Kashif Hafeez Siddiqui

Archive for the ‘Govt.’ Category

اس بازوئے قاتل کو چومو کس شان سے کاری وار کیا

In Govt., Karachi Karachi, Urdu Columns on December 25, 2017 at 2:41 am

اس بازوئے قاتل کو چومو کس شان سے کاری وار کیا

25591848_10155137371963341_3088125866605911505_n

نعیم صدیقی نے یہ بات تو کسی اور پیراہے میں کہی تھی مگر اب معاملہ نہایت جدا ہے ۔ بظاہر #طاقتورسربلند اور
#قانون_و_انصاف سرجھکائے ہسپتالوں سے پانی کے نمونے تلاش کرتا پھر رہا ہے ۔ #بابا_رحمت کسی چوک پہ سر ندامت سے جھکائے زمین کو گھور رہے ہیں

کاشف نصیر بھائی بجا فرماتے ہیں کہ قانون دیت کے تحت #شاہ_رخ کیس کا فیصلہ درست ہے ۔ اس میں کیا شک کہ مظلوم کے پسماندگان نے اخباری اطلاعات کے مطابق کوئ 270 ملین روپیئے ۔ ڈی ایچ ائے میں 500 گز کا بنگلہ اور آسٹریلیا میں ایک اپارٹمنٹ لیکر اللہ کی رضا کیلئے معاف کر دیا۔

مگر یہ کیس کئ ایک دیگر #پہلو بھی رکھتا ہے

◇ اس کیس میں #سول_سوسائیٹی کا تو پتہ نہیں البتہ #معاشرہ مقتول کے ساتھ کھڑا تھا ۔ اسکی پوری#اخلاقی اور #جزباتی حمایت #مقتول کے خاندان کی پشت پہ تھی۔ انکی دعائیں اور تمنائیں مقتول کی ماں کیلئے تھیں

◇ ڈی ایس پی صاحب سے توقع رکھی جا رہی تھی کہ وہ معاشرے میں طاقتور طبقے کو کنٹرول کرنے کیلئے استقامت کا مظاہرہ کریں گے ۔ مگر انہوں نے ثابت کیا کہ وہ #DSP ہی رہے ۔ عادت اور روایت کے خلاف تو اپنے بیٹے کے معاملے میں بھی نہیں گئے ۔ اچھی ڈیل کی موصوف نے اپنے ہی بیٹے کے خون کی ۔

◇ قاتل کے چہرے پہ روز اول سے سجی مسکراہٹیں ۔ فتح کے نشان ۔ بشاش چہرے ۔ مڈل فنگر دکھاتے فوٹوز ۔ اسکے ساتھیوں کی ہنسی اور مبارکبادیں ۔ جناح ہسپتال میں برائے نام ۔ نمائیشی بطور مریض قیام ۔ قانون کی دھجیاں اڑاتا پروٹوکول ۔ اور واضح ڈیل معاشرے کے #حساس_طبقے کی بے بسی کی داستان ہے ۔ جس سے یہ #اہل_دل لوگ شدید کرب کا شکار ہیں

1591239-ShahrukhJatoiphotoatharkhanexpress-1514039167-126-640x480

◇ قانونی طور پہ جو کچھ ہوا شاید درست ہو مگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس صورت حال نے#انصاف پہ یقین کم نہیں ختم کیا ہے ۔ #قانون کو بالا دست سمجھنے والے آج اپنی کم مائیگی پہ نوحہ کناں ہیں ۔ #انصاف کے اس جنازے پہ مرثیہ خواں اور ماتم کناں ہیں

◇ #دیت کے ساتھ ایک اور معاملہ #توبہ_استغفار اور #احساس_ندامت کا بھی ہے۔ اس بات کے اظہار کا بھی ہے کہ خطا ہوئ ہے اور مجھ کو اپنے کیئے پہ شرمساری بھی ہے ۔ یہاں تو یہ معاملہ مفقود ہی نہیں بلکہ الٹ ہے ، اس لیئے جذبات میں اشتعال مزید پایا جاتا ہے

◇ کورس کی کتاب میں مدتوں پہلے پڑھا تھا کہ “آخر ت نہ ہوتی تو قدرت ظالم ہوتی”۔ یقینا آخرت میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا ۔ مگر اگر دنیا میں ظلم و ستم اسی طرح بالا دست رہے گا تو قانون کی تعظیم ختم ہو جائے گی جو کسی بھی مہذب معاشرے کیلئے زہر قاتل ثابت ہو گا ۔

◇ اللہ یقینا ظالموں کے ساتھ نہیں اپنے مظلوم بندوں کے ساتھ ہے ۔ اسکا انتقام اور معاملہ نہایت عبرت انگیز ہے جو سوچنے والوں کیلئے درس عبرت بنتا ہے اور یہاں بھی ایسے ہی ہو گا ۔ انشاء اللہ

Advertisements

ابصار عالم ۔ سابق چیئرمن پیمرا ۔ ایک تن آور درخت

In Govt., Miscellaneous, pakistan, Urdu Columns on December 18, 2017 at 1:00 pm
ابصار عالم ۔ چیئرمین پیمرا کو بھی ایک عدالتی حکم کے تحت گھر بھیج دیا گیا ۔ یہ حکومت وقت کا استحقاق ہے کہ حکومتی مشینری کے عہدوں پہ اپنی مرضی اور منشا کے لوگ مقرر کرے تاکہ اپنی حکومت اپنی ترجیحات اور انتخابی منشور کے مطابق اداروں کی پالیسیاں مرتب کرے
DRULkRzX0AAVE5t
#پیمرا بھی ایک ایسا ہی حکومتی ادارہ ہے جہاں جو بھی لوگ اقتدار میں ہوں گے وہاں وہ اپنی مرضی ، منشا اور ترجیح کا ہی آدمی لائیں گے
 
#ابصار_عالم نے بطور چیئرمن پیمرا بے شمار مثبت اور تعمیرئ کام کیئے ۔ میڈیا کے بے لگام گھوڑے کو سنبھالنا آسان کام نہیں ۔ دوسری طرف کیبل آپریٹرز کی شکل میں بلیک میلرز کا ایک جتھا الگ موجود ہے ۔ عدالتوں نے انصاف کے تقاضے الگ پورے نہیں کئیے اور پیمرا کے ہرہر ایکشن پر جو کسی بھی میڈیا ہاوس یا اینکر کے خلاف لیا گیا ۔ حکم امتناع دیکر آزاد چھوڑ دیا ۔ پیمرا کے صرف ان دو کیسز پہ پیمرا کی حمایت کی جس میں اینکرز نے عدالتوں کو گھسیٹا تھا ۔ سوشل میڈیا کا شتر بے مہار کچھ بھی بولے اسکو سیاسی دشمنی میں حقیقیت کا ادراک نہیں
 
ابصار عالم صاحب کے کسی فیصلے سے اختلاف کیا جا سکتا ہو گا مگر وہ بکاو مال ثابت نہیں ہوئے ۔ انکی بولی لگانے والے بہت ہوں گے مگر خریدار کہیں نہ مل سکا ۔ آج سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے سرمایہ دار خوش ہے ۔ بازاری اینکر اور مخالفت برائے مخالفت کی شطرنج کے کھلاڑی خوش ہیں ۔ دو دو ٹکے کے کیبل آپریٹرز اور لوپ ہولڈرز خوش ہیں جن کو اب ریگولیٹ کیا جا رہا تھا
 
بھارتی ثقافتی یلغار کے آگے سینہ سپر ایک اور دیوار آج گرادی گئ ۔ اخلاقیات کی دیوار کا ایک سہارہ آج راستے سے ہٹا دیا گیا ۔ فیصلہ کرنے والے کو خود اسکے مضمرات کا علم نہیں
download (25)
 
سیاسی مخالفت میں اگر ملک کا نقصان ہو تو یہ بڑی زیادتی والی بات ہے اور اگر مخالفت کا معیار یہ ہو کہ فواد چوہردی کی بات پہ واہ واہ کی جائے تو زہنی اور اخلاقی پستی کی حد ہے ۔ مجھے نہیں معلوم یہ کون سا لاہور کا شہری ہے جو حکومتی فیصلوں کو عدالتوں میں کس کے کہنے پہ چیلنج کرتا ہے اور کیوں کرتا ہے او اسقدر خرچہ کیوں اٹھاتا ہے ۔ اگر اسی طرح کیا جائے گا تو کوئ شریف اور ایماندار آدمی کبھی کسی پوسٹ پہ نہیں آئے گا بالکل اسی طرح جس طرح ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے پارلیمینٹریئن جہانگیر ترین نا اہل ہو گا تو اب کوئ بھی قانون پسند تاجر کبھی بھی سیاست میں نہیں آئے گا
 
انصاف اور احتساب ۔ ایمان اور آخرت میں جوابدہی کے جزبے کے ساتھ ہو گا تو ہی انصاف کہلائے گا ۔ بصورت دیگر یہ وہ فیصلے ہوں گے ۔جن پہ تبصرے جائز سمجھیں جائیں گے

کیا کرپٹ سیاستدان بھی کرپٹ آمریت سے بہتر ہیں ؟

In Govt., Miscellaneous, pakistan, Urdu Columns on December 6, 2017 at 9:25 am

کچھ سوالات ہیں ۔ جن کے جوابات شاید تاریخ ہی دے گی

download (22)

* عدالتی فیصلے ۔ اسلام کے نظام قضا کے مطابق ایک فرد اور انگریزئ نظام انصاف کے تحت ایک سے ۱۱ افراد تک ہی کر سکتے ہیں
* یہ نہیں ہو سکتا کہ نظام ریاست کو چلانے کیلئے آئین اور دستور میں متفقہ طور پر کچھ اصول و قوانین بنائے جائیں اور انکے تحت ہونے والے فیصلے (چاہے کسی کے حق میں ہوں یا مخالف) اسلئے ناقابل قبول ٹہریں کہ اس سے میری زات کو زک پہنچی
* یہ بھی ممکن نہیں کہ ایک قانون یا فیصلہ کسی ایک کیلئے درست اور کسی دوسرے کیلئے غلط ہو ۔ درست ہے تو سب کیلئے درست اور غلط ہو تو سب کیلے غلط
* قوانین میں موجود خرابیوں کو پیش بینی کے ساتھ درست کرنا حکومت وقت کا کام ہے
* اگر کوئ پرانی رپورٹز جس کی مدعی ریاست تھی نہیں چھپیں تو یہ بھی حکومت وقت کی حکمت و دانائ و پیش بینی یا جرات کا مسئلہ ہے
* کروڑوں لوگوں کے ووٹوں سے منتخب افراد کی کسی بے ضابطی کی گرفت کیلئے ادارے ہی ہوں گے اور وہ چند ہی ہوں گے ۔
* لاڑکانہ سے جاتی عمرہ تک کے در ودیوار کی تزئین و آرائیش اور اطراف کی آبادیوں کی سسکیاں کیا قدرت نہین دیکھ رہی
* صرف مجھے پکڑ رہے ہو باقیوں کو کیوں نہیں یا اگر میرے اخراجات میری آمدنی سے زیادہ ہے تو تم کو اس سے کیا یا میں ایک خاص لائف اسٹائیل رکھتا ہوں اور ٹیکس کسی بینک کے مینیجر سے بھی کم دوں اور کروڑوں کے چیک اپنے بچوں کو تحفتہ دے دوں اور میں ہی مظلوم ۔ تو کوئ بتائے یہ کیا ہے
* سڑکوں کی تعمیر ہی ملکی ترقی کا پیمانہ ہے تو صنعتی ترقی کہاں گئ ؟
* سرکاری اسٹیل مل ناکام اور زاتی اسٹیل کی ملیں کامیاب کیوں ؟
* سیاستدانوں کی کردار کشی کے مواقع اداروں کو کون فراہم کر رہا ہے ۔ کرپشن کے قلع قمع کرنے کی سنجیدہ کوشش کیا ہے ؟

سب بکھرے بکھرے سوالات ہیں اور جواب کوئ نہیں ۔ مگر یہ طے ہے کہ
بدترین جمہوریت ۔ بہترین آمریت سے بہتر ہے
مگر کیا کرپٹ سیاستدان بھی کرپٹ آمریت سے بہتر ہیں ؟

نوحہ کس کا لکھوں

In Govt., Karachi Karachi, pakistan, Urdu Columns on July 11, 2011 at 7:23 am

رات کو سستا فون بند کریں: پنجاب

In Govt., pakistan on February 3, 2010 at 12:42 pm

پنجاب اسمبلی نے مطالبہ کیا ہے کہ نوجوان نسل کے بہتر مستقبل کے لیے موبائل فون کمپنیوں کی جانب سے متعارف کرائے گئے دیر رات کے سستے پیکیجوں پر پابندی لگائی جائے۔

یہ مطالبہ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے کیا گیا جو مسلم لیگ (ق) کی خاتون رکن اسمبلی ثمینہ خاور حیات نے پیش کی۔

پاکستان میں کام کرنے والی مختلف موبائل فون کمپنیوں نے ایسے پیکیج متعارف کرائے ہیں جن کے تحت رات گئے سے صبح تک انتہائی کم پیسوں میں طویل بات کی جاسکتی ہے اور یہ پیکیج صارفین میں خاصے مقبول ہیں۔

پنجاب اسمبلی کے ارکان نے قرارداد متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے سفارش کی کہ وہ موبائل کمپنیوں کو یہ ہدایات جاری کریں کہ وہ لیٹ نائٹ پیکیجوں کو ختم کریں۔

ثمینہ خاور حیات نے اپنی قرارداد میں یہ کہا ہے کہ موبائل فون کے دیر رات کے کم دام کی وجہ سے نوجوان نسل بری طرح متاثر ہورہی ہے کیونکہ طلبہ اور طالبات ان پیکیجوں کی وجہ سے رات بھر جاگتے ہیں اور فون پر باتیں کرتے ہیں۔

قرارداد میں کہا گیا کہ نوجوان نسل نہ تو رات کے وقت پڑھتی اور نہ مناسب نیند لیتی ہے جس کے باعث ان کی تعلیم اور صحت دونوں بگڑ رہی ہیں۔

ثمینہ خاور کا کہنا ہے کہ نوجوان نسل اخلاقی اور سماجی اقدار کو بھول کر اصل مقصد سے ہٹ گئی ہے اس لیے ایسے پیکیج کو ختم کیا جائے۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس وفاقی حکومت نے موبائل فون کے ذریعے پیغام رسانی یعنی ایس ایم ایس پر بیس پیسے ٹیکس لگانے کی تجویز بجٹ میں پیش کی تھی جس پر نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے علاوہ دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شدید درعمل کا اظہار کیا تھااور اسی وجہ سے بجٹ میں ایس ایم ایس پر بیس فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز پر عمل درآمد نہیں کیا گیا تھا۔

Current National Humanitarian Crisis & Ministry of Culture

In Govt. on May 28, 2009 at 5:45 pm

Yesterday night I received a call from a lady who was extremely shocked, angry & surprised on the program “Sindh Sargam” which is organized by Pakistan National Council of the Arts (PNCA) a body which works under the Ministry of Culture, Govt. of Pakistan & the president of Pakistan is the chief patron of this ministry. The venue was Karachi Arts Council.

The program Sindh Sargam continued for three days, from May 26 to 28th (Keep in mind May 28th is Youm-e-Takbeer)Sind sargam where renowned Pakistani classical music singers performed.

I totally failed to understand the logic & purpose of any musical fun program in the circumstances where Pakistan is in a war like situation. Military action is on. Thousands of my own countrymen are now becoming IDPs & living in camps in extreme conditions. We are listening to the news of blasts & associated casualties every day, yesterday the victim was Lahore, today it is Waziristan & Peshawar. Daily we are observing the funerals of our soldiers who lost their lives in Swat. TV channels are telling the inside stories about miseries happening in Swat & Bunier.

The brutal fact is that Pakistan is facing very serious geo-political threats & national crisis now days. We are seeing the painful humanitarian crises in our beloved country. In the condition where we should demonstrate a serious attitude these type of programs convey a different message to those who are facing suffering & problems.

Shameful fact is that this program is co-sponsored by Jang group & GEO network which are media leaders; they should show a serious attitude & behavior.

This program simply conveyed the message that Ministry of culture is indifferent in this whole situation of crisis. We strongly condemn this attitude.