Kashif Hafeez Siddiqui

زینب کا واقعہ ۔ قسط ۲

In Miscellaneous, pakistan, Urdu Columns on January 12, 2018 at 9:19 am

گزشتہ سے پیوستہ

مملکت خداد پاکستان کا عدالتی نظام
====================

Corrupt-Judges

* تاریخ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اسلام نے ظلم کے خلاف آواز بلند کی اور سستے ترین ، فوری اور بلا امتیازانصاف کے حصول کو یقینی بنایا ‘ محمد بن قاسم کت بت اہل سندھ نے اسکے مسلم ہونے کی وجہہ سے نہیں بلکہ فوری اور بلا متیاز برحق انصاف کی فراہمی کی وجہہ سے بنائے تھے جو بیشک اسلام کے زرین اصولوں پہ مبنی تھے

 

* انصاف کو روز اول سے امرا اور استحصالی طبقے کی دسترس سے دور رکھا گیا ۔ عدالتوں سے وقت کے حکمرانوں حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ، ہارون الرشید اور عالمگیر جیسے جلیل القدر شخصیات کو عدالتوں میں پیش ہونا پڑا اور کئ فیصلوں میں قاضی نے حکمزان طبقے کے خلاف فیصلہ دیا ۔

* عدالتوں نے انصاف کی ایسی مثالیں پیش کیں کہ امن و امان خود بخود قائم ہو گیا ۔ قانون ہاتھ میں لینے کا معاملہ ختم ہوا اورانصاف کے نظام پہ اعتماد نے لوگوں کے جزبات کو قابو میں رکھا

* اسلامی قوانین کا نظام ۔ جن کو آج کے پڑھے لکھے لوگ وحشی قرار دیتے ہیں معاشرے میں ریاست کی رٹ اورجرم اورغلطی پہ بلا امتیاز قانون کا اطلاق کسی بھی بڑے سانحہ کو لگام دیتا ہے

* اسلام کی سزاوں میں وہ درس عبرت ہے جو کسی کو کسی جرم کے نتیجے میں ہونے والی سزا سے ہی خوف کی بدولت کسی اگلے قدم تک پہنچنے سے روک لیتا ہے

* قرآن واضح کہتا ہے کہ انسان کو اس کا علم نہیں کہ اللہ کی حدود کے بلا امتیاز اطلاق ہی میں خیر و برکت قائم ہوتی ہے ۔ اللہ تعالی کے خزانے زمین سے ابلتے اور آسمانوں سے برستے ہیں

* بدقسمتی سے عدالتیں انصاف فراہم نہیں کررہیں ۔ یہ تاثر اعلی ترین عدالتوں سے لیکر سب مجسٹریٹ لیول تک کا ہے ۔

* رشوت ، اقربا پروری اور امتیاز نے عدالتی نظام کو پامال کر دیا ہے ۔ وکلا ہر مجرم کی پشت پر موجود ہیں ۔ عدالتوں میں جنسی زیادتیوں کے کیسسز میں وہ وہ سوالات پوچھتے ہیں کہ آسمان بھی تھرا جائے ۔

* ابھی سندھ میں ہی شاہنواز جتوئ کا کیس ہی دیکھ لیں ۔ فاروق ایچ نائیک پروفیشنل بنکر قاتل کی طرف سے پیش ہوتے ہیں

* اسطرح کے کیسز میں کیونکہ عدالتیں فیصلے بروقت نہیں کرتیں تو کسی کو کوئ خوف نہیں ۔ پیشی پہ پیشی ، پھر مزید پیشیاں ۔ سوال جواب ، کبھی وکلا کی ہڑتال تو کبھی جج صاحب کی چھٹیاں کیا کوئ حصول انصاف کیلئے سوچ سکتا ہے

* دلچسپ بیان سابق وزیر اعظم اور صدر مسلم لیگ ن اور صدر حکمران جماعت جناب نواز شریف نے دیا کہ انصاف اورعدالتی نظام بہت مہنگا ہو چکا ہے انکو اب یہ احساس ہوا کہ عدالت میں مقدمہ لڑنا کس قدر مہنگا ہو چکا ہے اس کے بعد بھی انہوں نے کئی لوگوں کو اُس وقت حیران کر دیا جب انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اگر انہیں یہ بات اُس وقت پتہ چلتی جب وہ ملک کے وزیراعظم تھے تو وہ اس شکایت کو دور کرنے کے اقدامات ضرور کرتے۔ یہ ماننا تقریباً ناممکن ہے کہ یہ بات نواز شریف کو حال ہی میں وزیراعظم کے دفتر سے نکالے جانے کے بعد پتہ چلی ہے کہ ملک میں انصاف کا حصول واقعی بہت مہنگا ہو چکا ہے

* تمام مسائل کا حل صرف اور صرف اور صرف اور صرف اللہ کے نظام کے قیام میں ہے ،جہاں فیصلے تیز ترین اور انصاف پہ مبنی ہوں اللہ کی حدود کا قیام ہی امن اور انصاف کا ضامن ہے

* 1981 میں لاہور باغبانپورہ تھانے کی حدود میں پپو نامی بچہ اغوا ہوا تھا۔ بعد میں اسکی لاش ریلوے کے تالاب سے ملی تھی۔ ضیاءالحق کا مارشل لا تھا۔ قاتل گرفتار ہوئے۔ ٹکٹکی پر لٹکانے کا حکم فوجی عدالت سے جاری ہوا۔ تین دن بعد ٹکٹکی وہاں لگی جہاں آجکل بیگم پورہ والی سبزی منڈی ہے۔ پورے لاہور نے دیکھا پھانسی کیسے لگتی ہے۔ چاروں اغواکار اور قاتل پورا دن پھانسی پر جھولتے رہے۔ آرڈر تھا کہ لاشیں غروبِ آفتاب کے بعد اتاری جائیں گی۔
اسکے بعد دس سال کوئی بچہ اغوا اور قتل نہیں ہوا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: