Kashif Hafeez Siddiqui

فیض احمد فیض، جنہیں میں نے جانا اور فیض میلہ

In Books & literature, Urdu Columns on November 20, 2017 at 2:12 pm

فیض احمد فیض، جنہیں میں نے جانا اور فیض میلہ
==============================

فیض صاحب پر میرا ایک کالم “فیض احمد فیض، جنہیں میں نے جانا ” جو ۲۰۱۱ میں چھپا ۔ لگتا ہے کہ آج بھی Relevant ہے ۔ زرا وقت نکال کر مطالعہ کیجئے

https://kashifiat.wordpress.com/…/%D9%81%DB%8C%D8%B6-%D8%…/…

فیض صاحب کے حوالے سے لاہور میں تین روزہ “فیض میلہ” منعقد ہواْ ۔ اخباری اور ٹی وی کی کوریج کے مطابق یہ میلہ اداکاروں ، گلوکاروں ، موسیقاروں اور رقاصوں نے لوٹ لیا ۔ اب فیض کی شاعری عرفان کھوسٹ، ثمینہ پیرزادہ، مدیحہ گوہراور بشریٰ انصاری عوام کو بتائیں گے

download (15)

مجھے تو لگا کہ اس میلے میں ادیب اور ادب کے علاوہ باقی سب کچھ تھا ۔ بس یہ معلوم ہوا کہ ایک سیشن ہوا جس میں دو نوبل انعام یافتہ مصنفین جن کا تعلق ترکی اور مصر سے تھا مگر پاکستان یا فیض سے نہیں تھا ، تقاریر کیں اور بقول دی نیشن مستنصر حسین تارڈھ کی گفتگو حاصل سیشن تھی ْ

باقی ترقی پسند تحریک کی انقلابیت تو سرخ سویرے کے خواب تکنے والوں کو تکتا چھوڑ کر خود ماسکو اور بیجنگ میں دفن ہوگئ ۔ نہ مزدوروں کے دل ہیں نہ ہی احمریں پرچم ۔ اب اس سوچ کے علمبردار مہنگی سگریٹ اوربڑھیا مشروب پی کر عالمی مساوات اور گلوبلائیزیشن کا زکر پل کے اس پار بیٹھ کر کرتے ہیں اور اپنے آپ کو لبرل کہتے ہیں

ان محفلوں میں ہر وہ آدمی شریک تھا جوبڑی سی گاڑی سے اترا ۔ انکی اکثریت فیض کی کسی دو نظموں کو صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھنے سے قاصر ہیں ۔ مغربی لباس میں ملبوس خواتین فیض میلہ کو سجانے نکل چکی تھیں اور معراج خالد جیسے نظریاتی تڑپ رہے ہوں گے کہ اب لال صرف بینڈ کی صورت میں ہی باقی رہ گیا ۔

آئیے فیض صاحب کی نظم سے لظف لیں

اے حبیبِ عنبر دست!
کسی کے دستِ عنایت نے کنجِ زنداں میں
کیا ہے آج عجب دل نواز بندوبست
مہک رہی ہے فضا زلفِ یار کی صورت
ہوا ہے گرمیء خوشبو سے اس طرح سرمست
ابھی ابھی کوئی گزرا ہے گل بدن گویا
کہیں قریب سے ، گیسو بدوش ، غنچہ بدست
لیے ہے بوئے رفاقت اگر ہوائے چمن
تو لاکھ پہرے بٹھائیں قفس پہ ظلم پرست
ہمیشہ سبز رہے گی وہ شاخِ مہرووفا
کہ جس کے ساتھ بندھی ہے دلوں کی فتح و شکست
یہ شعرِ حافظِ شیراز ، اے صبا! کہنا
ملے جو تجھ سے کہیں وہ حبیبِ عنبر دست
“خلل پذیر بود ہر بنا کہ مے بینی
بجز بنائے محبت کہ خالی از خلل است”

(سنٹرل جیل حیدر آباد ٨٢)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: