Kashif Hafeez Siddiqui

نئے دو قومی نظریے کی ضرورت

In pakistan on June 8, 2010 at 5:52 am

By Pareshan Gull

وہ سادہ لوح پاکستانی جو درسی کتابوں میں ناقابلِ تسخیر ملکی دفاع اور دشمنوں کے دانت کٹھے کرنے کے مظاہروں پر مشتمل ایمان افروز قصے پڑھ پڑھ کر پاکستان کے دفاع کو واقع سیسہ پلائی ہوئی دیوار سمجھنے لگے تھے اب قبائلی علاقوں پر امریکی ڈرونز کے پے در پے حملوں پر نہایت غصے میں بھرے بیٹھے ہیں اور انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ وہ جری فوج جو دشمن کی ذرہ بھر جارحیت کا نصابی کتابوں میں منہ توڑ جواب دیا کرتی تھی برستے میزائلوں کی بارش میں بھی اب ٹس سے مس کیوں نہیں ہو رہی۔ نسیم حجازی کے جوش آور ناولوں میں زندہ رہنے والے یہ بے چارے پاکستانی اتنا نہیں جانتے کہ دورِ جدید میں زمینی تقاضوں کے بدلنے سے اندازِ دفاع میں بھی بنیادی تبدیلیاں آئی ہیں چناچہ اب خالد کی تلواریاٹیپو کی للکاربننے کی بجائے امریکہ کا حاشیہ بردارہو جانازیادہ فائدے کا سودا ہے۔

ضروریات جدیدہ سے نابلد یہ بے چارے نئی رت کے اس پیغام کو سمجھ نہیں پارہے کہ ملکی خود مختاری کا وہ فرسودہ تصور جو صدیوں سے اقوامِ عالم کے درمیان کشت و خون کی وجہ تھا اب کم از کم پاکستان نے اس سے جان چھڑا کر اہنسا کی وہ پر امن راہ اختیار کی ہے کہ سابقہ تما م نظریات کوباطل ثابت کر دیا ہے۔ پاکستان کے خلاق دفاع کاروں کے وضع کردہ اس انوکھے نظریہ خود مختاری کے مطابق ڈرون حملوں ، غیر ملکی ایجنسیوں کی آزادانہ خرمستیوں اور طاقتور استعمار کے آگے ناک رگڑنے سے کسی ملک کی خود مختاری پر کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ جدت طرازی کے اس نادر نمونے کا خلاصہ یہ ہے کہ جب تک پاکستان کے محترم حکمرا ن عوام کو بے وقوف بنانے کے اپنے دیرینہ شغل میں آزاد ہیں ، جب تک ان کی بد عنوانی و اقربا پروری پر کسی کو انگلی اٹھانے کی اجازت نہیں ، جب تک ان کی شراب و کباب کی محفلوں پر قدغن لگانے والا کوئی نہیں پاکستان خود مختار ہے چاہے اس کے درو دیوار ڈرون حملوں سے لرزتے رہیں، چاہے اس کے کوچہ و بازارغیر ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں بم دھماکوں کا تختہ مشق بنے رہیں اور چاہے وہ عالمی استعمار کے ہاتھوں کٹھ پتلی کی طرح ناچ ناچ کر پاگل ہوتا رہے۔
ہم یہ تو نہیں جانتے کہ پاکستان کے کس شتر مرغ نے امریکی آندھی سے ڈر کر اس نئے نظریے کی ریت میں سب سے پہلے اپنا سر چھپانے کی کوشش کی لیکن اتنا بحرحال اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ مشرف دور کا تحفہ ہے کہ ایسی منفرد اختراعات اسی کے دور میں جنم لے سکتی تھیں۔مشرف اور اس کے قابل مشیر اس کبوتر سے یقیناََ زیادہ ذہین تھے جو بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے کہ وہ صرف آنکھیں ہی بند کرنے کے ہی قائل نہ تھے بلکہ جارح بلی سے مل کر اپنے ہم نسلوں کا قتلِ عام کروا کے اپنی کھال بچانے کے سنہری اصول پربھی کار فرما تھے۔حکومتِ موجودہ نے نہ صرف مشرف سے ورثے میں ملنے والے اس انوکھے نظریہ خودمختاری کا دل و جاں سے تحفظ کیا ہے بلکہ اس کی تابانی کو چار چاند لگانے کے لیے دن رات ایک کر دیے ہیں۔ مشرف کی آمریت میں ہماری خودمختاری کی نمائش کے لیے امریکا اگر ایک ماہ میں چار حملے کرتا تھا تو اب دورِ جمہوریت کی برکت سے یہی تعداد چالیس تک جا پہنچی ہے۔ہماری خودمختاری کی عالمی سطح پر تشہیر کے بعد بھی ہمیں حیرت ہے کہ ہمارے وزرائے کرام کو جانے کس کو سنانے کے لیے وقتاََ فوقتاََ یہ بیان داغنے پڑتے ہیں کہ پاکستان کی خودمختاری پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔ پاکستان کی خودمختاری اب مجذوبیت کے اس ارفع مقام تک جاپہنچی ہے جہاں واقع ساری دنیا بھی اگر چاہے تو اسے آنچ نہیں دے سکتی اس لیے ہم نہیں سمجھتے کہ ہمارے معزز وزرا کو اس موضع پر اپنا زورِ بیان صرف کرنے کی ضرورت ہے۔
ڈرون حملوں میں جاں بحق ہونے والے مظلو موں کے بارے میں ہمارا قیاس یہ ہے کہ یہ کسی دوسری دنیا کے باشندے ہیں کیونکہ اگر ان کا اس دیس سے تعلق ہوتا تو ’ ہم ایک ہیں ‘ کی دھنوں پر تھرکنے والے وہ عوام جو ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں چند روپوں کے اضافے پر یا بجلی کی چند گھنٹے عدم دستیابی پرسٹرکوں پر نکل سکتے ہیں ان بے چاروں پر ہر روز اترنی والی آگ و آہن کی بارش پر بے حسی کی چادر تانے یوں بے نیاز نظر نہ آتے۔ ہماری احیائے نو پانے والی عدلیہ جو کسی معمولی زیادتی پر بھی سو موٹو ایکشن لینے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہے ڈرون حملوں میں بے نام پاکستانیوں کے قتلِ عام پر لب کھولتے ہوئے اس بے چاری کے بھی پر جلتے ہیں چناچہ اس نے یہ کہہ کر کہ قبائلی علاقے اس کے دائرہِ اختیار میں نہیں آتے سارے جھنجٹوں سے جان چھٹر ا لی ہے ۔ ہمیں حیرت ہے کہ سوات میں فلمائی گئی کوڑوں والی جعلی ویڈیو پر تو ہماری عدلیہ کے سو موٹو کا ہتھیار فوراََ حرکت میں آ جاتا ہے لیکن صیہونی حملوں میں مارے جانے والے سینکٹروں بے گناہوں کے خونِ نا حق پر اس کے احساسِ عدل میں کوئی ابال نہیں آتا!!
ہمارے میڈیا کا غالب حصہ بھی، ماسوائے چند باضمیر اردو روزناموں کے ، ہر ڈرون حملے پر یوں انہونی خوشی کا اظہار کرتا ہے جیسے اس کی کامیابی پر حملہ کروانے والے جاسوسوں کے ساتھ ساتھ اس پر بھی ڈالروں کے انعام کی بارش ہو گی۔انگریزی روزناموں اور چینلز کا تو ذکر ہی کیا کہ یہ بے چارے تو دل وجان کا مغرب سے کب کا سودا کر چکے اب تو متعدد اردو روزنامے اور ٹی۔وی چینلز بھی ڈرون سے فائر کیے گئے میزائلوں کے گرنے سے پہلے ہی یہ جانتے ہیں کہ اس میں دہشت گرد ہلاک ہوں گے۔ یہ دہشت گرد شیر خوار بچے بھی ہو سکتے ہیں، پردہ نشیں عورتیں بھی ہو سکتی ہیں اور ضعیف العمر بوڑھے بھی ۔جس طرح حملہ آورامریکی ڈرونزسے ہمارے میڈیا کی رو حانی وابستگی ان پر بر وقت یہ الہام نازل کر دیتی ہے کہ اس حملے کا نشانہ صرف دہشت گرد ہی بنیں گے اسی طرح انہیں یہ بھی فوراََ پتہ چل جاتا ہے کہ نشانہ اجل بننے والوں میں متعدد غیر ملکی بھی ہوں گے۔شاید حکمرانوں کی دیکھا دیکھی اب ہمارے میڈیا نے بھی تاریخ سے یہ سبق سیکھ لیا ہے کہ امریکہ کے تلوے چاٹنے سے ہی معدے میں وہ خوشگوار اثرات پیدا ہوتے ہیں جس سے صحت دن دگنی ترقی کرسکتیہے۔
پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے نام پر کام کرنے والے مفاد پرستوں کے وہ ٹولے جن کی پاکستانیت عموماَََ ا فیون زدگی کی حالت میں اونگھتی رہتی ہیں اور صرف انتخابات کا قرب ہی ان کے مجہول جسموں میں زندگی کی لہر دوڑا پاتا ہے قومی اہمیت کے تمام معاملات سے چشم پوشی کرنے میں خاص ملکہرکھتے ہیں۔ حصولِ اقتدار کے لیے پاکستانی عوام سے نت نئے ڈرامے رچانے والی ہماری تمام سیاسی جماعتوں نے پاکستان کی خومختاری کے اس ڈرونی تماشے پر جس بے مثل بے حسی کا مظاہرہ کیا ہے وہ ان کی پاکستان اور پاکستانیوں سے محبتکامنہ بولتا ثبوت ہے۔امریکا کو اپنا ملجاو ماوا ماننے والے ہمارے نام نہاد سیاست دان ڈرون حملوں کے خلافبولنے کی سکت کچھ اس وجہ سے بھی نہیں رکھتے کہ ڈرون حملے کرنے والے ہی تو ان کی تقدیروں کے فیصلے کرتے ہیں ۔ چناچہ اپنے آقاؤں کے خلاف بول کر یہ سیاست کے کالے پانی جانے کی حماقت بھلا کس طرح کر سکتے ہیں!! لے دے کہ ہمارے پاس تحریکِ انصاف یا جماعتِ اسلامی کی کمزور آوازیں رہ جاتی ہیں جن سے کم از کم دنیا کے سامنے یہ ڈھکوسلا تو بنا رہتا ہے کہ پاکستانیوں کی زندہ لاشوں میں ابھی غیرت کی ہلکی سی رمق باقی ہے۔
علمِ سیاست کے تمام مفکرین یک زبان ہیں کہ فرد کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی ان بنیادی ذمہ داریوں میں سے ایک ہے جس میں ناکامی پر ریاست فرد سے وفاداری کا استحقاق کھو دیتی ہے۔پاکستانی ریاست چونکہ دنیا کی ایک انوکھی مثال ہے اس لیے اس پر سیاسیات کے یہ عام نظریے تو لاگو نہیں کیے جا سکتے لیکن ا تنا بحر حال واضح ہے کہ پاکستان کے حکومتی و انتظامی ادروں سمیت عوام نے پاکستانی ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے ۔ ایک وہ عام پاکستان جس میں ہماری بے حسی اور ہمارے حکمرانوں کی عیاشیوں اور مسخرے پن کے تحفظ کے لیے ہماری پاک فوج ہر دم چوکس رہتی ہے اور دوسرا وہ قبائلی پاکستان جس کی فضائیں امریکی میزائلوں کے حملوں سے لرزیدہ رہتی ہیں اور جو عملی طور پر امریکی استعماریت کے مشقِ ستم کا نشانہ بننے کے لیے ہم نے اس کے حوالے کر دیا ہے۔ ہمارے رویے ان دو پاکستانوں کے بارے میں حیران کن حد تک جدا جدا ہیں۔ پہلے پاکستان میں چبھنے والے کانٹے کی کسک ہماری حکومت سے لے کر عوام تک اور فوج سے لے کرعدلیہ تک ہر کوئی اپنے قلب میں محسوس کرتا ہے لیکن دوسرے پاکستان کے خا ک و خون میں لت پت در و بام ہماری وطنیت کے تاروں کو چھیڑنے میں جانے کیوں ہمیشہ ناکام رہتے ہیں!!  اگر خاکم بدہن امریکا کے ڈرون اسلام آباد یا لا ہور پر میزائلوں کی ویسی ہی بارش کرتے جیسی وہ آئے روز قبائلی علاقوں میں کرتے رہتے ہیں تو کیا ہم اس جارحیت پر بے حسی کا یہی لحاف اوڑھ کر ایسے ہی اونگھتے رہتے ؟ اس سوال کا یقینی نفی میں جواب ہی ہمیں بتا تا ہے کہ ہم پاکستانی ایک نہیں ہیں ۔اپنے ہی ملک کے دو حصوں کے بارے میں ہمارے رویوں میں یہ تضاد ثابت کرتا ہے کہ اتحاد و یک جہتی کی تمام باتیں صرف من گھڑت ا فسانے ہیں ۔ہندوستان کے مسلمانوں کو ہندؤں کی چیرہ دستیوں سے بچانے کے لیے دو قومی نظریہ دیا گیا تھااب پاکستانیوں کو پاکستانیوں کی سنگدلانہ بے حسی سے بچانے کے لیے کسی نئے دو قومی نظریے کی ضرورت ہے۔
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: