Kashif Hafeez Siddiqui

ذوالفقار علی بھٹو کا جرات مند کردار

In Anti Ahmadiies on June 10, 2010 at 4:46 am

اللہ رب العالمین پر ایمان اور اس سے محبت کسی کی میراث نہیں حبہّ وجبّہ، امامہ ودستار حُبّ رسول کی علامت وپہچان تو رہی مگر معیار نہیں بنی۔ قادیانیوں کو کافر اور غیرمسلم قرار دے کر پورے عالم میں اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے واضح کر دینے کا سہرا بلاشبہ سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کے سر ہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قادیانی مسئلے پر بھٹو صاحب نے ایک سفر طے کیا۔ وہ کئی مراحل سے گزرے، انھوں نے کئی فکری گھاٹیاں عبور کیں، تفکرات کی وادی کا ایک سفر کر آئے، عقلی نشیب وفراز سے گزرے، دلیل کے کٹہرے میں خود کو کھڑا کیا۔ ایمان کی منازل طے کیں اور پھر ۷ ستمبر ۴۷۹۱ءکو پاکستان کی پارلیمنٹ نے ایک تاریخی فیصلہ سنایا۔ جس کے لیے یہ پارلیمنٹ حد درجہ قابل ستائش ہے۔

ایوان میں قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دینے کی تاریخ ساز قرار داد ۰۳ جون ۴۷۹۱ءکو پیش کی گئی۔ پروفیسر غفور احمد بتاتے ہیں کہ ابتدا میں قرارداد پیش ہونے پر پیپلز پارٹی کے بعض ارکان حزبِ اختلاف سے خفا تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ علماءحضرات ہر ایک کو کافر کہنے میں مستعد رہتے ہیں مگر یہاں حزبِ اختلاف نے تدبر سے کام لیا اور علمی و عقلی دلائل کے ساتھ پیپلز پارٹی کے اراکین کے سامنے ثبوت رکھے۔ ان کو بتایا کہ بنیادی طور پر تو قادیانی مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں اور یہ بات جو بعد میں مرزا ناصر احمد اور لاہوری گروپ کے ارکان کی جرح کے دوران ثابت بھی ہو گئی۔

ابتدا میں بھٹو صاحب کا کہنا تھا کہ اس قرارداد کے منظور ہونے سے پاکستان پیپلز پارٹی بہت بدنام ہو گئی۔ لوگ پیپلز پارٹی کو ایک سیکولر پارٹی سمجھتے ہیں۔ ان سے کہا گیا کہ اگر کچھ لوگ اس طرح کی باتیں کرتے بھی ہیں تو آپ کو اس کی پروا نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہ بات پیپلز پارٹی کے منشور میں شامل ہے کہ اسلام ہمارا دین ہے۔ بھٹو صاحب بہرحال قائل ہو گئے۔

بھٹو صاحب نے یہ قرارداد اسمبلی سے باہر اپنی جماعت کے اراکین کے سامنے رکھی۔ ان کی پارٹی کے اراکین جے اے رحیم اور شیخ رشید نے اس کی بہت مخالفت کی۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ قرارداد اسمبلی سے پاس ہو مگر بھٹو صاحب نے کہا کہ یہ اسلام کی بات ہے مذہب کا معاملہ ہے، پیپلز پارٹی اس کی مخالفت نہیں کرے گی۔

”کرنل رفیع الدین اڈیالہ جیل میں بھٹو صاحب کی ایامِ اسیری کے دوران صرف ان کے سیکورٹی انچارج نہیں بلکہ ان کی تنہائیوں کے رفیق بھی تھے انھوں نے ”بھٹو کے آخری ۳۲۳ دن“ کے نام سے ایک کتاب بھی تحریر کی ہے انھوں نے لکھا ہے کہ”احمدیہ مسئلہ، ایک ایسا مسئلہ تھا جس پر بھٹو صاحب نے کئی بار کچھ نہ کہا، ایک بار کہنے لگے”رفیع! قادیانی چاہتے ہیں کہ انھیں پاکستان میں وہی مقام ملے جو امریکہ میں یہودیوں کو حاصل ہے یعنی ہمارا ہر چینل، ہر پالیسی، ان کی منظوری سے ہو“ پھر ایک روز کہنے لگے ان کے اعتقادات کو دیکھا جائے تو یہ حضرت محمد کو آخری نبی نہیں مانتے، اب یہ مجھ کو خود کو غیرمسلم قرار دینے کا ذمہ دار کہتے ہیں تو کوئی بات نہیں میں ایک گناہ گار آدمی ہوں۔ کیا معلوم یہ عمل میرے گناہوں کا ازالہ بن جائے اور اللہ اس نیک کام کے بدلے میرے گناہ معاف کردے۔

اب آئیے ۷ ستمبر ۴۷۹۱ءکے اس تاریخی دن کی طرف جس دن قادیانی غیرمسلم قرار پاتے۔ اس دن وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے ایک تاریخی تقریر کی۔ اس وقت مکمل تقریر نقل کرنا تو ممکن نہیں مگر جستہ جستہ حصے آپ کی دلچسپی کے لیے حاضرِ خدمت ہے:

جنابِ صدر! میں جب یہ کہتا ہوں کہ یہ فیصلہ پورے ایوان کا فیصلہ ہے تو اس سے میرا مقصد یہ نہیں کہ میں کوئی سیاسی مفاد حاصل کرنے کے لیے اس بات پر زور دے رہا ہوں۔ ہم نے اس مسئلے پر ایوان کے تمام ممبران سے تفصیلی طور پر تبادلہ خیال کیا ہے جن میں تمام پارٹیوں اور ہر طبقہ خیال کے نمائندے موجود تھے۔ آج کے روز جو فیصلہ ہوا ہے یہ ایک قومی فیصلہ ہے۔ پاکستان کے عوام کا فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کے ارادے، خواہشات اور ان کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ فقط حکومت ہی اس فیصلے کی تحسین پائے اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ کوئی ایک فرد اس فیصلے کی تعریف و تحسین کا حقدار بنے۔ میرا کہنا یہ ہے کہ یہ مشکل فیصلہ ہے بلکہ میری ناچیز رائے میں کئی پہلوﺅں سے بہت ہی مشکل فیصلہ جمہوری اداروں اور جمہوری حکومت کے بغیر نہیں کیا جاسکتا تھا۔

یہ ایک پرانا مسئلہ ہے، نوے سال پرانا مسئلہ ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہوتا چلا گیا۔ اس سے ہمارے معاشرے میں تلخیاں اور تفرقے پیدا ہوئے لیکن آج کے دن تک اس مسئلے کا کوئی حل تلاش نہیں کیا جاسکا ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ مسئلہ ماضی میں بھی پیدا ہوا تھا، ایک بار نہیں بلکہ کئی بار۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ ماضی میں اس مسئلہ پر جس طرح قابو پایا گیا اُسی طرح اب کی بار بھی ویسے ہی اقدامات سے اس مسئلہ پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس سے پہلے اس مسئلے کے حل کے لیے کیا کچھ کیا گیا لیکن مجھے معلوم ہو کہ ۳۵۹۱ءمیں کیا ہوا تھا۔ ۳۵۹۱ءمیں اس مسئلے کے حل کے لیے طاقت کا وحشیانہ طور پر استعمال کیا گیا تھا جو اس مسئلے کا حل تھا۔

جنابِ اسپیکر! ہماری موجودہ مساعی کا مقصد یہ رہا ہے کہ اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کیا جائے اور میں آپ کو یقین دلا سکتا ہوں کہ ہم نے درست اور صحیح سمت اور حل تلاش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یہ درست ہے کہ لوگوں کے جذبات، مشتعل ہوئے، غیرمعمولی احساسات ابھرے، قانون اور امن کا مسئلہ بھی پیدا ہوا، جائیداد اور جانوں کا اتلاف ہوا۔ پریشانی کے لمحات بھی آئے تمام قوم گزشتہ تین ماہ سے تشویش کے عالم میں رہی اور اس پر کشمکش اور بیم و رجا کے عالم میں رہی لیکن میں اجازت چاہتا ہوں کہ اس معزز ایوان کی توجہ اس تقریر کی طرف دلاﺅں جو میں نے قوم سے مخاطب ہوتے ہوئے ۳۱ جون کو کی تھی۔ اس تقریر میں مَیں نے پاکستان کے عوام سے واضح طور پر کہا تھا کہ یہ مسئلہ بنیادی طور پر اور اصولی طریقے سے مذہبی مسئلہ ہے۔ پاکستان کی بنیاد اسلام پر ہے۔ پاکستان مسلمانوں کے لیے وجود میں آیا تھا اگر کوئی ایسا فیصلہ کر لیا جاتا جسے اس ملک کے مسلمانوں کی اکثریت اسلام کی تعلیمات اور اعتقادات کی خلاف سمجھتی ہو تو اس سے پاکستان کے بنانے کی وجوہات اور تصور کو ٹھیس لگنے کا اندیشہ تھا۔ چونکہ یہ مسئلہ خالص مذہبی مسئلہ تھا، اس لیے میری حکومت کے لیے یا کسی ایک فرد کے لیے ان کی حیثیت میں مناسب نہ تھا کہ اس پر ۳۱ جون کو ہی کوئی فیصلہ دیا جاتا۔

لاہور میں مجھے کئی لوگ ایسے ملے جنہوں نے کہا کہ آپ آج ہی، ابھی اور یہیں اعلان کر دیں مگر میں نے ان اصحاب سے کہا کہ پاکستان کی ایک قومی اسمبلی موجود ہے جو ملکی مسائل پر بحث کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ میری ناچیز رائے میں اس مسئلے کے حل کے لیے یہی مناسب جگہ ہے۔

جنابِ والا! اکثریتی پارٹی کے رہنما کی حیثیت سے میں نے قومی اسمبلی کے ممبروں پر کسی طرح کا دباﺅ نہیں ڈالا۔ میں یہ مسئلہ قومی اسمبلی کے ممبران کے ضمیر پر چھوڑتا ہوں اور ان میں پارٹی کے ممبر بھی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے ممبران اس بات کی تصدیق کریں گے کہ جہاں میں نے کئی بار بلا کر پارٹی کے موقف سے آگاہ کیا، وہاں اس مسئلہ پر میں نے اپنی پارٹی کے ایک ممبر پر بھی اثرانداز ہونے کی کوشش نہیں کی، سوائے ایک موقع پر جب اس مسئلہ پر کھلی بحث ہوئی تھی۔

جنابِ اسپیکر! میں آپ کو یہ بتانا مناسب نہیں سمجھتا کہ اس مسئلہ کے باعث اکثر میں پریشان رہا اور راتوں کو مجھے نیند نہیں آئی۔ اس مسئلہ پر جو فیصلہ ہوا مَیں اس کے نتائج سے واقف ہوں۔ مجھے اس فیصلے کے سیاسی اور معاشی ردِعمل اور اس کی پیچیدگیوں کا علم ہے جس کا اثر مملکت کے تحفظ پر ہو سکتا ہے۔ یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن جیسا کہ میں نے پہلے کہا پاکستان وہ ملک ہے جو برصغیر کے مسلمانوں کو اس خواہش پر وجود میں آیا تھا کہ وہ اپنے لیے ایک علیحدہ مملکت چاہتے تھے، اس ملک کے باشندوں کی اکثریت کا مذہب اسلام ہے۔ میں اس فیصلے کو جمہوری طریقے سے نافذ کرنے میں اپنے کسی بھی اصول کی خلاف ورزی نہیں کر رہا۔ پیپلز پارٹی کا پہلا اصول ہے اسلام ہمارا دین ہے۔ اسلام کی خدمت ہماری پارٹی کے لیے اولین اہمیت رکھتی ہے۔ ہمارا دوسرا اصول ہے جمہوریت ہماری پالیسی ہے۔ چنانچہ ہمارے لیے فقط یہی درست راستہ تھا کہ ہم اس مسئلہ کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیش کرتے۔ اس کے ساتھ ہی میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان کی معیشت کی بنیاد سوشلزم پر ہے۔ ہم سوشلسٹ اصولوں سے انحراف نہیں کرتے۔ ہم اپنی پارٹی کے تینوں اصولوں پر مکمل طور پر پابند رہے ہیں۔

یہ فیصلہ مذہبی بھی ہے اور غیرمذہبی بھی۔ مذہبی اس لحاظ سے کہ یہ فیصلہ ان مسلمانوں کو متاثر کرتا ہے جو پاکستان میں اکثریت میں ہے اور غیرمذہبی اس لحاظ سے کہ ہم دورِ جدید میں رہتے ہیں۔ ہمارا آئین کسی مذہب و آئین کے خلاف نہیں بلکہ ہم نے پاکستان کے تمام شہریوں کو یکساں حقوق دیے ہیں۔ میری حکومت کے لیے اب یہ بات بہت اہم ہو گئی ہے کہ وہ پاکستان کے تمام شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرے۔ یہ نہایت ضروری ہے کہ اور میں اس بات میں کوئی ابہام کی گنجائش نہیں رکھنا چاہتا۔

جنابِ اسپیکر! میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اور ایوان کے ہر مختص کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ (اقلیتوں کی حفاظت) یہ فرض پوری طرح اور مکمل طور پر ادا کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں کسی شخص کے ذہن میں شبہ نہیں رہنا چاہیے۔ ہم کسی قسم کی غارت گری اور تہذیب سوزی یا کسی اور طبقے یا شہری کی توہین اور بے عزتی برداشت نہیں کریں گے۔

جنابِ اسپیکر! جیسا کہ میں نے کہا کہ ہمیں اُمید کرنی چاہیے کہ ہم نے اس مسئلے کا باب بند کر دیا ہے۔ یہ میری کامیابی نہیں یہ حکومت کی بھی کامیابی نہیں، یہ پاکستان کے عوام کی کامیابی ہے جس میں ہم بھی شریک ہیں۔ میں سارے ایوان کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ مجھے احساس ہے کہ یہ فیصلہ متفقہ طور پر نہ کیا جاسکتا۔ اگر تمام ایوان کی جانب سے اور تمام پارٹیوں کی جانب سے تعاون اور جذبے کا فقدان ہوتا۔

جنابِ والا! ماضی کو دیکھتے ہوئے اس مسئلے کے تاریخی پہلوﺅں پر اچھی طرح غور کرتے ہوئے میں پھر یہ کہوں گا کہ یہ سب سے زیادہ مشکل مسئلہ تھا، گھر گھر میں اس کا اثر تھا۔ یہ دیہات میں اس کا اثر تھا اور ہر فرد اس سے متاثر تھا۔ یہ مسئلہ سنگین تر ہوتا چلا گیا اور وقت کے ساتھ ساتھ ایک خوفناک شکل اختیار کر گیا اور ہمیں اس مسئلے کو حل کرنا ہی ہو گا۔ ہمیں تلخ حقائق کا سامنا کرنا ہی تھا۔ ہم اس مسئلے کو ہائی کورٹ یا اسلامی نظریاتی کونسل کے سپرد کر سکتے تھے۔ ظاہر ہے کہ حکومت اور حتیٰ کہ افراد بھی مسائل کو ٹالنا جانتے تھے اور انھیں جوں کا توں رکھ سکتے تھے۔ اس جذبے کے تحت قومی اسمبلی ایک کمیٹی کی صورت میں خفیہ اجلاس کرتی رہی۔ خفیہ اجلاس کرنے کی کئی ایک وجوہات تھیں۔ اگر قومی اسمبلی خفیہ اجلاس نہ کرتی تو جناب! کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ تمام سچی باتیں اور حقائق ہمارے سامنے آسکتے؟ اور لوگ اس طرح آزادی اور بغیر کسی جھجھک کے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے؟ اگر ان کو معلوم ہوتا کہ یہاں اخبارات کے نمائندے بیٹھے ہیں اور لوگوں تک اس کی باتیں پہنچا رہے ہیں تو شریکِ اجلاس اس طرح اظہار نہیں کرتے جیسا کہ انھوں نے خفیہ اجلاسوں میں کیا۔

جنابِ اسپیکر! میں اس زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ اس معاملے پر جو میرے جو احساسات تھے میں انھیں بیان کر چکا ہوں میں ایک بار پھر دہراتا ہوں کہ یہ ایک مذہبی معاملہ ہے یہ ایک فیصلہ ہے جو ہمارے عقائد سے متعلق ہے اور یہ فیصلہ پورے ایوان کا فیصلہ ہے اور پوری قوم کا فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ عوامی خواہشات کے مطابق ہے۔ میرے خیال میں یہ انسانی طاقت سے باہر تھا کہ یہ ایوان اس سے بہتر کچھ فیصلہ کر سکتا اور میرے خیال میں یہ بھی ممکن نہیں تھا کہ اس مسئلہ کو دوامی طور پر حل کرنے کے لیے موجودہ فیصلے سے کم کوئی اور فیصلہ ہو سکتا تھا۔

کچھ لوگ ایسے بھی ہو سکتے ہیں جو اس فیصلے سے ناخوش ہوں گے۔ ہم یہ تو توقع بھی نہیں کر سکتے کہ اس مسئلے کے فیصلے سے تمام لوگ خوش ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ مسئلہ آسان ہوتا اور ہر ایک کو خوش رکھنا ممکن ہوتا تو یہ مسئلہ بہت پہلے حل ہو گیا ہوتا۔ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ ایسے لوگ بھی ہیں (ظاہری طور پر قادیانیوں کی طرف اشارہ ہے) جو اس فیصلے پر نہایت ناخوش ہوں گے۔ لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ یہ ان لوگوں کے طویل المیعاد مفاد کے حق میں ہے کہ یہ مسئلہ حل کر لیا گیا ہے آج یہ لوگ (قادیانی) ناخوش ہوں گے۔ ان کو فیصلہ پسند نہ ہو گا۔ ان کو یہ فیصلہ ناگوار ہو گا لیکن حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے اور مفروے پر اپنے آپ کو ان لوگوں میں شمار کرتے ہوئے میں یہ کہوں گا کہ ان کو بھی اس بات پر خوش ہونا چاہیے کہ اس فیصلے سے یہ مسئلہ حل ہوا اور ان کو آئینی حقوق کی ضمانت حاصل ہو گئی۔ مجھے یاد ہے کہ حزبِ مخالف کی طرف سے مولانا شاہ احمد نورانی نے یہ تحریک پیش کی تو انھوں نے ان لوگوں (قادیانیوں) کو مکمل تحفظ دینے کا ذکر کیا تھا جو اس فیصلے سے متاثر ہوں گے۔ ایوان اس یقین دہانی پر قائم ہے۔ یہ ہر جماعت کا فرض ہے یہ حکومت کا فرض ہے۔ حزبِ مخالف کا فرض ہے اور ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ پاکستان کے تمام شہریوں کی یکساں طور پر حفاظت کریں۔ اسلام کی تعلیم رواداری کی ہے۔ مسلمان رواداری پر عمل کرتے رہے ہیں۔ اسلام نے فقط رواداری کی تعلیم ہی نہیں دی بلکہ تاریخ میں اسلامی معاشرے نے رواداری سے کام لیا ہے۔ اسلامی معاشرے نے تاریک زمانے میں یہودیوں کے ساتھ بہترین سلوک کیا جبکہ عیسائیت ان پر یورپ میں ظلم توڑ رہی تھی اور یہودیوں نے سلطنت عثمانیہ میں آکر پناہ لی۔ اگر یہودی دوسرے حکمران معاشرے سے بچ کر عربوں اور ترکوں کے اسلامی معاشرے میں پناہ لے سکتے ہیں تو پھر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری مملکت اسلامی ہے۔ ہم مسلمان ہیں ہم پاکستانی ہیں اور یہ ہمارا مقدس فرض ہے کہ ہم تمام فرقوں، تمام لوگوں اور پاکستان کے تمام شہریوں کو یکساں طور پر تحفظ دیں۔

اسپیکر صاحب! آپ کا شکریہ

محترم قارئین! آپ نے بھٹو صاحب کی تقریر کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ تقریر ایک تاریخی دستاویز ہے۔ ان الفاظ کو غور سے پڑھیں تو ایک ذمہ دار فرد کے الفاظ ہیں۔ آج جب ایک بار پھر قادیانیوں کو”فرقہ“ قرار دیے جانے کی کوشش کی جارہی ہے پیپلزپارٹی کی ہی حکومت ہے، پیپلزپارٹی کے ممبران اسمبلی کے لیے نہایت ضروری ہے کہ وہ جو ”جئے بھٹو“ کے نعرے لگاتے تھکتے نہیں، اپنے قائد کے فلسفے اور اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنے کے جذبے کو سمجھیں۔ یاد رکھیے عقیدہ ختم نبوت کے حوالے سے معروضی حالات کبھی بھی تبدیل نہیں ہوسکتے۔ جو کوئی ناموس رسالت کی طرف میلی آنکھ اٹھاکر دیکھے گا اس کو شدید عوامی اور الٰہی غیظ وغضب کا نشانہ بننے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

Advertisements
  1. In English would help!

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: