Kashif Hafeez Siddiqui

بنگلہ دیش میں سیکولر گردی

In Clsh of Civilizations on July 31, 2010 at 3:17 pm


قرآن میں بتائی گئی تاریخ کا بغور مطالعہ اور تجزیہ کیجئے، آپ کو قدم قدم پر کشمکش خیر و شر کی گھاٹیاں اور وادیاں نظر آئیں گی۔ وقت کے اہلِ حق دیوانوں کی طرح اٹھے اور کلمة الحق عوام اور خواص دونوں کے سامنے رکھا۔ مشکلات اور صعوبتیں برداشت کیں، یہاں تک کہ جان سے گزر گئے۔ نبی کریم کے مطابق ان کے جسموں کا گوشت لوہے کی کنگھیوں سے اتارا گیا اور جسم کو آریوں سے چیر دیا گیا، کسی کو بستی سے نکال باہر کیا گیا تو کہیں آگ کے انگاروں پر پھینک دیا گیا۔ ان تمام واقعات کے مخالف فریقین کو دیکھیں تو یہ تمام لوگ انسان کے ہاتھوں بنائے گئے بت اور انسانی بادشاہوں کو بطور ”خدا“ کے تسلیم کروانے کی شیطانی خواہشات نے ان کے نفس کو موٹا، ان کو عقل و خرد سے محروم، شعور سے لاتعلق، فہم سے بے بہرہ اور معاملے کے ادراک کی طاقت سے کورا کردیا تھا، جس کی وجہ سے معاشرے فساد اور ظلم کا شکار ہوگئے۔ انبیا کا پیغام اس کے علاوہ کچھ اور نہیں تھا کہ انسانوں کو انسان کی غلامی سے نکال کر اللہ رب کائنات کی اطاعت میں دیدیا جائے۔ مگر یہ کم عقل انسان ہے جو اپنے آپ کو خدا کی رحمت سے اور برکت سے محروم رکھ کر شیطان کی قربت میں فرحت محسوس کرتا ہے، حالانکہ یہ سراسر خسارے کا ہی سودا ہے۔ انسان کی حیثیت دنیا میں اللہ کے خلیفہ اور اس کے نائب کی ہے، جس کے وجود کا مقصد اس کے علاوہ کچھ اور نہیں کہ وہ زمین پر صرف اور صرف اللہ کی حاکمیت قائم کرنے کی سعی و کاوش کرے، مگر کیا کریں کہ اس انسانی عقل پر ماتم کرنے کا جی چاہتا ہے، جو دین و ایمان کی ٹھنڈی چھاؤں کو چھوڑ کر ”سیکولرازم“ کے نام نہاد تصور کے تحت انسان کو پھر انسان کی غلامی میں دینے کو تیار کھڑا ہے۔

ہمارے سامنے ”پاکستان آبزرور“ میں نوشین سعید کا چھپنے والا مضمون

Separate Religion from Politics

یعنی مذہب اور سیاست کو جدا کیجئے، رکھا ہے۔

  حالانکہ اقبال نے صرف ایک مصرعہ میں دریا کو کوزے میں گویا بند کردیا تھا کہ


جدا ہو دیں سے سیاست تو رہ جاتی ہے چنگیزی

نوشین سعید لکھتی ہیں کہ ”بنگلہ دیش سپریم کورٹ مبارک کی مستحق ہے کہ اس نے مذہبی بنیادوں پر سیاست کرنے پر پابندی لگادی، جو ایک بڑا قدم ہے۔ یہ قدم بنگلہ دیش کو یقینا جدید، خوشحال، لادین، ترقی پسند اور جمہوری ملک بنا دے گا“۔ موصوفہ مزید گل افشانی کرتی ہیں کہ ”جب کبھی ریاست اور مذہب ملتے ہیں تو یہ ملاپ خرابی، انتشار، فساد، ہنگامہ آرائی اور تصادم پیدا کرتا ہے۔ آج کی کثیر الثقافتی تہذیب اور کثیر المذاہب معاشرے میں ”کوئی“ بھی مذہب یہ صلاحیت نہیں رکھتا کہ صورتحال کو قابو میں رکھے اور حکومت اور قانون کی حکمرانی قائم کرے۔ اگر حکومت مذہب کے نام پر قائم کی جائے تو معاشرہ تنزلی کا شکار ہو جاتا ہے۔“

قارئین! ان کے نزدیک اسلام میں یہ قوت ہی نہیں اور اس کی نظمی صلاحیت اس قدر کمزور ہے کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اسے بطور ریاست کے نظام کے طور پر قائم کیا جاسکے۔ مگر آئیے دیکھتے ہیں کہ سیکولرازم جن نعروں کے ساتھ میدان میں اترتا ہے، یعنی برابری، سب کا اختیارات پر حق اور بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت، اس پر خود کس قدر عمل پیرا ہوتا ہے اور اس کے بظاہر خوبصورت سجے سجائے غازہ بھرے چہرے کے پیچھے کس قدر مکروہ صورت ہے۔

لادین طبقے کو اسلام کے تصور سے اور اس کی برکتوں اور رحمتوں سے خوف آتا ہے۔ پاکستان میں بہرحال کئی بنیادی وجوہات کی بنا پر وہ اپنے خواب کو عملی جامہ نہیں پہنا سکے، تاہم ان کو بنگلہ دیش ایسی زمین کی صورت مل گیا، جہاں انہوں نے اپنا غیر انسانی، غیر اخلاقی، جبر و ظلم سے بھرپور نظام قائم کرنے کی سعی کی ہے۔ اس کی اس سعی میں ہندوستانی اور مغربی مالی تعاون سے چلنے والی لاتعداد NGOs اور سابقہ سوشلسٹ اور موجودہ لبرل سیکولر سیاسی جماعتیں ممد ومعاون ہیں۔ بنگلہ دیش میں کمشکشِ اسلام و جاہلیت اس کے وجود میں آتے ہی مزید تیز ہو چکی تھی۔ ہم تھوڑی دیر کیلئے اگر مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش کے سفر کی کہانی کو، جس کے پیچھے موجود لادین مغرب نواز طبقے کی مکروہ پالیسیوں کو کہ جن کی بدولت عالم اسلام کے سب سے بڑی اسلامی مملکت دولخت ہوئی، ایک طرف رکھ دیں کہ جس کے کردار مغربی و مشرقی پاکستان دونوں طرف موجود تھے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس خطہ زمین میں اس کشمکش کے کئی ادوار اور اتار چڑھاؤ ہیں۔

نظریاتی طور پر بنگلہ دیش کا وجود لادین، ترقی پسندانہ، قوم پرست اصولوں کے تحت لایا گیا۔ 1972ء میں آنے والے دستور کے تحت مذہب کی بنیاد پر سیاست پر پابندی لگا دی گئی اور سیکولرازم کو بنیادی ضابطہ قرار دیا گیا اور ساتھ ہی تمام مذہبی جماعتوں پر پابندی لگا دی گئی۔لیکن اس تمام لادینت کی بنیادوں کے باوجود مسلم اکثریتی ملک کے تاسیسی سربراہ شیخ مجیب الرحمن مذہب سے پیچھا نہیں چھڑا سکے۔ بنگلہ دیش آبزرور کے مطابق 1972ء میں انہوں نے اعلانیہ کہا کہ ”ان کو مسلمان ہونے پر فخر ہے اور ان کی قوم دنیا کی دوسری بڑی مسلم قوم ہے“۔ ان کا بارہا اصرار تھا کہ ”ان کے نظریہ سیکولرازم کے معنی مذہب کا معدوم ہوجانا نہیں۔“ 4 نومبر 1972ء کو دستور کی منظوری کے بعد ایک خصوصی ”مناجات“ کی تقریب میں بھی شرکت کی۔ حکومتی پارٹی یعنی عوامی لیگ نے مدارس کی امداد کے بجٹ کو، جو 1971ء میں 2.5 ملین ٹکا تھا، 1973ء تک 7.2 ملین ٹکا تک پہنچا دیا تھا۔ حکومتی سیکولر پالیسی کے تحت سرکاری میڈیا میں اسلام کے علاوہ ہندومت، بدھ مت اور عیسائیت کو بھی اپنا نقطہٴ نظر بتانے کا بھر پور موقع دیا گیا، جو بجائے لادینیت کی سپورٹ کے مذہبیت کے فروغ کا باعث بنا۔

15 اگست 1975ء کو ایک فوجی انقلاب کے نتیجے میں شیخ مجیب الرحمن اور ان کے خاندان کے افراد کو بے دردی سے قتل کردیا گیا، جس کے بعد ایک خانہ جنگی کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ بالآخر 84 روز کے کنفیوژن کے بعد جنرل ضیاء الرحمن ایک مرد آہن کے طور پر سامنے آئے۔ جنرل ضیاء الرحمن نے اسلامی ایجنڈا اپنے پیش رو کے برعکس اپنایا۔ اسلام سے تعلق اور ریاست کی شناخت، اس کے سرحدی اور ریاستی تحفظ ان کی ترجیحات تھیں۔ 1976ء کے سیاسی جماعتوں کے قانون میں ترمیم کے بعد مذہبی جماعتوں کو سیاسی عمل میں شرکت کی محدود اجازت دی گئی۔ 1978ء میں جنرل ضیاء الرحمن نے ایک سیاسی جماعت قائم کی، جس کی بنیادی پالیسیوں میں اسلام کو روزمرہ کی زندگی میں کردار اور سیاسی رہنمائی کیلئے مشعل راہ کا درجہ دیا گیا۔ ان کی کابینہ میں ایسے افراد کی موجودگی واضح تھی، جن کا اسلام سے تعلق تھا۔

اپریل 1977ء میں ضیاء الرحمن نے چند بنیادی ترامیم کیں جو نہایت دور رس تھیں۔ یہ ترامیم پانچویں ترمیم کہلائیں۔ ان میں سے چند نمایاں یہ تھیں: دستور سے لفظ ”بنگالی“ حذف کرکے ”بنگلہ دیشی“ لایا گیا۔ اس طرح ہندو بنگلہ سے تعلق ختم کرنے کا واضح اعلان کیا گیا اور بھارتی اثرات کو قبول کرنے سے انکار کیا گیا۔ ”آزادی کی تاریخی جدوجہد“ کی جگہ ”آزادی کی تاریخی جنگ“ لایا گیا۔ اسی طرح جدوجہد آزادی میں بنگلہ فوج کا کردار سامنے لایا گیا۔ دستور کے ابتدائیہ اور آرٹیکل 8 میں سیکولرازم کو چار میں سے ایک بنیادی اصول کے طور پر رکھا گیا تھا، جس کو ”اللہ تعالیٰ پر غیر متزلزل ایمان اور اعتماد“ سے تبدیل کردیا گیا اور ایک نئی شق (1A) داخل کی گئی، جس کی رو سے تمام اقدامات کی بنیاد اللہ پر ایمان ہوگی۔ آرٹیکل 12 میں موجود لفظ سیکولرازم کو نکال کر دستور کے اوپر بسم اللہ الرحمن الرحیم کا اضافہ کرکے دستور کو اسلامی رنگ دیا گیا۔ ”سوشلزم“ کا لفظ نکال کر ”معاشی اور معاشرتی انصاف“ لایا گیا۔

1980ء میں جنرل ضیاء الرحمن ایک فوجی بغاوت میں قتل کر دیئے گئے اور جنرل ارشاد نے جنرل ضیاء کی اسلامائزیشن کے عمل کو جاری رکھا۔ 1982ء میں ایک مذہبی اجتماع میں انہوں نے اعلان کیا کہ نیا معاشرتی نظام اسلام کی بنیاد پر قائم ہوگا اور اس کو قانون میں جائز مقام دیا جائے گا۔ 15 جنوری 1983ء کو انہوں نے اعلان کیا کہ وہ بنگلہ دیش کو ایک اسلامی ملک بنانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ 1988ء میں جنرل ارشاد نے ایک دستوری ترمیم کے ذریعے اسلام کو بنگلہ دیش کا سرکاری مذہب قرار دیا۔ اسلامائزیشن کے اس عمل نے جس کو مذہبی جماعتوں نے نام نہاد قرار دیا، سیکولر قوتوں کو بہرحال ایک قدم پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔ شیخ حسینہ واجد نے جو شیخ مجیب الرحمن کی صاحبزادی ہیں، کچھ اسلامی روایات کو علی الاعلان اپنایا، مثلاً انہوں نے مستقلاً سر ڈھاپنا، اپنی تقاریر میں بسم اللہ اور خدا حافظ جیسے الفاظ کا استعمال کرنا شروع کیا۔ حج اور عمرے کا اہتمام کیا۔ BNP کی رہنما بیگم خالدہ ضیاء نے الزام لگایا کہ اگر عوامی لیگ اور شیخ حسینہ واجد کو اقتدار ملا تو دستور سے بسم اللہ کے الفاظ حذف کرلئے جائیں گے۔ اس کی عوامی لیگ نے بھرپور تردید کی۔ بعد کے مختلف انتخابات اور سیاسی تحریکوں میں BNP، عوامی لیگ اور جماعت اسلامی میں اشتراک عمل رہا اور جماعت اسلامی ملک کی تیسری بڑی قوت کے طور پر سامنے آئی۔ 2004-05ء کے انتخابات کے بعد BNP اور جماعت اسلامی کی مشترکہ حکومت قائم ہوئی، مگر 6 جنوری 2009ء کے انتخابات میں عوامی لیگ نے نہایت بھاری اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کی اور انتقامی سیاست کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ سب سے پہلے تو شیخ مجیب کے قتل میں ملوث 5 افراد کو بہ عجلت مقدمہ چلا کر پھانسی کی سزا دی اور اس پر جلد از جلد عملدرآمد بھی کروا لیا گیا۔ اس وقت ان تمام کی عمریں بالترتیب 50 سے 60 سال کے درمیان تھی۔ پھر ایک سال بعد یعنی 6 جنوری 2010ء کی کینگرو کورٹس کے ذریعے اگست 1975ء اور اپریل 1999ء کی ترامیم کا خاتمہ کردیا گیا، جس کی رو سے دوبارہ مذہبی جماعتوں کو سیاست میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے۔ عوامی لیگ جو کہ 14 جماعتی اتحاد ہے، اس ترمیم کی حامی ہے۔ وزیر قانون احمد شفیق نے واضح کیا کہ بسم اللہ بدستور ابتدائیہ کا حصہ رہے گا اور دستور سے اسلام بطور سرکاری مذہب خارج بھی نہیں کیا جائے گا، البتہ دستور کی بنیادی شقوں میں شامل نہیں ہوگا۔ شفیق احمد صاحب کا فرمانا تھا کہ جماعت اسلامی کو اب اپنے نام اور منشور سے لفظ اسلامی کو نکالنا ہوگا۔ ان ترامیم کے خاتمے کے بعد سے عوامی لیگ نے جماعت اسلامی کیخلاف ایک مہم شروع کر دی ہے اور میڈیا کے تمام ذرائع پر جماعت کے موٴقف کو پیش کرنے پر پابندی بھی لگا دی ہے۔29 جون کو امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش جناب مطیع الرحمن نظامی کو، جن کی عمر اس وقت 70 سال ہے، گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ساتھ ہی جماعت کے سیکریٹری جنرل مولانا دلاور حسین اور ایک رہنما مولانا مجاہد بھی پابند سلاسل کر دیئے گئے۔ 30 جون کو ان کو جب کمرہٴ عدالت میں پیش کیا گیا تو ان کی ضمانت ہوگئی، مگر حکومتی 14 جماعتی اتحاد نے بعجلت 5 مزید مقدمات جن میں 1970ء میں جنگی جرائم کے مقدمات بھی ہیں، قائم کرکے انہیں دوبارہ گرفتار کرلیا اور انہیں 16 روزہ ریمانڈ پر دیدیا، جہاں ان سے بہیمانہ سلوک جاری ہے۔ ملک بھر میں اس وقت 800 سے زائد جماعت کے کارکنان اور ہمدرد گرفتار ہیں۔ صرف ڈھاکہ شہر سے 300 اور چٹاکانگ سے 278 افراد کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھیکل دیا گیا۔ جماعت اسلامی کی ہمدرد طلبا تنظیم اسلامی چھاترو شبر پر ملک گیر کریک ڈاؤن جاری ہے۔ پوسٹرز اور پمفلٹ چھاپنے پر بھی گرفتاریاں کی جا رہی ہیں۔ جیلوں میں ان پر انسانیت سوز سلوک کیا جارہا ہے۔ بنیادی انسانی حقوق کی بھرپور خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ وکلا تک کو ملنے نہیں دیا جا رہا ہے۔

جس طرح پاکستان کی سیکولر، لبرل، لادین لابی اسلام سے محبت کرنے والوں کو لال مسجد کی طالبات کی طرح پکڑو، جکڑو، روکو کے نعرے لگاتی ہے، اسی طرح بنگلہ دیش کی لبرل لابی کی اس وقت دیرینہ خواہش ہے کہ کسی نہ کسی طرح جماعت اسلامی کی قیادت کو جنگی مجرم قرار دیکر تختہ دار تک پہنچا دیا جائے۔ وہ یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ وہ منظر کھینچتے ہیں کہ جماعت کی قیادت کو پھانسی دینے کے بعد جماعت کی ایسی قیادت آگے آئے گی جو 1971ء کے بعد کی ہے اور یہ قیادت دراصل جماعت کیلئے امید کی نئی کرن ہوگی۔ ان کا مطالبہ ہے کہ جماعت کے زیر اہتمام چلنے والے درجنوں مالی اور غیر مالیاتی ادارے، اسکول، اخبارات، این جی اوز، ٹی وی چینلز پر پابندی لگا دی جائے اور اس پورے کام کے منصوبہ ساز میر قاسم علی کو گرفتار کرلیا جائے۔

پاکستان کی سیکولر لابی افغانستان کے طالبان کو انتہا پسند قرار دیتی ہے۔ ان پر الزام لگاتی ہے کہ وہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ آزادیٴ اظہار اور آزادیٴ رائے کا حق نہیں حاصل تھا۔ جیلیں مخالفین سے بھر دی گئی تھیں۔ مگر دیکھئے اس وقت بنگلہ دیش میں کیا ہو رہا ہے۔ سیکولر حکومت کے تحت جماعت اسلامی کو ہدف بنایا جارہا ہے۔ جماعت کے 800 سے زائد افراد گرفتار کئے جاچکے ہیں۔ قائدین کی نقل و حرکت پر پابندی ہے۔ وہ بیرون ملک سفر نہیں کرسکتے۔ خفیہ ایجنسیاں ان کے ٹیلی فون ریکارڈ کررہی ہیں۔ ان کے مقدمات لڑنے والے وکلا کے چیمبرز اور گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں۔ فروری 2010ء سے کسی بھی جگہ جلسہ کرنے کی اجازت نہیں، اگر کہیں کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں تو اسی دن اور اسی مقام پر عوامی لیگ اور اس کی طلبا ونگ چھترا لیگ جلسہ کرنے کا اعلان کر دیتی ہے۔ پولیس نقص امن کے تحت جماعت کے ذمہ داران کو گرفتار کرنا شروع کردیتی ہے۔ میڈیا ٹرائیل زوروں پر ہے۔ لگتا ہے عوامی لیگ جماعت Mania کا شکار ہو چکی ہے۔ تحریک سے وابستہ افراد کو گھروں اور تعلیمی اداروں سے گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کیا جارہا ہے۔ دفاتر کو نذر آتش کیا جارہا ہے۔ غرض زندگی تنگ کردی گئی ہے… کیا یہ دہشت گردی نہیں؟ کیا یہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کی جارہی؟ آزادیٴ رائے اور آزادیٴ اظہار کا حق ہی چھین لیا گیا ہے۔ کیا یہ سیکولر گردی نہیں؟ سیکولر ازم جو شرافت کا پر فریب لبادہ اوڑھے بیٹھا ہے، کس قدر خوفناک، مکروہ اور جابرانہ چہرہ رکھتا ہے، بنگلہ دیش کی صورتحال میں وہ عیاں ہو چکا ہے۔

ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ جولائی 1972ء میں شیخ مجیب کی زندگی ہی میں ایک قانون وضع ہوا، جس کی رو سے جو بنگلہ دیش کی جدوجہد آزادی میں شریک نہیں ہوا یا سیاسی اعتبار سے اس کی مخالفت کی یا پاکستانی فوجیوں کی مدد کی یا کسی اور جرم کا ارتکاب کیا، اس قانون کے تحت مجرم ہے۔ چنانچہ 24 جنوری 1972ء کو بنے اس قانون کے تحت ایک لاکھ سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان میں سے 37431 افراد کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا گیا۔ صرف 2848 افراد کیخلاف مقدمہ قائم ہوا اور ان میں سے بھی صرف 952 افراد کو سزا ہو سکی، باقی سب بے قصور نکلے۔ 20 نومبر 1973ء کو شیخ مجیب نے جنگ آزادی سے متعلق ان تمام قصور واروں کو عام معافی دے کر رہا کر دیا۔ 31 دسمبر 1975ء کو یہ قانون جنرل ضیاء نے غیر ضروری قرار دیکر ختم کردیا۔ اب اس ”معافی“ کے بعد مقدمات کیوں؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔

بنگلہ دیش میں ایک طرف تو دینی قوتوں اور ان کی دعوتی و تبلیغی سرگرمیوں پر قدغنیں لگا دی گئی ہیں، جبکہ دوسری جانب عیسائی مشنریوں کو اپنا تبلیغی مشن جاری رکھنے کی مکمل آزادی ہے۔ بنگلہ دیش کے مشہور سرحدی اور پہاڑی علاقے چٹاگانگ کی 45 ایکڑ اراضی کو سرسبز و شاداب بنانے والے 62 لاکھ نفوس کو عوامی لیگ کی حکومت علاقہ چھوڑنے پر مجبور کر رہی ہے اور مقامی اور بین الاقوامی مشنریوں کو یہ زمین الاٹ کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے اور مقامی آبادی کا پٹہ منسوخ کر دیا ہے۔ اس عمل میں اقوام متحدہ بھی شامل ہے۔ اگست 2007ء میں حکومت نے اس علاقے سے فوج بھی نکال لی ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ علاقہ دوسرا مشرقی تیمور بنے گا۔

اسی اثنا میں حکومت جماعت اسلامی کی مخالفت میں ایک قدم اور آگے بڑھی اور اسلامک فاؤنڈیشن، جو لائبریریز کی دیکھ بھال کا حکومتی ادارہ ہے، کو حکم دیا کہ مولانا مودودی کی تمام کتب ملک کی 24000 لائبریریز سے نکال لی جائیں۔ بی بی سی کے مطابق اسلامک فاؤنڈیشن کے موجودہ سربراہ شمیم محمد افضل کے بقول مولانا مودودی کی کتب جنگی جنون اور انارکی کو فروغ دے رہی ہیں۔ یہ جملہ سیکولر لابی کا رٹا رٹایا موٴقف ہے، جو وہ بار ہا دہرا چکی ہے۔

70 سالہ امیر جماعت اسلامی مولانا مطیع الرحمن نظامی پانچ بار مسلسل ایم این اے رہے، 25 کتب کے مصنف ہیں اور سابقہ وزیر بھی رہے ہیں۔ اگست 2009ء کو عرب نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ

”اگر قومی سوچ والی جمہوریت اور امن پر یقین رکھنے والی مذہبی جماعتوں کا راستہ روکا گیا تو نتیجتاً ملک میں عسکریت پسندی جنم لے گی۔

بنگلہ دیش اس وقت ایک سیاسی بھونچال سے گزر رہا ہے۔ سیکولر لابی جو ہمیشہ تشدد پسند رہی ہے، سمجھتی ہے کہ اگر جماعت اسلامی بنگلہ دیش پر پابندی لگا کر یا اس کے رہنماؤں اور کارکنان کو پابند سلاسل کر کے یا اس کے رہنماؤں کو تختہ دار پر چڑھا کر تحریک اسلامی کو روک لیں گے یا اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو جائیں گے تو یہ ان کی بھول ہے۔ حکومت کی اپنی کارکردگی یہ ہے کہ تازہ ترین عوامی جائزے کے مطابق 52 فیصد لوگ مہنگائی سے پریشان ہیں اور 56 فیصد سمجھتے ہیں کہ اس کے کنٹرول کیلئے کوئی عملی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ 28 فیصد افراد عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے شبہ رکھتے ہیں، جبکہ 36 فیصد کی کوئی رائے نہیں۔ ایک سال قبل حکومتی کارکردگی سے 62 فیصد لوگ مطمئن تھے۔ آج 53 فیصد افراد مطمئن ہیں۔ پہلے 71 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ حکومت صحیح سمت جا رہی ہے۔ آج 10 فیصد کم ہو کر 62 فیصد کی یہ رائے ہے۔ اس طرح حکومتی مقبولیت کا پہاڑ آہستہ آہستہ گھل رہا ہے۔

افغان طالبان کی اسلام پسندی کو انتہا پرستی سے تعبیر کیا جاتا ہے، تو ان سیکولر عناصر کی انتہا پسندی کو کیا کہا جائے گا؟ شرافت و اخلاق کو رخصت کرنے والوں کو کیا کہا جائے گا؟ اگر ایک آدمی سمجھتا ہے کہ اس کی زندگی کا مقصد اسلامی نظام زندگی کا قیام اور حاکمیت الٰہیہ کا قیام ہے تو پھر اعتراض کیا ہے۔ آپ اپنا کام کریں، اس کو اپنا کام کرنے دیں۔ جمہوری کلچر میں تو دونوں کو ہی پنپنا ہوگا۔ بنگلہ دیش جماعت کا جرم اس کے علاوہ کچھ اور نہیں کہ اس نے اسلامی نظام حیات کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ہے اور 1971ء میں پاکستان کی حفاظت کو مسجد کی حفاظت سے تعبیر کیا تھا۔ مطیع الرحمن نظامی سے اس حوالے سے بھی ایک جگہ سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا

یہ بات طے ہے کہ 16 دسمبر 1971ء کے بعد پاکستان علیحدہ ملک ہے اور بنگلہ دیش علیحدہ۔ جب یہ پاکستان تھا تو ہم اس کے وفادار تھے، اب ہماری ساری وفاداریاں بنگلہ دیش کے ساتھ ہیں۔

دراصل بنگلہ دیش میں موجود ہندو لابی، سوشلسٹ لابی، لبرل اور سیکولر لابی کو جماعت اسلامی سے اپنے وجود کا خطرہ ہے۔ ظلم کی سیاہ رات کتنی ہی تاریک کیوں نہ ہو، صبح نے تو آنا ہی ہوتا ہے۔ اگر جماعت کی قیادت کے مقدر میں شہادت ہے تو یہ اس کیلئے بڑی کامیابی ہے۔ اس کی پیشگی مبارکباد۔ تاہم حقیقت یہی ہے کہ تیتو میر شہید کی یہ سرزمین جس پر انگریز سامراج نہ ٹک سکا، تو سیکولرازم کے حامی کیسے ٹک سکتے ہیں، ہم یہی ہیں گے کہ:

اک ذرا صبر کہ جبر کے دن تھوڑے ہیں


Advertisements
  1. Assalam o Allaikum,
    Thanks kashif bhai for detail analysis of this situation.
    Jamat e Islami and other religious organizations are the realities of Bangladesh.Jamat e Islami Bangladesh, unlike Pakistan enjoys a sizeable support from the people of bangladesh. On the other hand Tableeghi Ijtima in bangladesh is second biggest gathering after Hajj. I have my personal experience of bengladeshis.I found them more religious.They are in mosque more than any other nationality.They observe the fast and prayers more strictly.
    so the question is that awami league or any one else can achieve any thing by banning Jamat e Islami? it seems that liberals and seculars are living in some kind of dream world and trying hard to do all kinds of nonsense.
    the answer of Molana Mute’e ul Rehman Nizami is worth thinking:
    گر قومی سوچ والی جمہوریت اور امن پر یقین رکھنے والی مذہبی جماعتوں کا راستہ روکا گیا تو نتیجتاً ملک میں عسکریت پسندی جنم لے گی۔

    Is bangladesh going to become another test laboratory for globalization like pakistan?

  2. LOL

    Turkey is the “biggest” secular country yet Islam is being practiced more. Turkish PM is being more religious than others while opposing Israel

  3. Allah bless all Muslims and Hell to Kafiroon.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: