Kashif Hafeez Siddiqui

Archive for December, 2017|Monthly archive page

ظالم کا غرور اور ہماری بے بسی

In pakistan, Pakistan History, Urdu Columns on December 29, 2017 at 12:24 pm

بابے_رحمتے !!! انصاف پھر 5 لاکھ کے مچلکے پہ بے بس ہے#
ایک ایم پی ائے ۔ پھر عدالت سے گزر کہ جیل کے باہر کھڑا ہے

اکڑ رہا ہے ۔ غرور اور تکبر سے سینہ پھلائے کھڑا ہے کہ دیکھو میرا کون کچھ بھی بگاڑ سکا

download (27)
اور اسکے حواری قاتل کو پھولوں کی پتیوں سے استقبال کر رہے ہیں
اور مقتول کی قبر پہ آنسو بہانے والے شاید پھول کی پتیاں بھی غربت کی وجہہ سے نہیں ڈال سکتے

146934_034204_updates

ایک بار پھر #طاقتور_ ظالم جیت گیا اور
مظلوم_مقتول ۔ #انصاف کے دروازے پہ ہی دفن ہو گیا#

اور یہ #ظلم اسلئے ہے کہ
اللہ کا قانون اس زمین پہ نافذ ہی نہیں
اور ہم اسکی جدوجہد کرنے کو تیار نہیں

Advertisements

دسمبر 27, اک داستان خونچکاں

In pakistan, Pakistan History, Urdu Columns on December 27, 2017 at 7:13 am

دسمبر27، 2007 پاکستان کی تاریخ کا ایک اندھوناک دن تھا جس میں بلا شبہ پاکستان کے تمام چار صوبوں میں مقبول رہنما #بے_نظیر_بھٹو کو بیدردی سے قتل کر دیا گیا تھا . اگر یہ نعرہ لگایا گیا کہ “چاروں صوبوں کی زنجیر ۔ بے نظیر بے نظیر” تو قطعی غلط نہیں تھا ۔ یقینا #بے_نظیر_بھٹو #وفاقکی علامت تھیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کو اپنی نڈر قیادت کے زریعے بہت آگے لےجا سکتی تھیں مگرافسوس کہ وہ کسی سازش کا شکار ہو گئیں اور انکو موت کی نیند سلا دیا گیا

Rare-newspapers-Rare-edition-of-Dawn-December-28-2007-giving-news-of-Benazir-Bhuttos-assassination-on-December-27-2007-Old-and-rare-newspapers-about-Pakistan

مگر یہی دن #پاکستانیوں کیلئے ایک بھیانک ترین دن بھی تھا ۔ ایسا دن جس میں ہر شخص ایک داستان آج تک ہے – جب #پاکستان کی گلی کوچوں اور شاہراؤں پہ سینکڑوں گاڑیاں جلا دی گئیں پچاس کے قریب افراد بے نظیر کے ساتھ ساتھ موت کے گھاٹ اتار دئیے گئے ، بینکز لوٹے گئے اور بستیوں پہ منظم حملے کیئے گئے ؛ اسکولز اور ٹرینز جلا دی گئیں ۔ یہ سب اسقدر آناً فاناً ہوا کہ کوئ نہ سنبھل سکا ۔

مگر آج ان تمام افراد کی بھی برسی اور یوم شہادت ہے جو اس دن بے #بے_نظیر_بھٹو کی طرح#بےقصور مار دئیے گئے تھے ۔ اس عرصہ میں انکے اہل خانہ کس کرب سے گزرے اسکا حساب بھی ضروری ہے

1100323158-1

یہاں مجھے کہنے دیجئیے اس دن #ریاست اپنے شہریوں کی حفاظت میں قطعی ناکام تھی جس کی زمہ داری پرویز مشرف کو جاتی ہے ۔ ابھی تک یہ عقدہ نہیں کھلا کہ جب شہروں کو لوٹا جا رہا تھا اور ملک انارکی کا شکار تھا ْ اس دن #پاکستانی_افواج بیرکوں میں بیٹھی کیا کر رہی تھیں ؟ عام شہریوں کو لوٹ مار کرنے والوں کے رحم و کرم پہ کیوں چھوڑ دیا گیا تھا ؟ کیا ہماری حفاظت کی زمہ داری#افواج_پاکستان کی نہیں تھی . اس غفلت کی براہ راست زمہ داری ریاست کے زمہ دار اور افواج پاکستان کو بھی جاتی ہیں

اس بات کو بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ اس خطرناک ماحول میں #آصف_علی_زرداری کا #پاکستان_کھپےکا نعرہ بروقت اور دلیرانہ کام تھا۔ اسکی تعریف بہت ضروری ہے۔ سیاسی مخالفت برائے مخالفت درست نہیں

1100322924-1

بہرحال 27 دسمبرہمیشہ بطور داستان خونچکاں ہی یاد کیا جائے گا ۔ اگر#بے_نظیر_بھٹو کو یاد کیا جائے گا تو اس روز #پاکستان کی مظلومیت اور لوٹ مار کے منظم واقعات کو بھی یاد رکھا جائے گا ۔
صرف #بے_نظیر_بھٹو نہیں بلکہ آج متاثر ہونے والے ہرہرفرد کو بھی یاد رکھا جائے گا ۔

اس بازوئے قاتل کو چومو کس شان سے کاری وار کیا

In Govt., Karachi Karachi, Urdu Columns on December 25, 2017 at 2:41 am

اس بازوئے قاتل کو چومو کس شان سے کاری وار کیا

25591848_10155137371963341_3088125866605911505_n

نعیم صدیقی نے یہ بات تو کسی اور پیراہے میں کہی تھی مگر اب معاملہ نہایت جدا ہے ۔ بظاہر #طاقتورسربلند اور
#قانون_و_انصاف سرجھکائے ہسپتالوں سے پانی کے نمونے تلاش کرتا پھر رہا ہے ۔ #بابا_رحمت کسی چوک پہ سر ندامت سے جھکائے زمین کو گھور رہے ہیں

کاشف نصیر بھائی بجا فرماتے ہیں کہ قانون دیت کے تحت #شاہ_رخ کیس کا فیصلہ درست ہے ۔ اس میں کیا شک کہ مظلوم کے پسماندگان نے اخباری اطلاعات کے مطابق کوئ 270 ملین روپیئے ۔ ڈی ایچ ائے میں 500 گز کا بنگلہ اور آسٹریلیا میں ایک اپارٹمنٹ لیکر اللہ کی رضا کیلئے معاف کر دیا۔

مگر یہ کیس کئ ایک دیگر #پہلو بھی رکھتا ہے

◇ اس کیس میں #سول_سوسائیٹی کا تو پتہ نہیں البتہ #معاشرہ مقتول کے ساتھ کھڑا تھا ۔ اسکی پوری#اخلاقی اور #جزباتی حمایت #مقتول کے خاندان کی پشت پہ تھی۔ انکی دعائیں اور تمنائیں مقتول کی ماں کیلئے تھیں

◇ ڈی ایس پی صاحب سے توقع رکھی جا رہی تھی کہ وہ معاشرے میں طاقتور طبقے کو کنٹرول کرنے کیلئے استقامت کا مظاہرہ کریں گے ۔ مگر انہوں نے ثابت کیا کہ وہ #DSP ہی رہے ۔ عادت اور روایت کے خلاف تو اپنے بیٹے کے معاملے میں بھی نہیں گئے ۔ اچھی ڈیل کی موصوف نے اپنے ہی بیٹے کے خون کی ۔

◇ قاتل کے چہرے پہ روز اول سے سجی مسکراہٹیں ۔ فتح کے نشان ۔ بشاش چہرے ۔ مڈل فنگر دکھاتے فوٹوز ۔ اسکے ساتھیوں کی ہنسی اور مبارکبادیں ۔ جناح ہسپتال میں برائے نام ۔ نمائیشی بطور مریض قیام ۔ قانون کی دھجیاں اڑاتا پروٹوکول ۔ اور واضح ڈیل معاشرے کے #حساس_طبقے کی بے بسی کی داستان ہے ۔ جس سے یہ #اہل_دل لوگ شدید کرب کا شکار ہیں

1591239-ShahrukhJatoiphotoatharkhanexpress-1514039167-126-640x480

◇ قانونی طور پہ جو کچھ ہوا شاید درست ہو مگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس صورت حال نے#انصاف پہ یقین کم نہیں ختم کیا ہے ۔ #قانون کو بالا دست سمجھنے والے آج اپنی کم مائیگی پہ نوحہ کناں ہیں ۔ #انصاف کے اس جنازے پہ مرثیہ خواں اور ماتم کناں ہیں

◇ #دیت کے ساتھ ایک اور معاملہ #توبہ_استغفار اور #احساس_ندامت کا بھی ہے۔ اس بات کے اظہار کا بھی ہے کہ خطا ہوئ ہے اور مجھ کو اپنے کیئے پہ شرمساری بھی ہے ۔ یہاں تو یہ معاملہ مفقود ہی نہیں بلکہ الٹ ہے ، اس لیئے جذبات میں اشتعال مزید پایا جاتا ہے

◇ کورس کی کتاب میں مدتوں پہلے پڑھا تھا کہ “آخر ت نہ ہوتی تو قدرت ظالم ہوتی”۔ یقینا آخرت میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا ۔ مگر اگر دنیا میں ظلم و ستم اسی طرح بالا دست رہے گا تو قانون کی تعظیم ختم ہو جائے گی جو کسی بھی مہذب معاشرے کیلئے زہر قاتل ثابت ہو گا ۔

◇ اللہ یقینا ظالموں کے ساتھ نہیں اپنے مظلوم بندوں کے ساتھ ہے ۔ اسکا انتقام اور معاملہ نہایت عبرت انگیز ہے جو سوچنے والوں کیلئے درس عبرت بنتا ہے اور یہاں بھی ایسے ہی ہو گا ۔ انشاء اللہ

Do More اور No More

In America, Clsh of Civilizations, I Hate USA, Urdu Columns on December 22, 2017 at 10:54 am
امریکی نائیب صدر مائیک پینس افغانستان میں امریکی افواج سے اپنے خطاب میں پاکستان کو کھلے عام دہمکی دیتے ہیں اور
فرماتے ہیں کہ “دونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو واچ لسٹ پہ رکھا ہوا ہے “
177253_6050817_updates.jpg
ان کا فرمانا ہے کہ “دہشت گردوں کو پناہ دینےکے دن ختم ہوگئے، پاکستان کو امریکا کی شراکت داری سے بہت کچھ حاصل ہوگا، لیکن دہشت گردوں اور مجرموں کو پناہ دینے سے بہت کچھ کھونا پڑے گا’۔”
انکا مزید فرمانا تھا کہ “کسی بھی ملک کے ساتھ شراکت داری اُس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک ایک پارٹنر دہشت گردوں اور جنگجوؤں کی مدد کرتا رہے، ایک پارٹنر دہشت گردوں کی مدد کرتا رہے تو شراکت داری کامیاب نہیں ہوسکتی، امریکا کو عالمی دہشت گردوں اور پاکستان میں سرگرم جنگجوؤں سے آج بھی خطرات کا سامنا ہے”
یہ ہے وہ لب و لہجہ جو “Do More” کے نعرے کے ساتھ پاکستان کے ساتھ اختیار کیا گیا ۔ جی ہاں وہی پاکستان جس کے ٹھمکے لگانے والے صدر ایک ہی کال پہ لیٹی پوزیشن پہ چلے گئے تھے ۔ جن کے بہادر جرنیلوں نے طالبان کے سفیر کو امریکہ کے حوالے اس حالت میں کیا کہ جب اسکے جسم پہ ایک چیتھڑا بھی نہیں تھا ۔ ملک سے سینکڑوں افراد کو امتیکہ کے حوالے کر کے ڈالر لیئے گئے ۔
“سب سے پہلے پاکستان” کا نعرہ لگا کر ملک کی خودمختاری کو ہی داؤ پہ لگا دیا گیا ۔ مگر بعد میں کود ہی احساس ہوا کہ ہم زلت کے عمیق گھڑے میں گرتے جا رہے ہیں ۔ آپ اس جنگ کو اپنی زمین پہ لے آئے ہیں جس کے آپ حصہ دار ہی نہیں ۔ سانحہ باجوڑ سے لیکر سانحہ اے پی ایس تک پاکستانی ہی زمین سرخ ہوئ ۔ اس عرصے میں اسامہ بن لادن سے لیکر ملا منصور سب پاکستان ہی میں کھیت ہوئے ۔
اب پاکستان کا موقف ہے کہ اب امریکی لڑائ پاکستانی سرزمین پہ نہیں لڑی جائے گی ۔ اب پاکستان کے مطلوب دہشت گردوں کے امریکی اور افغانی سیف ہیونز مزید برداشت نہیں ۔ موقف یہ بھی اختیار کیا جا رہا ہے کہ امریکہ ۔ تم کو پاکستان کی ضرورت زیادہ ہے بانسبت پاکستان کو تمہاری ۔ پاکستان کو افغانستان میں بھارتی کردار بھی قبول نہیں جو مسلسل بڑھتا جا رہا ہے ۔ جس پارٹنرشپ کی امریکی خواہشمند ہیں اسی طرح کی پارٹنرشپ کی اب پاکستانی بھی خواہش مند ہیں
اہل پاکستان کو سمجھ لینا ہو گا کہ پاکستان کیلئے آزمائیش کے دن بہت ہیں ۔ پاکستانی فضائیہ کے موجودہ اور ان سے قبل کے سربراہان کی دفعہ یہ اعلان کر چکے ہیں کہ ہم ڈرونز کو گرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر اسکا عملی مظاہرہ آج تک نہیں کیا جا سکا
امریکہ کے خلاف قرارداد کی حمایت تو اسرائیل سے سفارتی تعلقات رکھنے والے بھارت نے بھی کی ہے تو کیا امریکہ اسکے خلاف کوئ کاروائ کرے گا ؟
غیرت اور ڈالرزکے حصول کی خواہشات میں بہت فرق ہے۔ یقینا پاکستان روس کے قریب ہوا ہے مگر امریکہ کو “No More” کہنے کی ہمت کاسہ لیسوں کی بس کی بات نہیں
امریکہ کے خلاف کل ۱۲۸ ممالک نے باوجود امریکی کھلے عام دہمکی کے امریکہ کے خلاف ووٹنگ کی ایک بڑی وجہہ عوامی دباؤ بھی ہے ۔ جو کراچی سے لیکر جکارتہ کے میدانوں تک نظر آیا ۔ یورپ میں بڑے بڑے مظاہرے نظر آئے ۔
یہ ایک کامیابی ہے ۔جس سے حوصلہ ملتا ہے
باوجود امریکی لفظی ہٹ دھرمی کے عملی طور پہ بیت المقدس میں سفارت خامہ منتقل کرنا اسقدر آسان نہیں ۔
ہم کو بین الاقوامی بدلتے تناظر میں ہروقت مستعداورچوکس رہنے کی ضرورت ہے
ابھی مزید امتحان سامنے سامنے ہیں
ایمانیات میں جب تک اللہ وحدہ لاشریک لہ کا تصور راسخ نہ ہو تو ہمارے درمیان ہی ایسے افراد بھی موجود ہیں جو ہم کو کھندڑ بن جانے اور موت کے خوف سے ڈرا کر غلامی پہ قائل کرتے رہیں گے

ابصار عالم ۔ سابق چیئرمن پیمرا ۔ ایک تن آور درخت

In Govt., Miscellaneous, pakistan, Urdu Columns on December 18, 2017 at 1:00 pm
ابصار عالم ۔ چیئرمین پیمرا کو بھی ایک عدالتی حکم کے تحت گھر بھیج دیا گیا ۔ یہ حکومت وقت کا استحقاق ہے کہ حکومتی مشینری کے عہدوں پہ اپنی مرضی اور منشا کے لوگ مقرر کرے تاکہ اپنی حکومت اپنی ترجیحات اور انتخابی منشور کے مطابق اداروں کی پالیسیاں مرتب کرے
DRULkRzX0AAVE5t
#پیمرا بھی ایک ایسا ہی حکومتی ادارہ ہے جہاں جو بھی لوگ اقتدار میں ہوں گے وہاں وہ اپنی مرضی ، منشا اور ترجیح کا ہی آدمی لائیں گے
 
#ابصار_عالم نے بطور چیئرمن پیمرا بے شمار مثبت اور تعمیرئ کام کیئے ۔ میڈیا کے بے لگام گھوڑے کو سنبھالنا آسان کام نہیں ۔ دوسری طرف کیبل آپریٹرز کی شکل میں بلیک میلرز کا ایک جتھا الگ موجود ہے ۔ عدالتوں نے انصاف کے تقاضے الگ پورے نہیں کئیے اور پیمرا کے ہرہر ایکشن پر جو کسی بھی میڈیا ہاوس یا اینکر کے خلاف لیا گیا ۔ حکم امتناع دیکر آزاد چھوڑ دیا ۔ پیمرا کے صرف ان دو کیسز پہ پیمرا کی حمایت کی جس میں اینکرز نے عدالتوں کو گھسیٹا تھا ۔ سوشل میڈیا کا شتر بے مہار کچھ بھی بولے اسکو سیاسی دشمنی میں حقیقیت کا ادراک نہیں
 
ابصار عالم صاحب کے کسی فیصلے سے اختلاف کیا جا سکتا ہو گا مگر وہ بکاو مال ثابت نہیں ہوئے ۔ انکی بولی لگانے والے بہت ہوں گے مگر خریدار کہیں نہ مل سکا ۔ آج سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے سرمایہ دار خوش ہے ۔ بازاری اینکر اور مخالفت برائے مخالفت کی شطرنج کے کھلاڑی خوش ہیں ۔ دو دو ٹکے کے کیبل آپریٹرز اور لوپ ہولڈرز خوش ہیں جن کو اب ریگولیٹ کیا جا رہا تھا
 
بھارتی ثقافتی یلغار کے آگے سینہ سپر ایک اور دیوار آج گرادی گئ ۔ اخلاقیات کی دیوار کا ایک سہارہ آج راستے سے ہٹا دیا گیا ۔ فیصلہ کرنے والے کو خود اسکے مضمرات کا علم نہیں
download (25)
 
سیاسی مخالفت میں اگر ملک کا نقصان ہو تو یہ بڑی زیادتی والی بات ہے اور اگر مخالفت کا معیار یہ ہو کہ فواد چوہردی کی بات پہ واہ واہ کی جائے تو زہنی اور اخلاقی پستی کی حد ہے ۔ مجھے نہیں معلوم یہ کون سا لاہور کا شہری ہے جو حکومتی فیصلوں کو عدالتوں میں کس کے کہنے پہ چیلنج کرتا ہے اور کیوں کرتا ہے او اسقدر خرچہ کیوں اٹھاتا ہے ۔ اگر اسی طرح کیا جائے گا تو کوئ شریف اور ایماندار آدمی کبھی کسی پوسٹ پہ نہیں آئے گا بالکل اسی طرح جس طرح ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے پارلیمینٹریئن جہانگیر ترین نا اہل ہو گا تو اب کوئ بھی قانون پسند تاجر کبھی بھی سیاست میں نہیں آئے گا
 
انصاف اور احتساب ۔ ایمان اور آخرت میں جوابدہی کے جزبے کے ساتھ ہو گا تو ہی انصاف کہلائے گا ۔ بصورت دیگر یہ وہ فیصلے ہوں گے ۔جن پہ تبصرے جائز سمجھیں جائیں گے

کرگس کی بلا سے کیا حاصل ۔ کیا لطف ہے اس شاہینی کا

In America, I Hate USA, Karachi Karachi, Pakistan's Ideology, Urdu Columns on December 18, 2017 at 7:09 am

معاملہ تو صرف 3 سے 4 گھنٹے کا ہی تھا

25354120_1412308468898004_6785990805049194124_n
بہت آرام سے گزارتے یہ چار گھنٹے
آپ یہ وقت گھر پہ گزارتے ۔ نرم و گرم بستر میں آرام کرتے ۔ شام میں گھر پہ چائے اور سموسے کھاتے یا
فیملی کے ساتھ کسی ماڈرن آوٹ لیٹ میں شاپنگ کرتے یا
کسی دوست کے ساتھ گپ شپ کرتے ۔ کسی رشتہ دار سے ملنے چلے جاتے ۔ یا گھر پہ بیٹھ کہ برا بھلا کہتے کہ راستے بند کر دئیے ۔ یا فلسفہ بگھارتے کہ کراچی میں سب کچھ کر کے کیا فائدہ ؟ اور اگر حکومت تمہارے ہاتھ میں ہوتی تو کون سا تیر مار لیتے ؟ کوئ فتوی لگاتے کہ منافق ہو تم لوگ۔

مگر اس شہر میں ہیں کچھ احمق اور دیوانے ایسے بھی
جو امت کا درد اپنا سمجھتے ہوئے ۔ بنیان المرصوص کو سب رشتوں پہ مقدم رکھتے ہیں
جو اپنی تمام تر زاتی و نجی مصروفیات کو تج کر ۔ حسن اسکوائر پہنچے
یہ ان کیلئے نیا نہیں ۔ یہ پہلے بھی دیوانہ وار نکلے تھے
یہ پہلے بھی غزہ ۔ حلب و شام ۔ کشمیر و برما کیلئے نکلے تھے ۔ یہ شان رسالت کیلئے بھی گھروں سے باہر آئے تھے اور قانون توہین رسالت کے دفاع میں بھی میدان میں آئے تھے
یہ دیوانے ۔ آج رات کو سکون سے سوئیں گے کہ امت کی خاطر اپنے پیر تو غبار آلود کیئے
۔ کچھ تو سعی کی ۔ سروں میں سر اور حمایت میں اٹھنے والے ہاتھوں میں ہاتھ تو شامل کیئے ۔ اللہ کی کبریائ کی آوازوں میں آواز تو شامل کی
اور یہی امت کے دیوانے عبادات میں ہاتھ اٹھا اٹھا کر امت کی سربلندی کیلئے دعائیں مانگیں گے
الحمدللہ آج میں بھی اس زمین کے نمک اور پہاڑیوں کے چراغوں کے ساتھ تھا
جسم تھکن سے ٹوٹ رہا ہے
مگر اللہ کا شکر ہے کہ اس تھکن میں بھی ایک عجب نشہ ہے

25446124_1412308385564679_3401753607911337800_n
افضال خرد کیا سمجھے گی
کیا ذوق ہے عقبی بینی کا
کرگس کی بلا سے کیا حاصل
کیا لطف ہے اس شاہینی کا

دسمبر 16 ۔ سانحات و المیات

In America, I Hate USA, Pakistan History, Pakistan's Ideology, Urdu Columns on December 16, 2017 at 8:46 am

 دسمبر16 ۔ اہل پاکستان کیلئے نہایت دردناک اور الم ناک دن ہے

25299057_10214448470870174_8959825834088556673_n

سقوط ڈھاکہ سے لیکر المیہ آرمی پبلک اسکول ۔ نہ صرف لہو رنگ داستان ہے بلکہ ایسا تلخ باب بھی ہے کس کو ہم نے کبھی بھی درست طریقے سے پڑھنے کی توفیق اہل اقتدار اور اہل اختیار کو نصیب ہی نہیں ہوئ

دونوں سانحات کو اپنی اپنی عینک سے پڑھنے کی کوشش کی گئ اور اپنے اپنے نتائج اخز کئے گئے ۔ ہم بھی ہر سانحہ اور المیہ کو ایک ہی تصور سے دیکھتتے ہیں اور وہ ہے “الاسلام ھوالحل”

جب اس زاوئیہ نگاہ کے علاوہ کوئ اور تصور کے تحت معاملات کو دیکھا جائے گا تو مباحث تو بہت ہوں گے حل کہیں نہیں ملے گا

سانحہ باجوڑ۔ جو 2006 میں امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں رونما ہوا جس میں 69 بچے شہید ہوئے اور سانحہ آرمی پبلک اسکول 2014 جس میں 148 بچے را اور امریکی اجنٹوں کے ہاتھوں بہیمانہ طریقے سے شہید ہوکئے گئے ۔ ہماری تاریخ کے دکھ بھرے دن ہیں

اوالزکر سانحہ نے امریکہ کے خلاف نفرت کی آگ لگائ اور امریکہ اور اسکے اندرون ملک اور بیرون ملک حواریوں کے خلاف جدوجہد مہمیز ہوئ اور موخرالزکر کے بعد پاکستان میں موجود جہادی قوتوں سے ہر قسم کی ہمدردی و حمایت مفقود ہوگئ اور پوری قوم ایک پیج پر آگئ

مولانا مودودیؓ نے پاکستان کو مسجد قرار دیا اور اسکی حفاظت کو مسجد کی حفاظت سے تشبیح دی اور پھر پیروان تحریک اسلامی نے عصبیت و قومیت کے کسی طوفان کو خاطر میں لائے بغیر۔ ہر قسم کی لادینیت اور قومیت کے طوفان کے آگے سینہ سپر ہوئے

25395739_10154837024045916_1454051662738128785_n

گزشتہ 40 سالوں میں ڈھاکہ و سلہٹ سے لیکر کراچی کے گلی کوچوں میں قومیت کے خونی و ہیبت ناک عفریت کے سامنے خون اور جانوں کے نزرانے پیش کئیے ہیں۔ البدر اور الشمس مسلمانوں کی جدوجہد کی لازوال اور سنہری داستانوں میں سے ایک ہے جو تمام تر غلیظ لبرل ہروپیگنڈہ کے برعکس اہل ایمان کیلئے زمین کا نمک اور پہاڑی کا چراغ ہیں ۔ حد یہ ہے کہ بنگلہ دیش میں پاکستان سے محبت کرنے والوں کو سولیاں تو آج بھی دی جا رہی ہیں

مگر یہ سب کچھ جو بھی ہوا ۔ وہ صرف اسلئے ہوئے کہ حکام نےعدل اجتماعی کو ترک کر دیا اور امریکی کاسہ لیسی میں حد سے آگے بڑھ گئے ۔ اور یہ دونوں عوامل اسلئے ہوئے کہ انکو کلہ لا إله إلا الله محمد رسول الله کی قوت ، طاقت اور مضمرات سے واقفیت ہی نہیں ۔ جبکہ یہی ہر طاقت کا سرچشمہ ہے ۔ کوئ مانے یا نہ مانے

جمعہ کے کلچر کا خاتمہ

In Clsh of Civilizations, Islam - A Study, Pakistan's Ideology, Urdu Columns on December 15, 2017 at 9:56 am

جمعہ کا دن تھا اور ۱۲ ربیع الاول کی تاریخ

96482247c7ea8d1248e09c7aec1c61de--masjid-faithful.jpg
#جمعہ ۔ تمام دنوں کا سردار دن ۔ کیونکہ ۱۲ ربیع الاول کا دن بھی تھا
طویل عرصہ بعد #مسجد جانے کی تمام تر تیاری کی ۔ صاحبزادے کو ساتھ لیا اور مسجد رضوان پہنچ گیا
پھر ہوا کچھ یوں کہ بچپن کی یادیں ، نکھر نکھر کر یاد آنے لگیں
منظر کچھ نہیں بدلا تھا ۔ بس کردار بدلے تھے 
چھوٹے بچوں کا انبوہ عظیم تھا جو ٹولیوں کی صورت میں اپنے دوستوں کے ساتھ آئے تھے اور امام صاحب کی تقریر سے بے نیاز باتوں میں مشغول تھے
ہر تھوڑی دیر بعد کوئ بڑا انکو گھورتا ۔ کوئ ہونٹوں پہ انگلی رکھ کر خاموش ہونے کا اشارہ کرتا ۔ وہ کچھ دیر کیلئے خاموش ہوتے اور پھر شروع ہو جاتے
یعنی ایک شور تھا جو مسجد میں گونج رہا تھا
چھوٹے چھوٹے بچے تیار ہو کر اپنے والد کے ساتھ ٹوپی پہن کر مسجد خوشی خوشی چلے آئے تھے یہ وہ بچے تھے جو عام دنوں میں انکے والد کی عدم موجودگی میں نہیں آپاتے تھے
گویا کہ ہر مسجد میں شورہوتا تھا اور کچھ بڑے ہوتے تھے جو انکو رضاکارانہ کنٹرول کرنے کی ناکام کوشش کرتے ۔
نماز جمعہ کے بعد کی الگ سرگرمی ۔کوئ کھیل ۔ گپ شپ۔ پھلوں کی خریداری ۔ سوشلائیزیشن اورجمعہ کی نماز کے خصوصی کھانا روایات تھیں
مگر ہوا کچھ یوں کہ جمعہ کی چھٹی اچانک سے ختم کر دی گئ ۔ کہا گیا کہ اس سے ملک کو معاشی نقصان ہے مگر بظاہر نظرنہ آنے والے مسائل فیصلہ کرنے والوں کی موٹی عقل کو نظر نہیں آسکتے تھے اور وہ نہیں آئے
مگر، اب سب کچھ بدل گیا
اب صورت حال یہ ہے کہ چھوٹے بچے اب جمعہ کو جا نہیں پاتے اسلئے کہ گھر میں انکے والد نہیں
دوئم ۔ اسکول کی گاڑیاں ہی ایک بجے نہیں پہنچ پاتیں اور جمعہ کی نماز اور اسکی تیاری اکثر رہ جاتی ہے
میں جہاں نماز پڑھتا ہوں وہاں نہایت کم بچے ہوتے ہیں جن کی عمر ۱۰ سال سے کم ہو
اللہ کی خیر و برکت اور رحمت کا پیمانہ نہایت الگ ہے اسکا کوئ تعلق ظاہری شماریاتی حساب کتاب سے نہیں
اول تو اسلام میں چھٹی کا ہی کوئ تصور نہیں مگر اگر کرنی ہی تو جمعہ کی کیوں نہیں ؟
اہل یہود کی نقل میں ۔ ہفتہ اور اہل نصاریٰ کی پیروی میں اتوار کی چھٹی ہو سکتی ہے تو اہل اسلام کیوں نہ ممیز ہونے کیلئے #جمعہ کو #چھٹی کریں
#نواز_شریف صاحب کو اپنے ساتھ پیش آنے والے مسائل کی وجوہات کا صحیح ادراک نہیں ۔ انکے ساتھ جو کچھ بھی ہوتا ہے اسکی وجوہات کچھ اور ہیں
یہ اللہ کی لاٹھی ہے ۔ اگر وہ کچھ سمجھ سکیں

امریکی فیصلے کے بعد دنیا مزید غیر محفوط ہوگئ

In America, Clsh of Civilizations, Urdu Columns on December 6, 2017 at 7:13 pm

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات
download (24)

اس میں کیا کلام کہ امریکی صدر اپنے انتخابی مہم کے اعلانات کو عملی صورت دینے میں بہت جلدی دکھا رہے ہیں

انہوں نے کئ کروڑ مسلمانوں کی دل آزاری کو چند لاکھ یہودیوں کی خوشی پہ ،قدم رکھا ہے ‘ مگر اب اس اعلان سے بین الاقوامی طور پہ امریکپ کیلئے مسائل بہت بڑھ جائیں گے ۔ انتہا پسندی اور شدت پسندوں کے بیانئیے کو ایک اور واضح جواز مل جائے گا اور دنیا مزید غیر محفوظ اور مسلمانوں کیلئے مزید تنگ ہو جائے گی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔

سعودی عرب اور ایران کی مخاصمت ۔ لیبیا، شام اوریمن کی تباہی ، قطرکے اقتصادی بائیکاٹ اور مصر اور پاکستان میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے کے بعد اب بظاہر کوئ مشکل امریکی عزائم کی راہ میں حائل نہیں

ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ‘کچھ امریکی صدور نے کہا کہ ان میں سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کی ہمت نہیں لیکن بیت المقدس کو دارالحکومت تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے’۔

download (23)

اسرائیل میں دنیا بھر کے سفارت خانے تل ابیب میں واقع ہیں اور مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں قونصل خانے قائم ہیں کیونکہ عالمی برادری بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت نہیں مانتی تھی اور مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کے لیے مقدس حیثیت رکھنے والے اس شہر کی حیثیت کو متازع تسلیم کرتی ہے۔

کیا کرپٹ سیاستدان بھی کرپٹ آمریت سے بہتر ہیں ؟

In Govt., Miscellaneous, pakistan, Urdu Columns on December 6, 2017 at 9:25 am

کچھ سوالات ہیں ۔ جن کے جوابات شاید تاریخ ہی دے گی

download (22)

* عدالتی فیصلے ۔ اسلام کے نظام قضا کے مطابق ایک فرد اور انگریزئ نظام انصاف کے تحت ایک سے ۱۱ افراد تک ہی کر سکتے ہیں
* یہ نہیں ہو سکتا کہ نظام ریاست کو چلانے کیلئے آئین اور دستور میں متفقہ طور پر کچھ اصول و قوانین بنائے جائیں اور انکے تحت ہونے والے فیصلے (چاہے کسی کے حق میں ہوں یا مخالف) اسلئے ناقابل قبول ٹہریں کہ اس سے میری زات کو زک پہنچی
* یہ بھی ممکن نہیں کہ ایک قانون یا فیصلہ کسی ایک کیلئے درست اور کسی دوسرے کیلئے غلط ہو ۔ درست ہے تو سب کیلئے درست اور غلط ہو تو سب کیلے غلط
* قوانین میں موجود خرابیوں کو پیش بینی کے ساتھ درست کرنا حکومت وقت کا کام ہے
* اگر کوئ پرانی رپورٹز جس کی مدعی ریاست تھی نہیں چھپیں تو یہ بھی حکومت وقت کی حکمت و دانائ و پیش بینی یا جرات کا مسئلہ ہے
* کروڑوں لوگوں کے ووٹوں سے منتخب افراد کی کسی بے ضابطی کی گرفت کیلئے ادارے ہی ہوں گے اور وہ چند ہی ہوں گے ۔
* لاڑکانہ سے جاتی عمرہ تک کے در ودیوار کی تزئین و آرائیش اور اطراف کی آبادیوں کی سسکیاں کیا قدرت نہین دیکھ رہی
* صرف مجھے پکڑ رہے ہو باقیوں کو کیوں نہیں یا اگر میرے اخراجات میری آمدنی سے زیادہ ہے تو تم کو اس سے کیا یا میں ایک خاص لائف اسٹائیل رکھتا ہوں اور ٹیکس کسی بینک کے مینیجر سے بھی کم دوں اور کروڑوں کے چیک اپنے بچوں کو تحفتہ دے دوں اور میں ہی مظلوم ۔ تو کوئ بتائے یہ کیا ہے
* سڑکوں کی تعمیر ہی ملکی ترقی کا پیمانہ ہے تو صنعتی ترقی کہاں گئ ؟
* سرکاری اسٹیل مل ناکام اور زاتی اسٹیل کی ملیں کامیاب کیوں ؟
* سیاستدانوں کی کردار کشی کے مواقع اداروں کو کون فراہم کر رہا ہے ۔ کرپشن کے قلع قمع کرنے کی سنجیدہ کوشش کیا ہے ؟

سب بکھرے بکھرے سوالات ہیں اور جواب کوئ نہیں ۔ مگر یہ طے ہے کہ
بدترین جمہوریت ۔ بہترین آمریت سے بہتر ہے
مگر کیا کرپٹ سیاستدان بھی کرپٹ آمریت سے بہتر ہیں ؟