Kashif Hafeez Siddiqui

عشق رسولﷺ، روحانیت اور کشمکش

In Clsh of Civilizations, Islam - A Study on February 22, 2011 at 11:33 am

عشق رسولﷺ، روحانیت اور کشمکش

کاشف حفیظ صدیقی

ا

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ربیع الاول کا مہینہ آتے ہی دل میں عشق رسول ﷺ کی نئی امنگ جاگ اٹھتی ہ ے۔ خود اندر سے خیال آتا ہے کہ نعتیں سنی اور پڑھی جائیں۔ بقول اقبال عظیم جو بلاشبہ نعت کی صنف کے بے تاج بادشاہ ہیں۔ دل کی کیفیت کو اس طرح بیان کرتے ہیں۔

 

جو پوچھا ہے تم نے کہ میں نذر کرنے کو کیا لے گیا تھا تو تفصیل سن لو

نعتوں کا ایک ہار، اشکوں کے موتی، درودوں کا گجرہ، سلاموں کی ڈالی

 

جب عشق محمدﷺ کی بات آتی ہے تو خیال یہ آتا ہے کہ آخر مالک کائنات کو انبیا علیہ السلام کے نزول کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے اور انسانی تاریخ میں ایسے صالح بندے اتارے ہی کیوں گئے؟ تو اس کا جواب ہم کو سورہ النحل (36) میں جاکر ملتا ہے کہ جس میں رب وحدہ لاشریک یہ فرماتا ہے کہ

اور ہم نے ہر قوم میں ایک پیغمبر بھیجا جس نے یہ پیغام دیا کہ اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے پرہیز کرو“

یعنی حضرت انسان بار بار رحمان کی اطاعت وبندگی سے باہر نکل کر اپنے رب کی قائم کردہ حدود کو پھلانگتے ہیں اور شیطان کے دائرہ میں اچھل کود کو زندگی اور عقل مندی سمجھتے ہیں، انکی اس ٹیڑھی روش کو سدھارنے کیلئے اور واپس صراط مستقیم پر چلانے کیلئے انبیا کرامؓ کو اتارا گیا۔

سورہ فاطر (24) میں رب رحمان وکریم فرماتا ہے کہ

کوئی قوم ایسی نہیں گزری ہے جس میں کوئی متنبہ کرنے والا نہ آیا ہو“۔

مگر کیا کیا جائے کہ حضرت انسان اپنی غلط روش پر نہ صرف اتراتے رہے ہیں بلکہ اٹھلاتے بھی رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ ایک بڑا کام کررہے ہیں۔ اللہ سے بغاوت کے کئی نام اور کئی عنوانات ہیں۔ ایک طرف اللہ کے نازل کردہ رحمانی احکامات ہیں تو دوسری طرف شیطانی انکار۔ کشمکش ازل سے جاری ہے۔

نوحؑ، ہودؑ، ابراہیمؑ، موسیٰ ؑ کا الہامی نعرہ مستانہ ایک طرف تھا تو فرعون، نمرود، ہامان، شداد، ابوجہل کا جاہلی انکار اور غروروتکبر دوسری طرف۔ اس صورت حال کو سورہ النحل میں اس طرح کہا گیا کہ

”بخدا ہم نے ﴿اے محمدﷺ﴾ تم سے پہلے مختلف امتوں کی طرف ہدایت بھیجی، مگر اس کے بعد شیطان نے ان کے غلط اعمال کو ان کیلئے خوشنما بنادیا۔ چنانچہ آج وہی ان کا سرپرست بنا ہوا ہے اور وہ دردناک عذات کے مستحق ہوگئے ہیں اور ہم نے تم پر یہ کتاب صرف اس لئے نازل کی ہے کہ تم اس حقیقت کو ان کے سامنے واضح کردو، جس میں ان کے درمیان اختلاف ہوگیا ہے اور اس لئے کہ یہ کتاب ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کیلئے جو اس کی پیروی اختیار کرلیں“۔  (63-64)

اس طرح معلوم ہوا کہ نبی کریمﷺ کی ذات اقدس کو اس عالم ثبات میں ودیعت کرنے کا مقصد اس کے علاوہ کچھ اور نہیں تھا کہ وہ بنی نوع انسان کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر رحمان وکریم کے عطا کردہ عادلانہ نظام کے اندر سمو دیا جائے۔ اسی مقصد کی جدوجہد میں آپﷺ نے تکالیف اور مصائب اٹھائے۔ مشکل ترین حالات میں مکہ کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک ایک عورت کے سفر کا ذکر اس طرح کیا کہ وہ گویا سونا اچھالتے جائے گی، مگر اس کو سوائے اپنے رب کے کسی کا خوف نہ ہوگا۔ اس جدوجہد میں کامیابی اور اس کی حقانیت پر اس طرح کامل یقین تھا کہ کہا”اگر سیدھے ہاتھ پر سورج لاکر رکھ دو اور الٹے ہاتھ پر چاند بھی تو بھی اس دعوت حق سے ایک قدم پیچھے نہیں ہٹوں گا“۔ اور یہی وہ ایمانی طاقت تھی کہ جو غزوہ خندق میں ایک پہاڑی کو توڑتے ہوئے قیصروکسریٰ اور مصر کی فتوحات کی بشارت دے رہی تھی مگر ساتھ میں لازمی جز کلمہ توحید پر کامل ایمان تھا اور آپ کے صحابہؓ کا اس حد تک کامل ایمان کہ انگارے پر بھی احد احد پکارنے لگیں اور پتھر جیسے دل نرم پڑ کر موم بن جائیں۔ جو جانیں نکلتے وقت پکار کر کہیں کہ”اللہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا“ جو زمین پر قابض قوتوں کو پیغام دیں کہ”ہم اس لئے آئے ہیں تاکہ انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی غلامی دے دیں“ اور”تمہارا سابقہ ایک ایسی قوم سے پڑا ہے جو موت کو اسی قدر محبوب رکھتی ہے کہ جتنا تم زندگی کو“۔

شہر مدینہ خود اپنی ہیئت میں ایک گلوبل سوسائٹی تھا۔ جہاں ایران کے سلمان فارسیؓ، یورپ کے صہیب رومیؓ، حبش کے بلالؓ، تہامہ کے  بدو اور یمن کے مسکین دوش بدودش کھڑے ہونے پر نازاں تھے۔ مکہ کے مہاجر اور مدینہ کے انصار گویا دو جسم ایک قالب تھے اور ان سب کی وجہ یکجہتی کلمہ توحید کی زنجیر تھی۔ یہ اسی کی مئے تھی جس نے سب کو جذبہ اخوت میں مدہوش رکھا ہوا تھا۔ یہاں مال ومنصب لائق فخر نہیں تھا بلکہ ذمہ داری کا بوجھ سمجھا  جاتا تھا۔ یہ لوگ وہی تھے کہ جن کو دشمن بھی رات کے راہب اور دن کے مجاہد کہتے تھے۔

یہ وہ لوگ تھے کہ جن کے عشق رسولﷺ پر کوئی دورائے نہیں۔ یہ وہ کوہ گراں تھے کہ جن کے پاس ہاشمی احکامات کے بعد وہ لیکن اگر، مگر کے الفاظ نہ تھے جو”سمعنا واطعنا“ پر یقین رکھتے تھے۔ ان کا طریقہ یہ نہیں تھا کہ جو ہمارا ہے کہ رات بھر عشق رسولﷺ میں نعتیں سنیں مگر فجر کی نماز باجماعت تو کجا بلا جماعت بھی نہ پڑھ سکے جو چراغاں کیلئے کنڈے لگائین اور خود کو بچاکر دوسروں کا ضرر گوارا کریں۔

کیا آپ نے کبھی ایسا نوکر دیکھا ہے کہ جو اپنے مالک کے حسن اور اس کے جلووں کی تو تعریف کرے مگر اپنے مالک کے ناشتہ بنانے کے حکم پر عمل نہ کرے، جو اپنے مالک کے کہنے پر چائے کا ایک کپ بھی نہ بناسکے، مگر اپنے مالک کے اخلاق کی تعریف میں رطب اللسان ہو، جو اپنے مالک کے معیار انتخاب کی تو قلابیں ملائے مگر اس کے احکامات کی بجا آوری نہ کرے۔ قارئین ایسے مالک وخادم کا نبھا تو شاید اگلے روز بھی نہ چل سکے، کیونکہ اس کا خادم یا نوکر کو رکھنے کا مقصد اپنی تعریف کے گن سننا نہیں تھا بلکہ اس کا مطلوب تو اپنے لئے سہولیات  کا انتظام تھا۔

مگر یہاں معاملہ الٹ ہے، مالک دو جہاں کیلئے یہ سب چیزیں بیکار ہیں۔ وہ اس سے بے نیاز ہے، اس کا مطالبہ اپنے خلیفہ یعنی حضرت انسان سے اس کے سوا کچھ اور نہیں کہ اس کی بندگی کرے اور اس کی بندگی صرف اس کی اطاعت اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام ہی بھیجنا نہیں بلکہ اس کی اپنے نبیﷺ پر اتاری گئی شریعت کو زندگی کے ہر شعبہ میں برتر حیثیت میں قائم کرنا ہے۔ رب دو جہاں کی مرضی وہ منشا اور اس کے احکامات کی عدالت میں، سیاست میں، معیشت میں، عبادت میں، قوانین میں، تعلیم میں، داخلی وخارجہ پالیسیوں میں، امن میں، جنگ میں، صحافت میں، میڈیا میں، مدارس میں، خانقاہوں میں ہر جگہ اولین ترجیح اور بطور ضابطے کے قائم کرنے کے عمل کو فریضہ اقامت دین کہتے ہیں اور یہی ہمارا مقصد حیات ہے۔

میرے ایک رفیق محترم نے کہا کہ تم سیاسی باتیں کرتے ہو، اس میں روحانیت عنقا ہے، میں ان کو کیا بتاؤں کہ  تصوف دراصل احسان ہے اور احسان کی تعریف مشہور حدیث جبرئیل میں نبی کریمﷺ اس طرح کرتے ہیں کہ ﴿مفہوم﴾ تم اس طرح تصور کرو کہ گویا تم خدا کو دیکھ رہے ہو اور اگر دل کو اس پر راضی نہ کرسکو تو یہ تو سمجھ لو کہ وہ تو تم کو دیکھ ہی رہا ہے۔

سورہ الاعراف میں اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے (156)”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دو کہ اے انسانو میں تم سب کی طرف، اس خدا کا رسول ہوں جو آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک ہے، جس کے سوا کوئی خدا نہیں، جو مارنے اور جلانے والا ہے۔ پس ایمان لاؤ خدا پر اور اس کے رسول نبی امیﷺ پر جو خدا اور اس کے فرامین پر ایمان رکھتا ہے اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ راست پالو“۔

روحانیت اگر اپنے اڑوس پڑوس سے لاتعلق ہوکر صرف ذکر الہیٰ ہے تو یقین رکھئے کہ خدائے بزرگ وبرتر کو یہ مطلوب نہیں۔ حدیث میں ایک ایسے ہی شخص سے متعلق روایت ہے کہ جو ذکر میں تو بہت آگے تھا، کبئر سے اجتناب برتتا تھا، مگر معاشرے کے حالات سے لاتعلق تھا تو فرشتے کو پوری بستی کو اس پر الٹ دینے کا حکم خداوندی ہوا کیونکہ وہ امربالمعروف ونہی عن المنکر کے عمل سے یکسر محروم تھا۔ توجہ کا محور صرف میں اور میرا خاندان ہو اور باقی سب سے لاتعلقی بے حسی میں شمار ہوتی ہے جو سراسر عشق رسولﷺ کے مناطی ہے۔

ایک ایسا معاشرہ، ایک ایسا نظام، ایک ایسی معیشت، ایک ایسی ثقافت، ایک ایسی معاشرت، ایسے ذرائع ابلاغ جو دین ومذہب سے بیگانے ہوں اور مسلم اکثریتی علاقوں میں اپنا شیطانی وجود بھی رکھتے ہوں وہاں روحانیت کیسے نصیب ہوسکتی ہے۔ ذرا تو کوئی سوچے کہ جب عصبیت وقومیت کی زہریلی سیاست امت کی جڑوں کو کھوکھلا کررہی ہو، جب شخصیت پرستی، نظریہ وجود کے تصور کو ہی کھا رہی ہو، جب لادینیت اور الحاد دین کی موجودگی کو چیلنج کررہا ہو، جب مذہب کے نام پر غلو کیا جارہا ہو، جب فرقہ واریت کو عین اسلام سمجھ لیا گیا ہو، جب لوگ سچ کہنے پر غائب کر دئیے جارہے ہوں اور جب اہل حق کو سیاسی ہونے کا طعنہ دے کر راستے سے ہٹایا جارہا ہو، یعنی سچائی کو دھندلا کیا جارہا ہو اور اندھیرے کو اجلا بتایا جارہا ہو، تو ان حالات میں لاتعلقی اختیار کرنے والے اور اپنا وزن کشمکش کے کسی ایک پلڑے میں ڈالنے کے بجائے دور سے طوفان کا نظارہ کرنے والوں کے ساتھ اپنا وجود الگ کھڑا کرکے یہ سمجھتے ہوں کہ وہ ان طوفانی ہواؤں سے بچ جائیں گے، تو وہ جنت الحمقا میں رہتے ہیں۔ کامیاب صرف وہی ہے جو کشمکش میں پرچم حق اٹھائے، باطل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نفع ونقصان کے نتائج سے بے پروا ہوکر حق کی مئے کا جام لنڈھا کر یہ اعلان کرے کہ

محفل شیشہ و جام خطرے میں ہے

جنت بارہ آشام خطرے میں ہے

میری آواز میں ہے بغاوت کی بو

کوئی پنجرہ ہو یا دام خطرے میں ہے

اک قیامت ہوا نعرہ لا الہ

لذت عشق اصنام خطرے میں ہے

یہ حقیقت نہیں کہ ہم آج شدید امریکی وصیبی دباؤ میں ہیں۔ امریکی ایجنٹ ریمنڈ ڈیوس دو پاکستانیوں کو قتل کرتا ہے اور اس کی سفارتی استثنا کی سب سے زیادہ حمایت سیکولر نام نہاد روشن خیال کرتے ہیں، جو دراصل بے خیال لبرل فاشسٹ لابی سے تعلق رکھتے ہیں۔ قوم کی غیرت ڈاکٹر عافیہ امریکی قید میں جرم ناکردہ کی سزا پارہی ہے اور ریمنڈ کو جیل میں چاکلیٹ دی جارہی ہے۔ اگر کوئی استقامت دکھاتا ہے تو شاہ محمود قریشی کی طرح کھڈے لائن لگا دیا جاتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ عالم اسلام کی سب سے بڑی اور قوت والی فوج کے سپہ سالار کو فون کرتی ہے اور مداخلت کا مطالبہ کرتی ہے۔ ٹی وی کے پروگرام پچاس منٹ  میں سیکولر جغادری ریمنڈ ڈیوس کے معاملے Logic   کی بنیاد پر دیکھتے ہیں اور امریکی موقف کی حمایت کرتے ہیں اور اس سلسلے میں مذہبی جماعتوں پر سیاست کرنے کا الام لگاتے ہیں اور ملت اسلامیہ پاکستان کے مسلمان یہ سب کچھ آنکھ بند کرکے دیکھتے، سنتے اور برداشت کرتے ہیں۔ ان آوازوں میں آوازیں بھی نہیں ملاتے جو علی الاعلان کہہ رہی ہیں کہ

وطن کے بیدار سورماؤ

اٹھاؤ اپنا علم اٹھاؤ

جہاں پہ یہ کردیں آشکارہ

ہمیں غلامی نہیں گوارہ

 

آج کی روحانیت اس کے سوا کچھ اور نہیں کہ سنت نبویﷺ کو دامن میں سجاکر اسوہ رسولﷺ کی آنکھوں میں بسا کر نظام محمدیﷺ کو سر کا تاج بناکر، نظام مصطفیٰﷺ کے قیام کیلئے جدوجہد کی جائے۔ ایک پرامن، منظم اور پرمغز جدوجہد جو اصولوں اور ضابطوں پر مبنی ہو، سیکولر اور لادین قوتوں سے، ہر ہر محاذ اور ہر ہر قدم پہ جدوجہد، اسلام کو ایک متبادل نظام کے طور پر  پیش کرنے کی جدوجہد امریکی غلامی سے انکار کی جدوجہد، مغربی تہذیب وثقافت کے ابطال کی جدوجہد، اصلاح معاشرہ براستہ دعوت دین مبین کی جدوجہد، زمین پر اللہ کے نظام کے قیام کی جدوجہد، یعنی رب کی دھرتی رب کے نظام کی جدوجہد، اقلیتوں کے حقوق اور ان کی جان ومال کی حفاظت کی جدوجہد، باطل نظریات کی بیخ کنی کی جدوجہد، معاشرتی برابری کی جدوجہد، ایک بامقصد نظام تعلیم کی جدوجہد، ایک بے خوف عدالتی نظام کی جدوجہد، جہاں انصاف فوری اور آسان ہو، ایک سود سے پاک اسلامی معیشت اور اسلامی معاشی نظام کی جدوجہد، ایک شرم وحیا اور اخلاق سے منور معاشرے کی جدوجہد، ایک آزاد اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جدوجہد، جہاں اسلام کا بول بالا ہو، اس عزم اقبال کے ساتھ کہ

قوت عشق سے ہر پست کو بالا کردے

دہر میں اسم محمدؑ سے اجالا کردے

  1. […] عشق رسولﷺ، روحانیت اور کشمکش […]

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: