Kashif Hafeez Siddiqui

گلوبلائزیشن ۔۔۔ ادراک اور لائحہ عمل

In Clsh of Civilizations on June 17, 2010 at 9:45 am

گلوبلائزیشن ۔۔۔ ادراک اور لائحہ عمل

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ معرکہ حق وباطل روز اول سے جاری وساری ہے اس کے ہر زمانے میں مختلف دائرے، مختلف سمتیں اور مختلف میدان رہے ہیں مگر آج کے دور میں یہ معرکہ ہمہ جہت ہے۔  آج کا معرکہ شاید ماضی کے معرکوں کی نوعیت اور پھیلاؤ کے لحاظ سے مختلف اور سخت جان ہے۔ اب یہ معرکہ فرعون وموسیٰ، نمرود وابراہیم اور یحییٰ وعیسیٰ کی طرح صرف آزمائش کی پرﹸ صبر بھٹیوں سے ہی نہیں گزرتا کہ جہاں تک پہنچنے والا کندن بنکر ہی نکلتا ہے بلکہ اب یہ معرکہ کئی دیکھے اور کئی اندیکھے محاذوں تک پھیل چکا ہے جس کو جاننے اور پرکھنے کی ضرورت ہے۔

ہماری صورت حال یہ ہے کہ ہم شاید بیش بینی کی صلاحیتوں سے محروم ہوچکے ہیں ہماری”نظر“ آج پر ہے اور”آج“ میں بھی اس پر جو ہمارے”اطراف“ میں ہے حقیقت یہ ہے کہ طبل جنگ بج چکا ہے مگر ہم یونان کے نیرو کی طرح چین کی بانسری بجا رہے ہیں ہمارا سارا زور اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ اپنی قوت وتوانائی اختلافات کی نذر کردیں یعنی  اﹺس مسلک کا ثبوت، اﹸس مسلک کا رد،  اﹺس فقہ سے اختلاف اﹸس فقہ سے اتفاق، فکر کی لاحاصل بحثوں، دانش کی الجھنوں اور مائیکرو اسکوپ سے بھی نظر نہ آنے والے نکات میں گم رہنا ہمارا المیہ ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ افق پر حق وباطل کا ایسا تازہ معرکہ نمودار ہو رہا ہے جس میں صرف اور صرف یا تو حزب اللہ کے لوگ ہوں گے یا پھر حزب الشیاطین کے ,درمیان کا کوئی بھی فرد باقی ہی نہیں بچے گا۔ مگر حزب اللہ کے لوگوں کی یہ بات اچھی طرح معلوم ہونی چاہئے کہ اسلامی عقیدے، اسلامی تہذیب اور حتیٰ کہ اسلامی وجود کو کچھ اتنے بڑے بڑے چیلنج درپیش ہیں کہ ہماری حالیہ تاریخ میں شاید ہی کبھی امت مسلمہ کو پیش آئے ہوں۔

لاتعلق یا غیر جانبدار رہ کر اپنے اردگرد کی رونق اور سرگرمیوں سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے کیونکہ یہ تو دنیا کی چند روزہ زندگی کا دھوکہ ہے۔ کیا سیلاب کی صورت میں کشتے ﹸ اور بند غیر جاندار ہوسکتے ہیں۔ کامیاب تو معرکے میں اترنے والے ہی ہوں گے اﹺس دنیا میں نہیں تو اﹸس دنیا میں۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ ان کی طاقت”نظریات سے وابستگی میں“  اور”باطل سے اعلان بیزاری“  میں پنہاں ہو اور مقابل کی قوت کا محور”معیشت“ اور”ہتھیار“ ہوں۔

مسئلہ کچھ یوں ہے کہ باطل کے کیمپ میں کھڑے ہونے والوں کی بھی کمی نہیں، دجالی و ابلیسی تہذیب کے علمبردار بھی کم نہیں، اپنے شیطانی عقیدوں سے کمال وابستگی رکھنے والے بھی بہت ہیں اسباب ووسائل، ترقی وجمالات کی ایک کائنات ہے اس طرف’ مگر حق کا مورچہ تو اپنے وجود سے تشکیل دینا ہوگا۔ تصور”ملت“ اور”امت“ کا ہوگا، باقی دائرے ان تصورات میں گم ہو جائیں گے اور اخوت ورواداری کی تازہ بستیاں آباد کی جائیں گی یعنی بقول اقبال

ملت کے ساتھ رابطہ استور رکھ

پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ

اور

بتان رنگ وبو کی توڑ کر ملت میں گم ہو جائیں

نہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانی

امت اور ملت کے دائروں کو مسلک، فرقے، فقہ، قوم، ذات وغیرہ کے چھوٹے، غیر مستحکم، ناپائیدار دائروں سے تبدیلی کی بھرپور مزاحمت رب کی دعوت پر یقین اور مومن کی فراست وعقل مندی کی روشنی میں درکار ہے۔ یہ وہی دعوت ہے کہ جس کا پرچم اور علم ہمیشہ انبیائ اکرام نے اپنی دعوت کے ذریعے بلند کرکے وقت کے داعیوں کو عزت اور بلند مرتبی عطا کی۔

مگر لگتا یوں ہے کہ ہم معرکے کے ظہور پذیر ہونے کی حقیقت کو شتر مرغ کی طرح مٹی میں منہ ڈال کر ٹال رہے ہیں وقت ہے کہ تیز رفتاری سے گزر رہا ہے آج تو وجود کی بقائ کا معرکہ درپیش ہے آج کے دور کے سفید فام آقا اپنے غلام کو برابری کی سطح پر دیکھنے کی تاب نہیں رکھتے۔ وہ زمین کے کھوئے ہوئے توازن کو جو سلطنت عثمانیہ کے ساتھ ختم ہوگیا تھا اب دوبارہ بحال ہوتے، قائم ہوتے اور اپنے ثمرات سے مظلوموں کی مطمئن کرتے نہیں دیکھنا چاہتے کہ

ہے جرم ضعیفی کی سزا، مرگ مفاجات

مگرحقیقت سے بھی کیسے انکار کیا جاسکتا ہے کہ اس گھور اندھیرے میں تازہ امکانات بھی روشن ہونا شڑوع ہوگئے ہیں کشمکش کی اس فضائ میں جہاں بظاہر ہر طرف چیلنجز ہیں، امکانات کے نئے دئیے جلتے نظر آرہے ہیں آج مغرب اپنے نظام کی ٹوٹ پھوٹ کو اپنی آنکھ سے دیکھ رہا ہے، بحث کسی نئے نظام کے لانے کی ہورہی ہے۔ اس دور کشمکش میں جہاں امید کے نئے دئیے جلتے نظر آرہے ہیں ان میں سے ایک پاکستان بھی ہے یہاں بے شمار امکانات ہیں یہاں جدید علوم تک رسائی 200 سال سے جاری ہے جس قدر اعلیٰ تعلیم یافتہ اور جدید دنیا سے واقف طبقہ عالم اسلام کے اسی خطے میں پایا جاتا ہے جو شاید کسی اور حصے میں نہ ہو۔ مگر مسئلہ کوتاہ نظری کا ہے جہاں وہ”نظر“  ہی دستیاب نہیں جو موجودہ چیلنجز کو ان کے حقیقی رنگ کے ساتھ دیکھ لے۔ ”نظر“کو کہیں پر قومیت کا عارضہ لاحق ہے اور کہیں پر مسالک، تنظیمی حدود بندیوں اور گروہی جکڑ بندیوں کا، دنیا پر نظر ڈالنے کی اگر کوئی صورت دستیاب بھی ہے تو دین میں اس کی نظر اہل حدیث، دیوبندی، شیعہ، سنی سے آگے نہیں بڑھتی۔ ان کیلئے یہ مسائل دائمی وآفاقی موضوعات کی حیثیت اختیار کرگئے ہیں۔ دنیا ان کیلئے انہی چھوٹی چھوٹی سرحدوں پر ختم ہو جاتی ہے اور افق کے اس پار دیکھنا ایک غیر مانوس بات ہے مگر حقیقت تو یہی ہے کہ

جہان نو ہو رہا ہے پیدا، وہ عالم پیر مر رہا ہے

آج امت مسلمہ کا مقابلہ عالمگیریت یا گلوبلائزیشن کے دیو سے ہے جو انٹرنیٹ کی اسکرینوں، فلموں، روزناموں اور میڈیا کے ذریعے ہم کو بار بار”گلوبل ولیج“ کے ظہور کا پیغام دے رہا ہے جس کا نقشہ اور ترتیب کفر اور الحار پر قائم ہے اس گلوبل ولیج کا مقصد اس کے علاوہ کچھ اور نہیں کہ ہم سے ہماری”اصلیت“ چھین لی جائے اور اس کا علاج اس کے علاوہ کچھ اور نہیں کہ ہم فروعی اور مسلکی اختلاف بھلا کر “کلمہ لا الہ الا اللہ” کو تھام لیں یعنی وہ کلمہ جو اسلامی بیداری کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے جس کو تھام لینے سے عروج اور جس کی عمل کے بغیر صرف گردان سے پستی مل جاتی ہے اور جس کے نظام کے قیام کے خوف سے طاغوت لرزہ براندام ہے۔

معدودے چند ہی اہل نظر کی” نظر” اس پہلو کی طرف گئی ہے کہ ہمیں آج ایک کھلے، ننگے باطل کے ساتھ پالا پڑا ہے جو کہ ہماری تاریخ کا ہی نہیں پوری دنیا کی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ ہے کہ زندگی کے سب شعبے اس کی براہ راست زد میں ہیں باطل کی دنیا میں ایسی ہمہ گیر اور عالمی پیشرفت اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ آج ہمارے سامنے ایک ایسا باطل ہے جس سے بڑھ کر منظم ہمہ گیر اور منصوبہ بند باطل شاید ہی کبھی پایا گیا ہو اور جس کی جڑیں ناقابل اندازہ  حد تک گہری ہیں اور جس نے معاشروں کو قابو کرنے کی ایک خاص صلاحیت پیدا کر رکھی ہے اور جس کے آگے بڑھی دیر سے ﴿محض اللہ کی رحمت سے ہی﴾ ہم لقمہ تر ثابت نہیں ہورہے ہیں جبکہ آج ہم معیشت، سیاست، عدالت، قانون، فنون، معاشرت، تعلیم، صحت، اخلاقیات، سماجیات، تعلقات، روایات، اقدار، آداب سب محاذوں پر کمزور ہیں، انٹرنیٹ، ایف ایم چینلز، ٹی وی کے لاتعداد چینلز، ہفتہ وار اور ماہانہ میگزین، اخبارات اور سب سے بڑھ کر لارڈ میکالے کا نظام تعلیم جو ہم کو طبقہ ور طبقہ تقسیم در تقسیم کررہا ہے باطل کے اصل ہتھیار ہیں اور ان کی تیز دھاروں سے ہم بے خبر ہیں۔

مسئلہ صرف”نیکی کی دعوت“ نہیں، حالیہ مرحلے میں گلوبلائزیشن اس بات کیلئے پوری گنجائش رکھتی ہے بلکہ اس کی حد سے بڑھ کر سراہتی ہے کہ مذہب کے حوالے سے لوگوں کا زیادہ تر شوق روحانی اور اخلاقی ترقی کے باب میں پورا کروایا جائے۔  2003 کی رینڈ کارپوریشن کی رپورٹ اس کے علاوہ اور کیا کہتی ہے؟ بات تو تلخ ہے مگر سچ یہی ہے کہ محض اپنی 6 فٹ کی ہیئت میں دیندار ہونا ظاہر ہے کہ قرآن کا مطلوبہ کردار نہیں اور نہ ہی اس معنی میں دینداروں کی تعداد بڑھانا رسولوں کا اصل مشن تھا حقیقت تو یہی ہے کہ تھوڑے بہت فرق سے ہر دھرم میں نیکی، اخلاق اور مذہبی رجحانات کے تصور ہیں۔ انبیائ کا دین اس کے علاوہ کچھ اور نہیں کہ وقت کی جاہلیت ﴿جو چاہے قومیت کی صورت میں ہو، سیکولرازم ہو، سوشلزم ہو، مسلک وفرقہ کی صورت میں ہو یا گلوبلائزیشن کی صورت میں ہو﴾ اور دین انبیائ ایک دوسرے کے مقابل آجائیں یعنی

توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے

یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لئے ہے

نماز، روزہ، اخلاق وآداب، پردہ واذکار، معمولات یومیہ قرآن کے موضوعات تو ضرور ہیں مگر مقصود تو وہ کشمکش ہے جو وقت کی جاہلیت اور دعوت انبیائ کے درمیان ہمیشہ برپا رہی گلوبلائزیشن کہتی ہے کہ آپ دیندار تو باطل کے نظام کے اندر رہ کر بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ مذہب تو ذاتی معاملہ ہے جبکہ دعوت انبیائ فرد کو نہیں معاشرے کی تبدیلی کی بات کرتی ہے۔

اگر کہیں سے بغاوت کی جری آوازیں بلند بھی ہوئیں تو ان کو اشتعال دلاکر شدت پسندی، انتہائ پسندی، غلو اور قتال کے دائروں میں محصور کردیا گیا کہ جس سے نپٹنا بظاہر طاغوت کیلئے آسان ہے یہ آوازیں بھی دعوت انبیائ کی آفاقی اور موثر دعوت کے لہجے سے نامانوس ہوکر علم کی گہرائی کھوکر، متانت وسنجیدگی سے محروم ہوکر ٹکراؤ کی پالیسی پر عمل پیرا ہوگئیں کہ جس سے نقصان سب کو ہی پہنچا۔

باطل یا طاغوت یا گلوبلائزیشن کو اچھی طرح معلوم ہے کہ مسلم دعوت وتہذیب کا پلہ ایک میدان میں ابھی بھی بھاری ہے وہ ہے نظریاتی کشمکش کا میدان۔ اقبال نے کہا تھا کہ

بازو تیرا توحید کی قوت سے قوی ہے

تو مصطفوی مصطفوی مصطفوی ہے

مغرب کے تھنک ٹینک اس وقت خبردار کررہے ہیں کہ اب معرکہ Clash of Civilization اور War on Terror کا نہیں بلکہ War of Ideas پر مرکوز کرلے۔ اس کو آپ”عقیدے کی جنگ“ اور”نظریات کی جنگ“ بھی کہہ سکتے ہیں۔ باطل کو معلوم ہے کہ نظریاتی محاذ پر اسلام اس قدر قوی اور حاوی ہے کہ گلوبلائزیشن کو اس کی تاب لانا بظاہر ممکن ہی نہیں سورہ الانبیائ میں ہے کہ”بلکہ ہم تو حق کی چوٹ باطل کے سر پر لگاتے ہیں جو اس کا کچومر نکال دیتی ہے اور تب وہ مٹ کر رہ جاتا ہے“ (18) ۔ بس ضرورت کلمہ لا الہ الا اللہ کی دعوت کو لیکر اٹھنے کی ہے کیونکہ

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

یہاں پر یہ بات بھی سمجھ لینا چاہئے کہ قرآن جہاد وقتال اور ہتھیار اٹھانے کی دعوت دیتا تو ضرور ہے مگر اس وقت جب وہ باطل کے خلاف ایک فکری معرکہ ﴿نظریات کی جنگ﴾ لڑ چکے ہوتے ہیں بلکہ جب وہ یہ فکری معرکہ لڑ کر جیت چکے ہوتے ہیں اور جب وہ باطل کو نظریاتی میدان میں آخری حد تک پسپائی سے دوچار کرچکے ہیں جیساکہ مکہ کے اندر یہ فکری معرکہ جیت کر دکھایا جا چکا تھا اور باطل کے پاس معاشرے کی سرزمین پر زندہ رہنے کیلئے قوت کے بے دریغ استعمال کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں رہتا۔

انبیائ کی دعوت کا ایک اور مقصور یہ بھی رہا ہے کہ باطل کے ہر پہلو کو عریاں کردیا جائے اور اس کی بے بنیادی اور کم مائیگی کو معاشرے کے سمجھدار طبقے پر نہ صرف واضح کردیا گیا ہو اسی دوران معاشرے کا صالح عنصر چھٹ کر حق کے ساتھ آ ملے اور معاشرے کا باطل پرست اس کے مقابل آجائے اور عام افرد کیلئے حق اور باطل کا اختلاف وقت کا سب سے اہم موضوع بن جائے اور اس لاتعلق اور غیر جانبدار دنیا ناممکن ہوگیا ہو۔

اس بات کو بھی جان لینا چاہئے کہ گلوبلائزیشن کے تحت کہ آج کا ہر”مقامی“ ماحول مقامی نہیں رہ گیا بلکہ اس پر”عالمی اثرات“ پڑ چکے ہیں اب ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی ابلیسی دعوت کے مقابل عالمی اسلامی دعوت کو فروغ اور تقویب دی جائے کیونکہ آج کی دعوت کو اصل مقابلہ باطل کی عالمی تحریک سے ہے لہذا آج کے داعیوں کو دعوت کے مقامی تقاضوں کے ساتھ ساتھ دعوت کے عالمی تقاضے بھی بیک وقت پورے کرنا ہوں گے دعوت سے وابستہ ان موضوعات کو بیک وقت مخاطب کرنا پڑیں گے جو داعی کے محلے کی بھی ضرورت ہے، شہر کی بھی، ملک کی بھی اور اس عالمی دائرے کی بھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ باطل کی مقامی صورت اب عالمی صورت اختیار کرتی جارہی ہے جو دعوت انبیائ سے براہ راست متصادم ہے ہر ہر پہلو سے اور ہر ہر انداز میں دعوت انبیائ سے صاف جدا اور علیحدہ ہے انبیائ کی دعوت صرف فرد کو دیندار بنانے کی دعوت نہیں دیتی بلکہ مکمل معاشرے کی تبدیلی کی بات کرتی ہے جو طاغوت کو قبول نہیں اسی لئے گلوبلائزیشن کے تحت فیصلہ ہوا ہے کہ مسلم معاشروں کا سب کچھ”فرنچائز“  بنا دیا جائے پہلے کسی زمانے میں حکومتیں بکی کرتی تھیں، حکمران باج گزار ہوتے تھے مگر اب تو معاشروں کو ہی ٹھیکے پر دینے کا کام جاری ہے گلوبلائزیشن آخری آسمانی شریعت کے ساتھ سب سے بڑھ کر بغض رکھتا ہے اور اپنے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ اسی کو جانتا ہے اسی لئے مسلم معاشرے میں کنفیوژن پھیلانے کیلئے آزاد خیال، ترقی پسند، جدت پسند، موڈیریٹ مسلم افراد اور اداروں سے نہایت اعلیٰ پائے کی پیشہ ورانہ خدمات لے رہا ہے جان لینا چاہئے اور سمجھ لینا چاہئے کہ گلوبلائزیشن کی اس عالمی تحریک کا  ہدف حکومتیں نہیں ﴿وہ  تو کب کا سر ہو گیا ہے﴾  بلکہ معاشرے ہیں سب محنت اب یہیں پر ہے سوچئے کہ مسلکی اور دعوتی بحثوں میں مشغول ہمارے کوہ تا نظر افراد کا ان باتوں سے صرف نظر کرکے اب بھی امت کو کچھ چھوٹے چھوٹے مسائل اور کچھ غیر ضروری بحثوں اور امور میں مشغول رکھنا اور اپنی استعداد وصلاحیتوں کا بڑا حصہ انہی لاحاصل امور میں صرف کروالینا کیا ہمارے حق میں بہتر ہوگا؟

دیکھنے کی بات تو یہ بھی ہے کہ باطل یہاں کس رخ کی ہوائیں چلا رہا ہے اور معاملات کی باقاعدگی کے ساتھ کس سمت کی طرف لے جایا جارہا ہے اس حوالے سے کس خوش فہمی میں رہ جانا بے خبری کی آخری حد کہلائے گا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ مقامی طور پر آپ کو جس صورت حال کا سامنا ہے ﴿مثلاً بلوچستان کو ہی لیجئے﴾ عالمی سطح پر وہ کس چیز کی پیدا کردہ ہے؟ اپنی مقامی صورت حال کے پیچھے جو کہ شاید اب قیامت کی چال چلنے جارہی ہے، آپ کو کفر کی اس عالمی تحریک کے سوا دور دور تک کچھ نظر نہیں آئے گا جو رسولوں کے لائے ہوئے دین کے ساتھ تاریخ انسانی کا سب سے بڑا، سب سے منظم اور سب سے سنگین تصادم ہے، طاغوت وباطل تیزی کے ساتھ ہمارے چاروں طرف اپنے پر پھیلا رہا ہے اور میدان اس قدر خالی دیکھ کر شاید تعجب بھی کرتا ہو کہ یہ وہی”اذانوں کا دیس“ ہے جس کی طرف کبھی رخ کرنے کا بھی نہ سوچا جاسکتا تھا لیکن آج یہاں اس کی پذیرائی کیلئے”ذہن“ ہی نہیں”دل“ بھی کھول کر رکھ دئیے گئے ہیں اور دور دور تک مزاحمت کا نام نہیں المیہ یہ ہے کہ دعوت کے میدان کے سپاہیوں کا یہ”موضوع“ نہیں اور ابلاغ پر ہمارا زور نہیں تو پھر حضرات گلہ کیسا؟ پھر تعجب کیوں کہ صورت حال جوں کی توں جاری رہے اور کفر کی ہر روز کی پیش قدمی پر ہم کڑھتے ہی کیوں نہ رہیں کیا یہی ہمارا مقدر ہے؟ کیا ہم اسی طرح مایوس رہیں گے۔ اقبال نے کہا تھا کہ

مسلماں کو مسلماں کردیا طوفان مغرب نے

اس میں کوئی شک نہیں کہ چیلنج قوموں کو زندہ کر جاتے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ کسی قوم کو راہ دکھانے والے پر وقت مل جائیں اس لحاظ سے”نظر“  کا مسئلہ ایک بنیادی مسئلہ ہے چارہ گری کی سب سے پہلی شرط یہی ہے ان چیلنجز کو پہچان جانا اس امتحان کی پہلی گھاٹی ہے لا الہ الا اللہ کا نعرہ مستانہ ہم کو ”نظر“بھی دیتا ہے اور”داعیانہ عمل“ بھی، چینلجز کا مقابلہ کرنے اور ان کو امکانات میں بدل دینے کیلئے یہی دو ضرورتیں ہیں صورت حال اس وقت یہ ہے کہ فقدان،”عمل“ اور”سرگرمی“ کے میدان میں اتنا نہیں کہ جتنا”خبر“ اور”نظر“ کے میدان میں۔

بس ضرورت ایک ایسی قیادت کی ہے جو میدان عمل میں اترے وار مسلم اقوام میں ایک نئی ”نظر“پیدا کرے۔ ملت اسلامیہ میں اسلام کی اسی اصل حقیقت کا ازسرنو احیائ کرے اور توحید کی وہی جوت جگائے۔ ان کو دین کی اساس اور بنیاد لا الہ الا اللہ سے ازسرنو وابستہ کرے، دنیا کو ایک ہی ”نظر“سے دیکھنا سکھائے۔ عالم اسلام میں ایسی قیادت ناگزیر ہے جو ان مسلم اکثریتی معاشرہ کو ازسرنو ان کا عقیدہ پڑھائے اور دعوت انبیائ کی بنیاد پر ان کے اور کافر معاشروں کے درمیان”حد فاصل“ قائم کرے، کفر اور اسلام کی اس حد کو پھر سے ان کا موضوع بنایا جائے جو باطل کا سینہ چیر کر گزرتی ہے۔ بقول اقبال

تو نے پوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے

حق تجھے میری طرح صاحب اسرار کرے

ہے وہی تیرے زمانے کا امام برحق

جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے

موت کے آئینے میں تجھ کو دکھا کر رخ دوست

زندگی تیرے لئے اور بھی دشوار کرے

دے کے احساس زیاں تیرا لہو گرما دے

فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے

آج کے چیلنج کے مقابلے کیلئے ضروری ہے کہ ہمہ جہت محاذوں پر جدوجہد کی جائے ایک دعوتی، تعلیمی وابلاغی مہم اور عمل کو آگے لایا جائے تاکہ اہم محاذوں کیلئے تازہ دم دستے جو منظم اور تربیت یافتہ ہوں مقابلے کیلئے روانہ کرسکیں ہمارا کام زمین تیار کرنا ہے جس پر آگے چلا جایا جاسکے تاکہ دعوت انبیائ ایک دفعہ پھر سینہ تان کے کھڑی ہو سکے جو کفر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سماج اور معاشرت کو حرارت فراہم کرسکے جس سے باطل کے ایوان لرزہ براندام رہیں، انداز اور اسلوب کا فرق موضوع بحث نہیں مگر تصور سے وابستگی اہم ہے۔

کیا تو نے صحرا نشینوں کو یکتا

خبر میں نظر میں اذان سحر میں

کشاد در دل سمجھتا ہے اس کو

ہلاکت نہیں موت اس کی نظر میں

شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن

نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی

کتساب وتلخیض ۔“دعوت” کو نئے لہجوں کی ضرورت، از حامد کمال الدین۔ سہہ ماہی۔ ایقاظ لاہور، جنوری تا مارچ 2010)

Advertisements
  1. Beautiful Article and very well written by the writer

  2. Nice article again…
    but i don’t know why, i become uncomfortable by the solution through “dawat o tableegh”. I believe we have done whatever one could do. there are many organizations in pakistan involved in dawah, not halfheartedly but with all the energies they have…but the impact is negligible….it changes only a minor weightless fraction of our society…
    the dajjali system is taking control in pakistan at alarming pace.
    we need a revolution and control of the society and use the elements of force and fear to correct the disorders in pakistan and make an example of progressive, non materialistic and non capitalist state.
    i strongly believe that disorders and vulnaribility to fall in trap of globilization can not be overcomed untill islamist gain the power.
    best regards

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: