۔ یعنی ڈاکٹر صاحب کی اپنی کوئی انفرادی فکر نہیں تھی لیکن جس طرح خوشبو کا کاروبار کرنے والے خوشبو میں بس جاتے ہیں اسی طرح عالموں سے بڑے پیمانے پر استفار کرنے والے بھی عالم بن جاتے ہیں۔دیکھا جائے تو ڈاکٹر صاحب کی کئی حیثیتیں تھیں۔ وہ عالم تھے۔ تنظیم اسلامی کے بانی تھے۔ انجمن خدام القرآن کے موسس تھے۔ لیکن ڈاکٹر صاحب کی اصل حیثیت مدرس کی تھی۔ بلاشبہ وہ پاکستان ہی کے نہیں پورے برصغیر کے سب سے اچھے مدرس تھے۔ ان کے درس قرآن میں جو بات تھی وہ کسی اور کے درس قرآن میں نہیں تھی۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ڈاکٹر صاحب کی موت کی صورت میں برصغیر اپنے سب سے اچھے مدرس سے محروم ہوگیا ہے

۔ڈاکٹر صاحب کی شہرت کی ابتداءمیں ٹی وی پر ان کے پروگرام الہدیٰ سے ہوئی۔ پی ٹی وی پر مذہبی پروگراموں کا معیار پست تھا اور یہ حکمرانوں کی پالیسی کے عین مطابق تھا۔ پی ٹی وی میں تقریباً طے تھا کہ سینٹر کا سب سے نااہل پروڈیوسر مذہبی پروگرام کرے گا۔ لیکن ڈاکٹر صاحب کے پروگرام نے دیکھتے ہی دیکھتے زبردست مقبولیت حاصل کرلی۔ کسی اور شہر کے بارے میں تو ہمیں معلوم نہیں لیکن جس رات ڈاکٹر صاحب کا پروگرام نشر ہوتا تھا کراچی کی گلیوں میں آمدورفت کم ہوجاتی تھی۔ الہدیٰ کی ساخت یا Format میں کوئی خاص بات نہیں تھی جو بات تھی ڈاکٹر صاحب کے درس قرآن کے انداز میں تھی۔ پی ٹی وی پر نہ اس سے پہلے اتنا مقبول اور موثرمذہبی پروگرام ہوا تھا نہ اس کے بعد ہی کسی مذہبی پروگرام کو ایسی مقبولیت حاصل ہوئی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے درس قرآن میں ایسی کیا خاص بات تھی؟ڈاکٹر صاحب کو مولانا مودودیؒ کی فکر سے اختلاف ہوگا لیکن ڈاکٹر صاحب کے درس قرآن پر مولانا مودودیؒ کی فکر اور اسلوب کا اتنا گہرا اثر تھا کہ اسے الگ کرکے ڈاکٹر صاحب کے درس قرآن کو سمجھا ہی نہیں جاسکتا۔

مولانا مودودیؒ کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے علم کی عظمت اور وقار کو کم کیے بغیر اسے عوامی بنادیا۔ ڈاکٹر اسرار کے درس قرآن میں بلاشبہ ایک علمی شان ہوتی تھی لیکن ان کے درس قرآن کا معاملہ میر تقی میر کے الفاظ میں یہ تھا۔ شعر میرے ہیں گو خواص پسند پر مجھے گفتگو عوام سے ہی اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے درس میں جو علم تھا اس کا اظہار علم کے اظہار کے طور پر نہیں ابلاغ کے طور پر تھا۔ یعنی ان کے یہاں علم کے اظہار سے زیادہ اس کے ابلاغ پر زور تھا۔ بلاشبہ یہ وصف مولانا مودودیؒ کی فکر اور تحریروں سے ماخوذ تھا۔ مگر فرق یہ تھا کہ مولانا کے لیے جو چیز ”تحریر“ تھی وہی ڈاکٹرصاحب کے یہاں ”تقریر“ تھی۔ تحریر کو تقریر بنانا آسان نہیں یہ خوبی صرف عالم باعمل کے یہاں پیدا ہوتی ہے

۔ڈاکٹر صاحب کے یہاں نظام کی تبدیلی کا تصور ایک مستقل تصور کی حیثیت رکھتا ہے اوریہ چیز بیک وقت اقبالؒ اور مولانا مودودیؒ سے ماخوذ ہے۔ لیکن اس تصور سے ڈاکٹر صاحب کے درس میں ایک انقلابی شان پیدا ہوجاتی تھی جو انہیں اپنے عصر کے تمام مدرسین سے ممتاز کرتی تھی۔ اس تصور کے گفتگو میں در آنے سے قدیم و جدیدکی تمام بحثیں ازخود بحث کا حصہ بن جاتی ہیں اور اس سے گفتگو کی جاذبیت میں غیرمعمولی اضافہ ہوجاتا ہے۔ لیکن اس تصور کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے گفتگو متعلق یا Relevent محسوس ہوتی ہے۔ ہمارے بہت سے روایتی علماءکا علم ایسا ہے کہ آدمی اسے دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے اور سوچتا ہے کہ کیا کسی انسان کے پاس اتنا علم بھی ہوسکتا ہے مگر افسوس کے اس علم کا بڑا حصہ قابل فہم‘ متعلق یا Relevent محسوس نہیں ہوتا۔ اقبال اور مولانا مودودیؒ کی فکر کی طرح ڈاکٹر صاحب کا درس ہمیشہ متعلق یا Releventمحسوس ہوتا ہے۔ڈاکٹر صاحب کی خطابت میں ایک روانی اور برجستگی ہے۔ ایسی روانی اور برجستگی تین چیزوں سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کا پست درجہ یہ ہے کہ انسان زبان پر گرفت حاصل کرلیتا ہے اور صرف زبان کی قوت سے کلام کرتا ہے۔ ہمارے بہت سے خطیب اس قوت سے کام لیتے ہوئے خطاب کرتے ہیں۔ مگر ایسی خطابت میں معنی کم ہوتے ہیں۔

خطابت کا دوسرا اور نسبتاً بلند درجہ یہ ہے کہ گفتگو کرنے والا جذبات کی شدت کو استعمال کرتا ہے۔ اکثر شعلہ بیان مقررین جذبات کو استعمال کرنے کی وجہ سے ہی شعلہ بیان بنتے ہیں مگر بات کرنے کے اس انداز میں سطحیت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی خطابت میں جو روانی اور برجستگی تھی اس کا انحصار اپنے مواد کی بہترین تفہیم پر ہوتا ہے

۔ ڈاکٹر صاحب نے ساری زندگی جو کچھ پڑھا تھا اسے سمجھا بھی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں خطیب اور خطابت کے درمیان کبھی دوری پیدا ہوتے نہیں دیکھی گئی۔ خطابت کا یہ اسلوب بھی ڈاکٹر صاحب کی مقبولیت کا ایک سبب ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی موت سے ہم سب کا کتنا بڑا نقصان ہوگیا ہے۔

Advertisements
  1. three was a great loss for islam
    may Almighty Allah keeps him in His shelter and bless. Aameen

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: