Kashif Hafeez Siddiqui

مشال قتل کیس ۔ کچھ اہم پہلو – حصہ دوئم

In Urdu Columns on February 10, 2018 at 2:54 pm

7 mins · 

مشال قتل کیس کے ایک زاویہ پہ ہم نے گزشتہ قسط میں بات رکھی کہ انتظامیہ اس بات کی زمہ دار ہے کہ اس نے طلبا میں اشتعال انگیزی پیدا کی

مشال کیس اور نقیب اللہ کیس میں کچھ چیزیں بہت یکساں ہیں
ٌ* دونوں کو بہیمانہ طریقے سے قتل کیا گیا
* دونوں ماورائے عدالت ہی قتل کئیے گئے
* دونوں کی فیس بک پہ بہت عمدہ اور خوبصورت تصاویر موجود تھیں ۔ جس نے ایک عام فرد میں اسکی ہمدردی پیدا کی اور اسکا ایک دوسرا امیج پیدا کیا

مگر مشال کے اپنے خیالات کیا تھے ؟ یہ بھی ایک اہم بحث ہے

صوابی ،خیبر پختونخواہ پاکستان سے تعلق رکھنے والا نوجوان مشال خان26 مارچ 1992ء میں ایک پشتون مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا۔
آئ سی ایم ایس ایجوکیشن سسٹم پشاور سے 2012ء میں میٹرک پاس کیا۔
بعد ازاں آئ سی ایم ایس کالج سسٹم پشاور سے ایف ایس سی پری انجینئرنگ کا امتحان پاس کر کے
2013ء میں سکالر شپ پر پہلے تاشقند،ازبکستان،پھر سینٹ پیٹرز برگ،روس چلا گیا۔بعد ازاں بلغراد سٹیٹ یونیورسٹی روس۔۔
۔The National Research University “Belgorod State University” ۔۔۔۔میں 2013ء میں سول انجینئرنگ میں داخلہ لیا۔
درمیان میں وہ برلن،بیلاروس اور پولینڈ میں بھی کچھ عرصہ مقیم رہا۔
2014ء میں وہ واپس پاکستان آگیا جہاں اس نے اگست 2014ء میں AWKUM_KP یعنی عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں جرنلزم اور ماس کمیونیکیشن کے شعبے میں داخلہ لیا۔اس کا یہ کورس 10 اگست 2018ء میں مکمل ہونا تھا کہ یہ حادثہ پیش آٓگیا

مشال کی فیس بک پروفائیل ۔ مختلف گروپزمیں انکے کمنٹز ۔ انکی سوچ ۔ ان کے والد صاحب کی شخصیت (جن سے اسکے قطعی خوشگوار تعلقات نہیں تھے) سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انکے خیالات اور افکارات میں مزہب کی حیثیت ثانوی تھی ۔ ان کا اپنا تعلق پختون ایس ایف سے تھا ۔ کمیونزم اور سوشلازم کے حامی تھے
مگر انکے خیالات ملحدانہ تھے یا وہ خود ملحد تھے یا انہوں نے کوئ ایسی بات کی کہ جس میں توہیں رسالت ﷺ کا شائیبہ یا معنی نکلتے تھے ۔ تحقیق طلب بات ہے ۔

ایک آدمی سیکولر یا لبرل ہو سکتا ہے ۔ مزہب کے حوالے سے اشکالات ہو سکتے ہیں مگر کیا وہ کوئ خاص لائین کراس کر چکا تھا ۔ ابھی واضح نہیں ۔ مگر یہ بات ثابت ہے کہ طلبا میں اشتعال نوٹس لگنے والے دن ہی پھیلا اور اسی دن یہ واقعہ ظہور پزیر ہوا

دوسری طرف JIT رپورٹ میں یہ لکھا ہے کہ (دی نیوز کے مطابق)
The report says a particular group incited mob against Mashal over false charges of blasphemy.

The investigating team has found no evidence against Mashal for blasphemy against religion or Prophet Hazrat Muhamamd ﷺ (Peace Be Upon Him). It said propaganda about blasphemy was launched against Mashal with a proper planning as a particular political group was scared of his activities.

یعنی مشعل کے ساتھ تو یہ ہوا کہ
؎ دیکھاجو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئ

اسکی اپنی جماعت کے ہی لوگوں نے اسکے خیالات کو متنازعہ بنا دیا۔ مثلا ملزم بلال بخش کے خلاف مردان کے مختلف تھانوں میں آٹھ کے قریب ایف آئی آرز درج تھیں اور یہ تمام مقدمات پارٹی کے لیے ہونے والے جلسوں، گھیراؤ جلاؤ یا پی ایس ایف کے مختلف سرگرمیوں کے دوران درج ہوئی تھیں۔ ان پر مردان کالج کے پرنسپل اور سکینڈری بورڈ مردان کے چیئرمین پر حملہ کرنے کے جرم میں دو مقدمات درج کیے گئے تھے۔

ملزم بلال بخش ویسے تو یونیورسٹی میں ملازم تھے لیکن ملازمت سے زیادہ وہ یونیورسٹی میں پی ایس ایف کے سرگرمیوں میں سرگرم تھے ۔ یونیورسٹی کے طلبہ کے مطابق ملزم بلال بخش پی ایس ایف کے اندر ایک گروپ کے سرغنہ تھے جن میں ان کے ساتھ چند دیگر طلبہ اور ملازمین شامل تھے جن میں تنظیم کے صدر صابر مایار، اجمل مایار، واجد ملنگ اور اسد کاٹلنگ (کلرک) قابل ذکر ہیں۔

اجمل مایار بھی مشال خان قتل کیس میں گرفتار ہیں جبکہ دو دیگر ملزمان صابر مایار اور اسد کاٹلنگ بدستور روپوش ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق مشال خان کی اس گروپ کے ساتھ کئی مرتبہ تلخ کلامی اور تو تو میں میں ہو چکی تھی، بلکہ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ مقتول اور ملزم بلال بخش کے مابین لڑائی ہوئی تھی جس میں ملزم کو معمولی مار پڑی تھی۔

اس کے علاوہ مشال خان بھی پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کا حصہ تھے اور وہ تنظیم کی سرگرمیوں میں شرکت بھی کرتے تھے جس سے یہ گروپ ان سے خائف تھا۔

اس گروپ کو یہ خدشہ تھا کہ چونکہ مشال خان کا تعلق صوابی سے ہے اور ان میں صلاحیتیں بھی پائی جاتی ہیں، لہٰذا انھیں یہ ڈر تھا کہ ایسا نہ ہو کہ کسی مرحلے پر ان سے پی ایس ایف کی صدارت چھن جائے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق ملزم بلال بخش وہ شخص تھے جس نے طلبہ کو مشال خان کے خلاف اکٹھا کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور وہی نعرے لگا کر ان کے پیچھے دوڑ پڑے جس سے حالات سنگین ہوئے۔

مزیدار بات یہ ہے کہ قاتل جماعت کے افراد ہی مشال کے والد کے ترجمان بنے بیٹھے ہیں
—————————————————————————
مگر مقامی طور پہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ

* جس وقت JIT کا پروسیس چل رہا تھا اس وقت KPK پولیس اندھوں کی طرح گرفتاریاں کر رہی تھیں ؤ باوجود اشتہار کے کس میں ہمت تھی کہ اگر وہ پیش ہو اور اسکو بھی اس کیس میں بطور ملزم نہ دھر کیا جائے
* مشال کے خیالات پہ اس سے ساتھی طالب علموں کی بحث و مباحثہ کوئ نئ بات نہیں تھی ۔ مشال کے خیالات سے اسکے والد اور اسکے خاندان والے کیا واقف ؟ وہ تو نامعلوم کب سے گھر سے باہر تھا ۔ پہلے پشاور میں ممکنہ ہاسٹل لائیف پھر روس اور دیگر ممالک میں قیام ۔
* وہ تو بعد از مرگ مشال کے بارے میں وہی کہیں گے جو وہ کہہ رہے ہیں ۔ جیسا بیٹا ان سے بہت قریب تھا ۔ ان سے کوئ چیز معلوم کرنا خود ایک حماقت ہے
* اسکے خیالات سے صحیح آگاہی اسکے کلاس فیلوز دیں گے اور وہ اسکے خیالات سے متفق نہیں خاص طور پہ Land Of Pakhtoons نامی گروپ میں مشال نے جو کچھ کہا ہے اس پہ کئ سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں
* مردان کے عام عوام مشال کے نظریات کے حوالے سے مختلف ڈائیلاگز کی بنیاد پہ مشال کو کلئیر قرار نہیں دیتے
* تاہم کوئ فرد اسکا دل چیر کر نہیں دیکھ سکتا کہ مشال کو نبی کریم ﷺ سے کس قدر محبت تھی

مشال کے قتل میں مزہبی جزبات کا عمل دخل ضرور تھا مگر کسی بھی مزہبی جماعت اور گروہ کا عمل دخل نہیں تھا بلکہ خالصتا ANP اور PTI کے افراد اسکو لیڈ کر رہے تھے

حامد میر صاحب کا کہنا ہے کہ “انہوں نے اپنی گمراہی کے باوجود ایک بے گناہ انسان کو ناصرف قتل کیا بلکہ اس کے بعد جشن بھی منایا اور پھر قسمیں بھی کھائیں اور وعدے بھی کئے لیکن اس میں سخت سزا صرف 6 لوگوں کو ملی ہے اور ایک شخص جو مطلوب ہے اور ابھی تک فرار ہے اور اس کا تعلق بھی صوبے کی حکمران جماعت سے ہے،”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: