Kashif Hafeez Siddiqui

مشال قتل کیس ۔ کچھ اہم پہلو۔ حصہ اول

In Urdu Columns on February 10, 2018 at 9:20 am

کیوں نہ بات ہم یہاں سے شروع کریں کہ

* ماورائے عدالت اور قانون کسی بھی فعل و قتل کی حمایت و تائید نہیں کی جا سکتی ۔ نہ گزرے ہوئے کل ، نہ آج اور نہ ہی آنے والے کل میں
* کسی بھی لاش کا مثلہ کرنا بھی قطعی درست نہیں

mashaal-3

توہین رسالت ﷺ بہت ہی حساس مسئلہ ہے
کسی کو “مظلوم / شہید یا مجبور” کہنے کا حق صرف اسی صورت میں جائیز ہو گا کہ جب عدالت فیصلہ دے کہ فلاں اس کیس میں قصوروار ہے اور فلاں اس کیس سے بری ہے

مشال خان کیس میں سب سے نازک ، حساس اور اشتعال انگیز حرکت “یونیورسٹی انتظامیہ” نے کی ہے اور اسکے ساتھ پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن اس کام میں ملوث تھی ۔

نوٹس بورڈ پہ اس قدر حساس نوٹس کو اسطرح آویزاں کرنا کہ ہم ان تین افراد کے خلاف توپہن رسالت ﷺ اور مزہب کی بنیاد پہ تحقیقات کر رہے ہیں اور انکی ہاسٹل اور یونیورسٹی آنے پہ پابندی ہو گی

اسطرح کے الفاظ کے استعمال سے توہین رسالت ﷺ کا صرف الزام لگا دینا ہی نبی کریم ﷺ سے والہانہ محبت رکھنے والے پختون طبقے کے جزبات کو چھیڑنے کے مترادف ہے ۔ اس الزام کو لگانے کے بعد انتظامیہ نے ان تین افراد کو کوئ سیکوریٹی دینے سے بھی انکار کردیا ۔ JIT میں واضح لکھا ہے کہ پولیس کا کردار مشکوک ہے ۔

اسکا مطلب یہ ہے کہ یہ کیس کرپٹ یونیورسٹی انتظامیہ + یونیورسٹی کے سیاسی بنیادوں پہ بھرتی کئیے گئے ملازمین اور پولیس کی مدد اور آشیدباد سے یہ پورا معاملہ کھڑا کیا گیا ۔

اس واقعے میں جزباتی نوجوانوں کے حب نبوی ﷺ کے جزبات کو اشتعال دلا کر اور بھڑکا کر اپنے مقاصد حاصل کئیے گئے ۔

گو کہ JIT نے اس مسئلہ کی طرف نشاندہی کردی گئ ۔ مگر فیصلے کی جلدی میں ان عوامل کو قطعی نظرانداز کر دیا گیا ہے اور یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف تاحال کوئ کاروائ عمل میں نہیں لائ گئ

جئیو کی درجہ زیل رپورٹ بطور ریفرنس دی جا رہی ہے

https://www.geo.tv/…/144533-no-proof-of-mashals-involvement… )

According to the JIT report, the president of university employees, Ajmal Mayar, revealed during investigation that around a month before the incident PSF President Sabir Mayar and an employee of the varsity, Asad Katlang, went to him and said they wanted to remove Mashal from their way as he was a threat to their group. The report added that Sabir and Asad did not mention how they wanted to get rid of Mashal, but they are on the run since the day of the killing.

Mashal, who was also part of PSF, would openly speak against irregularities in his varsity Abdul Wali Khan University Mardan (AWKUM), the report added. He had protested over the issue of university not having a vice chancellor after the previous one retired, as the absence of one would hinder the students from getting their degrees, read the report. “No one from the AWKUM management visited the camp, due to which Mashal called them thieves.”

The report has revealed that the most of the people at the university, from the registrar to security officer, were hired on the basis of nepotism and not merit. “They even have criminal records and should be investigated,” the report read. “This has disrupted the environment of the university

The report states the murder was premeditated and also raises questions about the role of the police

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: