Kashif Hafeez Siddiqui

Archive for the ‘Clsh of Civilizations’ Category

Do More اور No More

In America, Clsh of Civilizations, I Hate USA, Urdu Columns on December 22, 2017 at 10:54 am
امریکی نائیب صدر مائیک پینس افغانستان میں امریکی افواج سے اپنے خطاب میں پاکستان کو کھلے عام دہمکی دیتے ہیں اور
فرماتے ہیں کہ “دونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو واچ لسٹ پہ رکھا ہوا ہے “
177253_6050817_updates.jpg
ان کا فرمانا ہے کہ “دہشت گردوں کو پناہ دینےکے دن ختم ہوگئے، پاکستان کو امریکا کی شراکت داری سے بہت کچھ حاصل ہوگا، لیکن دہشت گردوں اور مجرموں کو پناہ دینے سے بہت کچھ کھونا پڑے گا’۔”
انکا مزید فرمانا تھا کہ “کسی بھی ملک کے ساتھ شراکت داری اُس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک ایک پارٹنر دہشت گردوں اور جنگجوؤں کی مدد کرتا رہے، ایک پارٹنر دہشت گردوں کی مدد کرتا رہے تو شراکت داری کامیاب نہیں ہوسکتی، امریکا کو عالمی دہشت گردوں اور پاکستان میں سرگرم جنگجوؤں سے آج بھی خطرات کا سامنا ہے”
یہ ہے وہ لب و لہجہ جو “Do More” کے نعرے کے ساتھ پاکستان کے ساتھ اختیار کیا گیا ۔ جی ہاں وہی پاکستان جس کے ٹھمکے لگانے والے صدر ایک ہی کال پہ لیٹی پوزیشن پہ چلے گئے تھے ۔ جن کے بہادر جرنیلوں نے طالبان کے سفیر کو امریکہ کے حوالے اس حالت میں کیا کہ جب اسکے جسم پہ ایک چیتھڑا بھی نہیں تھا ۔ ملک سے سینکڑوں افراد کو امتیکہ کے حوالے کر کے ڈالر لیئے گئے ۔
“سب سے پہلے پاکستان” کا نعرہ لگا کر ملک کی خودمختاری کو ہی داؤ پہ لگا دیا گیا ۔ مگر بعد میں کود ہی احساس ہوا کہ ہم زلت کے عمیق گھڑے میں گرتے جا رہے ہیں ۔ آپ اس جنگ کو اپنی زمین پہ لے آئے ہیں جس کے آپ حصہ دار ہی نہیں ۔ سانحہ باجوڑ سے لیکر سانحہ اے پی ایس تک پاکستانی ہی زمین سرخ ہوئ ۔ اس عرصے میں اسامہ بن لادن سے لیکر ملا منصور سب پاکستان ہی میں کھیت ہوئے ۔
اب پاکستان کا موقف ہے کہ اب امریکی لڑائ پاکستانی سرزمین پہ نہیں لڑی جائے گی ۔ اب پاکستان کے مطلوب دہشت گردوں کے امریکی اور افغانی سیف ہیونز مزید برداشت نہیں ۔ موقف یہ بھی اختیار کیا جا رہا ہے کہ امریکہ ۔ تم کو پاکستان کی ضرورت زیادہ ہے بانسبت پاکستان کو تمہاری ۔ پاکستان کو افغانستان میں بھارتی کردار بھی قبول نہیں جو مسلسل بڑھتا جا رہا ہے ۔ جس پارٹنرشپ کی امریکی خواہشمند ہیں اسی طرح کی پارٹنرشپ کی اب پاکستانی بھی خواہش مند ہیں
اہل پاکستان کو سمجھ لینا ہو گا کہ پاکستان کیلئے آزمائیش کے دن بہت ہیں ۔ پاکستانی فضائیہ کے موجودہ اور ان سے قبل کے سربراہان کی دفعہ یہ اعلان کر چکے ہیں کہ ہم ڈرونز کو گرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر اسکا عملی مظاہرہ آج تک نہیں کیا جا سکا
امریکہ کے خلاف قرارداد کی حمایت تو اسرائیل سے سفارتی تعلقات رکھنے والے بھارت نے بھی کی ہے تو کیا امریکہ اسکے خلاف کوئ کاروائ کرے گا ؟
غیرت اور ڈالرزکے حصول کی خواہشات میں بہت فرق ہے۔ یقینا پاکستان روس کے قریب ہوا ہے مگر امریکہ کو “No More” کہنے کی ہمت کاسہ لیسوں کی بس کی بات نہیں
امریکہ کے خلاف کل ۱۲۸ ممالک نے باوجود امریکی کھلے عام دہمکی کے امریکہ کے خلاف ووٹنگ کی ایک بڑی وجہہ عوامی دباؤ بھی ہے ۔ جو کراچی سے لیکر جکارتہ کے میدانوں تک نظر آیا ۔ یورپ میں بڑے بڑے مظاہرے نظر آئے ۔
یہ ایک کامیابی ہے ۔جس سے حوصلہ ملتا ہے
باوجود امریکی لفظی ہٹ دھرمی کے عملی طور پہ بیت المقدس میں سفارت خامہ منتقل کرنا اسقدر آسان نہیں ۔
ہم کو بین الاقوامی بدلتے تناظر میں ہروقت مستعداورچوکس رہنے کی ضرورت ہے
ابھی مزید امتحان سامنے سامنے ہیں
ایمانیات میں جب تک اللہ وحدہ لاشریک لہ کا تصور راسخ نہ ہو تو ہمارے درمیان ہی ایسے افراد بھی موجود ہیں جو ہم کو کھندڑ بن جانے اور موت کے خوف سے ڈرا کر غلامی پہ قائل کرتے رہیں گے
Advertisements

جمعہ کے کلچر کا خاتمہ

In Clsh of Civilizations, Islam - A Study, Pakistan's Ideology, Urdu Columns on December 15, 2017 at 9:56 am

جمعہ کا دن تھا اور ۱۲ ربیع الاول کی تاریخ

96482247c7ea8d1248e09c7aec1c61de--masjid-faithful.jpg
#جمعہ ۔ تمام دنوں کا سردار دن ۔ کیونکہ ۱۲ ربیع الاول کا دن بھی تھا
طویل عرصہ بعد #مسجد جانے کی تمام تر تیاری کی ۔ صاحبزادے کو ساتھ لیا اور مسجد رضوان پہنچ گیا
پھر ہوا کچھ یوں کہ بچپن کی یادیں ، نکھر نکھر کر یاد آنے لگیں
منظر کچھ نہیں بدلا تھا ۔ بس کردار بدلے تھے 
چھوٹے بچوں کا انبوہ عظیم تھا جو ٹولیوں کی صورت میں اپنے دوستوں کے ساتھ آئے تھے اور امام صاحب کی تقریر سے بے نیاز باتوں میں مشغول تھے
ہر تھوڑی دیر بعد کوئ بڑا انکو گھورتا ۔ کوئ ہونٹوں پہ انگلی رکھ کر خاموش ہونے کا اشارہ کرتا ۔ وہ کچھ دیر کیلئے خاموش ہوتے اور پھر شروع ہو جاتے
یعنی ایک شور تھا جو مسجد میں گونج رہا تھا
چھوٹے چھوٹے بچے تیار ہو کر اپنے والد کے ساتھ ٹوپی پہن کر مسجد خوشی خوشی چلے آئے تھے یہ وہ بچے تھے جو عام دنوں میں انکے والد کی عدم موجودگی میں نہیں آپاتے تھے
گویا کہ ہر مسجد میں شورہوتا تھا اور کچھ بڑے ہوتے تھے جو انکو رضاکارانہ کنٹرول کرنے کی ناکام کوشش کرتے ۔
نماز جمعہ کے بعد کی الگ سرگرمی ۔کوئ کھیل ۔ گپ شپ۔ پھلوں کی خریداری ۔ سوشلائیزیشن اورجمعہ کی نماز کے خصوصی کھانا روایات تھیں
مگر ہوا کچھ یوں کہ جمعہ کی چھٹی اچانک سے ختم کر دی گئ ۔ کہا گیا کہ اس سے ملک کو معاشی نقصان ہے مگر بظاہر نظرنہ آنے والے مسائل فیصلہ کرنے والوں کی موٹی عقل کو نظر نہیں آسکتے تھے اور وہ نہیں آئے
مگر، اب سب کچھ بدل گیا
اب صورت حال یہ ہے کہ چھوٹے بچے اب جمعہ کو جا نہیں پاتے اسلئے کہ گھر میں انکے والد نہیں
دوئم ۔ اسکول کی گاڑیاں ہی ایک بجے نہیں پہنچ پاتیں اور جمعہ کی نماز اور اسکی تیاری اکثر رہ جاتی ہے
میں جہاں نماز پڑھتا ہوں وہاں نہایت کم بچے ہوتے ہیں جن کی عمر ۱۰ سال سے کم ہو
اللہ کی خیر و برکت اور رحمت کا پیمانہ نہایت الگ ہے اسکا کوئ تعلق ظاہری شماریاتی حساب کتاب سے نہیں
اول تو اسلام میں چھٹی کا ہی کوئ تصور نہیں مگر اگر کرنی ہی تو جمعہ کی کیوں نہیں ؟
اہل یہود کی نقل میں ۔ ہفتہ اور اہل نصاریٰ کی پیروی میں اتوار کی چھٹی ہو سکتی ہے تو اہل اسلام کیوں نہ ممیز ہونے کیلئے #جمعہ کو #چھٹی کریں
#نواز_شریف صاحب کو اپنے ساتھ پیش آنے والے مسائل کی وجوہات کا صحیح ادراک نہیں ۔ انکے ساتھ جو کچھ بھی ہوتا ہے اسکی وجوہات کچھ اور ہیں
یہ اللہ کی لاٹھی ہے ۔ اگر وہ کچھ سمجھ سکیں

امریکی فیصلے کے بعد دنیا مزید غیر محفوط ہوگئ

In America, Clsh of Civilizations, Urdu Columns on December 6, 2017 at 7:13 pm

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات
download (24)

اس میں کیا کلام کہ امریکی صدر اپنے انتخابی مہم کے اعلانات کو عملی صورت دینے میں بہت جلدی دکھا رہے ہیں

انہوں نے کئ کروڑ مسلمانوں کی دل آزاری کو چند لاکھ یہودیوں کی خوشی پہ ،قدم رکھا ہے ‘ مگر اب اس اعلان سے بین الاقوامی طور پہ امریکپ کیلئے مسائل بہت بڑھ جائیں گے ۔ انتہا پسندی اور شدت پسندوں کے بیانئیے کو ایک اور واضح جواز مل جائے گا اور دنیا مزید غیر محفوظ اور مسلمانوں کیلئے مزید تنگ ہو جائے گی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔

سعودی عرب اور ایران کی مخاصمت ۔ لیبیا، شام اوریمن کی تباہی ، قطرکے اقتصادی بائیکاٹ اور مصر اور پاکستان میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے کے بعد اب بظاہر کوئ مشکل امریکی عزائم کی راہ میں حائل نہیں

ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ‘کچھ امریکی صدور نے کہا کہ ان میں سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کی ہمت نہیں لیکن بیت المقدس کو دارالحکومت تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے’۔

download (23)

اسرائیل میں دنیا بھر کے سفارت خانے تل ابیب میں واقع ہیں اور مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں قونصل خانے قائم ہیں کیونکہ عالمی برادری بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت نہیں مانتی تھی اور مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کے لیے مقدس حیثیت رکھنے والے اس شہر کی حیثیت کو متازع تسلیم کرتی ہے۔

A Discussion about Contemporary Services of Syed Abul A’ala Maududi (RA)

In Clsh of Civilizations, Islam - A Study, Pakistan History, Pakistan's Ideology on October 22, 2013 at 1:51 am

A Discussion about Syed Maududi

 

http://http://www.dailymotion.com/us/relevance/search/episode24+syed+modoodi+special/1#video=x1541p5

آزادی کی مختلف تشریحات

In Clsh of Civilizations, Islam - A Study, pakistan, Pakistan History, Pakistan's Ideology, Urdu Columns on March 23, 2012 at 1:35 am

خدارا ، کچھ تو کیجَےِ

In Advertisement, Clsh of Civilizations, Karachi Karachi, pakistan, Pakistan's Ideology, Urdu Columns on March 5, 2012 at 8:21 am

بااختیار عورت ؟؟؟؟

In Clsh of Civilizations, Islam - A Study, Karachi Karachi, pakistan, Urdu Columns on February 25, 2012 at 6:18 am

تعلیمی اداروں میں میوزیکل کنسرٹ – ایک جاَیزہ – حصہ سوم

In Clsh of Civilizations, Islam - A Study, pakistan, Pakistan History, Pakistan's Ideology on February 21, 2012 at 1:56 am

تعلیمی اداروں میں میوزیکل کنسرٹ – ایک جاَیزہ – حصہ دوم

In America, Clsh of Civilizations, I Hate USA, Islam - A Study, pakistan, Pakistan's Ideology on February 20, 2012 at 7:20 pm

تعلیمی اداروں میں میوزیکل کنسرٹ – ایک جاَیزہ

In America, Clsh of Civilizations, Curriculum, I Hate USA, pakistan, Pakistan History, Pakistan's Ideology on February 20, 2012 at 7:17 pm