Kashif Hafeez Siddiqui

Archive for the ‘Miscellaneous’ Category

زینب کا واقعہ ۔ قسط ۲

In Miscellaneous, pakistan, Urdu Columns on January 12, 2018 at 9:19 am

گزشتہ سے پیوستہ

مملکت خداد پاکستان کا عدالتی نظام
====================

Corrupt-Judges

* تاریخ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اسلام نے ظلم کے خلاف آواز بلند کی اور سستے ترین ، فوری اور بلا امتیازانصاف کے حصول کو یقینی بنایا ‘ محمد بن قاسم کت بت اہل سندھ نے اسکے مسلم ہونے کی وجہہ سے نہیں بلکہ فوری اور بلا متیاز برحق انصاف کی فراہمی کی وجہہ سے بنائے تھے جو بیشک اسلام کے زرین اصولوں پہ مبنی تھے

 

* انصاف کو روز اول سے امرا اور استحصالی طبقے کی دسترس سے دور رکھا گیا ۔ عدالتوں سے وقت کے حکمرانوں حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ، ہارون الرشید اور عالمگیر جیسے جلیل القدر شخصیات کو عدالتوں میں پیش ہونا پڑا اور کئ فیصلوں میں قاضی نے حکمزان طبقے کے خلاف فیصلہ دیا ۔

* عدالتوں نے انصاف کی ایسی مثالیں پیش کیں کہ امن و امان خود بخود قائم ہو گیا ۔ قانون ہاتھ میں لینے کا معاملہ ختم ہوا اورانصاف کے نظام پہ اعتماد نے لوگوں کے جزبات کو قابو میں رکھا

* اسلامی قوانین کا نظام ۔ جن کو آج کے پڑھے لکھے لوگ وحشی قرار دیتے ہیں معاشرے میں ریاست کی رٹ اورجرم اورغلطی پہ بلا امتیاز قانون کا اطلاق کسی بھی بڑے سانحہ کو لگام دیتا ہے

* اسلام کی سزاوں میں وہ درس عبرت ہے جو کسی کو کسی جرم کے نتیجے میں ہونے والی سزا سے ہی خوف کی بدولت کسی اگلے قدم تک پہنچنے سے روک لیتا ہے

* قرآن واضح کہتا ہے کہ انسان کو اس کا علم نہیں کہ اللہ کی حدود کے بلا امتیاز اطلاق ہی میں خیر و برکت قائم ہوتی ہے ۔ اللہ تعالی کے خزانے زمین سے ابلتے اور آسمانوں سے برستے ہیں

* بدقسمتی سے عدالتیں انصاف فراہم نہیں کررہیں ۔ یہ تاثر اعلی ترین عدالتوں سے لیکر سب مجسٹریٹ لیول تک کا ہے ۔

* رشوت ، اقربا پروری اور امتیاز نے عدالتی نظام کو پامال کر دیا ہے ۔ وکلا ہر مجرم کی پشت پر موجود ہیں ۔ عدالتوں میں جنسی زیادتیوں کے کیسسز میں وہ وہ سوالات پوچھتے ہیں کہ آسمان بھی تھرا جائے ۔

* ابھی سندھ میں ہی شاہنواز جتوئ کا کیس ہی دیکھ لیں ۔ فاروق ایچ نائیک پروفیشنل بنکر قاتل کی طرف سے پیش ہوتے ہیں

* اسطرح کے کیسز میں کیونکہ عدالتیں فیصلے بروقت نہیں کرتیں تو کسی کو کوئ خوف نہیں ۔ پیشی پہ پیشی ، پھر مزید پیشیاں ۔ سوال جواب ، کبھی وکلا کی ہڑتال تو کبھی جج صاحب کی چھٹیاں کیا کوئ حصول انصاف کیلئے سوچ سکتا ہے

* دلچسپ بیان سابق وزیر اعظم اور صدر مسلم لیگ ن اور صدر حکمران جماعت جناب نواز شریف نے دیا کہ انصاف اورعدالتی نظام بہت مہنگا ہو چکا ہے انکو اب یہ احساس ہوا کہ عدالت میں مقدمہ لڑنا کس قدر مہنگا ہو چکا ہے اس کے بعد بھی انہوں نے کئی لوگوں کو اُس وقت حیران کر دیا جب انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اگر انہیں یہ بات اُس وقت پتہ چلتی جب وہ ملک کے وزیراعظم تھے تو وہ اس شکایت کو دور کرنے کے اقدامات ضرور کرتے۔ یہ ماننا تقریباً ناممکن ہے کہ یہ بات نواز شریف کو حال ہی میں وزیراعظم کے دفتر سے نکالے جانے کے بعد پتہ چلی ہے کہ ملک میں انصاف کا حصول واقعی بہت مہنگا ہو چکا ہے

* تمام مسائل کا حل صرف اور صرف اور صرف اور صرف اللہ کے نظام کے قیام میں ہے ،جہاں فیصلے تیز ترین اور انصاف پہ مبنی ہوں اللہ کی حدود کا قیام ہی امن اور انصاف کا ضامن ہے

* 1981 میں لاہور باغبانپورہ تھانے کی حدود میں پپو نامی بچہ اغوا ہوا تھا۔ بعد میں اسکی لاش ریلوے کے تالاب سے ملی تھی۔ ضیاءالحق کا مارشل لا تھا۔ قاتل گرفتار ہوئے۔ ٹکٹکی پر لٹکانے کا حکم فوجی عدالت سے جاری ہوا۔ تین دن بعد ٹکٹکی وہاں لگی جہاں آجکل بیگم پورہ والی سبزی منڈی ہے۔ پورے لاہور نے دیکھا پھانسی کیسے لگتی ہے۔ چاروں اغواکار اور قاتل پورا دن پھانسی پر جھولتے رہے۔ آرڈر تھا کہ لاشیں غروبِ آفتاب کے بعد اتاری جائیں گی۔
اسکے بعد دس سال کوئی بچہ اغوا اور قتل نہیں ہوا۔

Advertisements

#زینب کا واقعہ ۔ قسط ۱

In Miscellaneous, Urdu Columns on January 12, 2018 at 9:17 am

قصور شہر میں #زینب کا واقعہ پہلا نہیں ۔ اس سے قبل 10-12 واقعات ہو چکے ہیں ۔ یہ واقعہ ہم سب کو رلا اور اندر سے ہلا گیا ۔ ہر ایک نے اپنی بیٹی اور بہن میں #زینب کو تلاش کیا اور حتی المقدور جہاں تک ہو سکا او بہیمانہ واقعہ کی شدید ترین الفاظ میں مزمت کی اور دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ۔

26677988_2053660051327248_7724050880383767952_o

تقریبا ہر فرد نے اس حوالے سے کچھ نہ کچھ اظہار خیال کیا ۔ مگر آئیے کچھ جملہ مسائل پر بھی گفتگو کریں

#زینب کا واقعہ پولیس کے فرسودہ ترین نظام کا مظہر ہے
==================================

* اس واقعہ کا سب سے اہم پہلو ہے کہ پولیس کا نظام نہ صرف اسوقت فرسودہ ہو چکا ہے بلکہ بدبودار اور متعفن بھی ہو چکا ہے، علاقے کا ایس ایچ او اسوقت وہ فرد تھا جس کو گزشتہ دنوں گنڈا سنگھ تھانے میں (اقرا الحسن ۔ سرعام کے بقول) میں رشوت کے الزام میں معطل ہو چکا تھا مگر پھر ڈیمارٹمنٹل کاروائ کے بعد یہاں ترقی دیکر SHO لگا دیا گیا تھا ۔ بچی چاردن تک غائب رہی مگر ان کی کوشش کاغزی کاراوئ سے زیادہ نہیں رہی ۔ کرپٹ فرد کس طرح کسی مظلوم کی داد رسی کر سکتا ہے ؟

* ایکسپریس نیوز میں میزبان عمران خان کے پروگرام میں زینب کے چچا نے کیمرے کے سامنے یہ بتایا کہ ان کا ڈی پی او نےا ننھی زینب کی لاش کے سامنے یہ شرمناک بات کہی کہ “بہت بو آ رہی ہے میں گاڑی سے باہر نہیں آسکتا ، آپ دس ہزار روپے لاش ڈھونڈنے والے سپاہی کو دے دیں میں اسے تعریفی سرٹیفکٹ بھی دوں گا”

* حد یہ ہے کہ قصور پولیس نے نہایت عجلت میں ملزم کا جو خاکہ جاری کیا ہے کہ وہ بھی غلط ہے ۔ سی سی کیمرہ کی فوٹیج ہونے کے باوجود گزشتہ چار دن میں کوئ بھی مثبت کاروائ سامنے نہیں آئی ۔ ناہل راشی ایس ایچ او کر بھی کیا سکتا تھا

* معا،لہ تو یہاں تک پہنچا کہ مظاہرین کو پروفیشنلی ٹیکل کتنے کے بجائے ان پہ الٹی براہ راست گولی چلائ گئ اور دو افراد مزید ہلاک ہو گئے اور چار افراد زخمی ہو گئے

* شہر کی انتظامیہ ، ارباب اختیار ، منتخب ممبران اسمبلی ، پولیس اور دیگر ادارے اسقدر بےغیرت ، بے شرم اور بے حیا ہیں کہ بارہوٰیں کیس پہ جب عوام نے احتجاج کیا تو روایتی طور پہ کاسمیٹکس اقدامات کر کے جان چھڑانے کی کوشش کی مگر اب عوامی احتجاج کے بعد ایک دو لوگوں کو معطل کر کے مستعدی دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ان کو گزشتہ تمام واقعات کا کوئ احساس نہیں

حکومت وقت کا رد عمل
==============

* لاہور اور قصور میں فاصلہ دو گھنٹے سے بھی کم ہے بلکہ یہ بھی معلوم نہیں ہو گا کہ لاہور کہاں ختم ہو رہا ہے اور قصور کہاں سے شروع ہو رہا ہے کہ اگر بورڈز نہ لگے ہوں بلکہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں قصور کی دو یونین کونسلز کو لاہور کی حدود میں شامل کر لیا گیا ۔

* سوال یہ ہے کہ لاہور کے ایوانوں میں گزشتہ ایک ماہ سے گزشتہ اغوا اور ہلاک شدہ 11 بچے / بچیوں کی آہ وزاری کیوں نہیں پہنچی ۔ انکی سسکیاں اور انکے آنسو کیوں رنگ نہ لا سکے۔ یہ تو ہوا کہ عوامی دباو پہ آج صبح پانچ بجے زینب کے گھر پہنچ گئے ؟ مگر یاد رکھئیے کہ اللہ کے امتحان میں سوال و جواب آج کی میڈیا کے مقابلے میں زیادہ سخت ہوں گے

* شاہ ولی اللہ دہلوی نے فرمایا تھا کہ ” جن کے قاتل نامعلوم ہو جائے اس مقتول کا قاتل حکمران ہوتا ہے ”
تو حضورکڑوی سچائی یہی ہے

ابصار عالم ۔ سابق چیئرمن پیمرا ۔ ایک تن آور درخت

In Govt., Miscellaneous, pakistan, Urdu Columns on December 18, 2017 at 1:00 pm
ابصار عالم ۔ چیئرمین پیمرا کو بھی ایک عدالتی حکم کے تحت گھر بھیج دیا گیا ۔ یہ حکومت وقت کا استحقاق ہے کہ حکومتی مشینری کے عہدوں پہ اپنی مرضی اور منشا کے لوگ مقرر کرے تاکہ اپنی حکومت اپنی ترجیحات اور انتخابی منشور کے مطابق اداروں کی پالیسیاں مرتب کرے
DRULkRzX0AAVE5t
#پیمرا بھی ایک ایسا ہی حکومتی ادارہ ہے جہاں جو بھی لوگ اقتدار میں ہوں گے وہاں وہ اپنی مرضی ، منشا اور ترجیح کا ہی آدمی لائیں گے
 
#ابصار_عالم نے بطور چیئرمن پیمرا بے شمار مثبت اور تعمیرئ کام کیئے ۔ میڈیا کے بے لگام گھوڑے کو سنبھالنا آسان کام نہیں ۔ دوسری طرف کیبل آپریٹرز کی شکل میں بلیک میلرز کا ایک جتھا الگ موجود ہے ۔ عدالتوں نے انصاف کے تقاضے الگ پورے نہیں کئیے اور پیمرا کے ہرہر ایکشن پر جو کسی بھی میڈیا ہاوس یا اینکر کے خلاف لیا گیا ۔ حکم امتناع دیکر آزاد چھوڑ دیا ۔ پیمرا کے صرف ان دو کیسز پہ پیمرا کی حمایت کی جس میں اینکرز نے عدالتوں کو گھسیٹا تھا ۔ سوشل میڈیا کا شتر بے مہار کچھ بھی بولے اسکو سیاسی دشمنی میں حقیقیت کا ادراک نہیں
 
ابصار عالم صاحب کے کسی فیصلے سے اختلاف کیا جا سکتا ہو گا مگر وہ بکاو مال ثابت نہیں ہوئے ۔ انکی بولی لگانے والے بہت ہوں گے مگر خریدار کہیں نہ مل سکا ۔ آج سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے سرمایہ دار خوش ہے ۔ بازاری اینکر اور مخالفت برائے مخالفت کی شطرنج کے کھلاڑی خوش ہیں ۔ دو دو ٹکے کے کیبل آپریٹرز اور لوپ ہولڈرز خوش ہیں جن کو اب ریگولیٹ کیا جا رہا تھا
 
بھارتی ثقافتی یلغار کے آگے سینہ سپر ایک اور دیوار آج گرادی گئ ۔ اخلاقیات کی دیوار کا ایک سہارہ آج راستے سے ہٹا دیا گیا ۔ فیصلہ کرنے والے کو خود اسکے مضمرات کا علم نہیں
download (25)
 
سیاسی مخالفت میں اگر ملک کا نقصان ہو تو یہ بڑی زیادتی والی بات ہے اور اگر مخالفت کا معیار یہ ہو کہ فواد چوہردی کی بات پہ واہ واہ کی جائے تو زہنی اور اخلاقی پستی کی حد ہے ۔ مجھے نہیں معلوم یہ کون سا لاہور کا شہری ہے جو حکومتی فیصلوں کو عدالتوں میں کس کے کہنے پہ چیلنج کرتا ہے اور کیوں کرتا ہے او اسقدر خرچہ کیوں اٹھاتا ہے ۔ اگر اسی طرح کیا جائے گا تو کوئ شریف اور ایماندار آدمی کبھی کسی پوسٹ پہ نہیں آئے گا بالکل اسی طرح جس طرح ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے پارلیمینٹریئن جہانگیر ترین نا اہل ہو گا تو اب کوئ بھی قانون پسند تاجر کبھی بھی سیاست میں نہیں آئے گا
 
انصاف اور احتساب ۔ ایمان اور آخرت میں جوابدہی کے جزبے کے ساتھ ہو گا تو ہی انصاف کہلائے گا ۔ بصورت دیگر یہ وہ فیصلے ہوں گے ۔جن پہ تبصرے جائز سمجھیں جائیں گے

کیا کرپٹ سیاستدان بھی کرپٹ آمریت سے بہتر ہیں ؟

In Govt., Miscellaneous, pakistan, Urdu Columns on December 6, 2017 at 9:25 am

کچھ سوالات ہیں ۔ جن کے جوابات شاید تاریخ ہی دے گی

download (22)

* عدالتی فیصلے ۔ اسلام کے نظام قضا کے مطابق ایک فرد اور انگریزئ نظام انصاف کے تحت ایک سے ۱۱ افراد تک ہی کر سکتے ہیں
* یہ نہیں ہو سکتا کہ نظام ریاست کو چلانے کیلئے آئین اور دستور میں متفقہ طور پر کچھ اصول و قوانین بنائے جائیں اور انکے تحت ہونے والے فیصلے (چاہے کسی کے حق میں ہوں یا مخالف) اسلئے ناقابل قبول ٹہریں کہ اس سے میری زات کو زک پہنچی
* یہ بھی ممکن نہیں کہ ایک قانون یا فیصلہ کسی ایک کیلئے درست اور کسی دوسرے کیلئے غلط ہو ۔ درست ہے تو سب کیلئے درست اور غلط ہو تو سب کیلے غلط
* قوانین میں موجود خرابیوں کو پیش بینی کے ساتھ درست کرنا حکومت وقت کا کام ہے
* اگر کوئ پرانی رپورٹز جس کی مدعی ریاست تھی نہیں چھپیں تو یہ بھی حکومت وقت کی حکمت و دانائ و پیش بینی یا جرات کا مسئلہ ہے
* کروڑوں لوگوں کے ووٹوں سے منتخب افراد کی کسی بے ضابطی کی گرفت کیلئے ادارے ہی ہوں گے اور وہ چند ہی ہوں گے ۔
* لاڑکانہ سے جاتی عمرہ تک کے در ودیوار کی تزئین و آرائیش اور اطراف کی آبادیوں کی سسکیاں کیا قدرت نہین دیکھ رہی
* صرف مجھے پکڑ رہے ہو باقیوں کو کیوں نہیں یا اگر میرے اخراجات میری آمدنی سے زیادہ ہے تو تم کو اس سے کیا یا میں ایک خاص لائف اسٹائیل رکھتا ہوں اور ٹیکس کسی بینک کے مینیجر سے بھی کم دوں اور کروڑوں کے چیک اپنے بچوں کو تحفتہ دے دوں اور میں ہی مظلوم ۔ تو کوئ بتائے یہ کیا ہے
* سڑکوں کی تعمیر ہی ملکی ترقی کا پیمانہ ہے تو صنعتی ترقی کہاں گئ ؟
* سرکاری اسٹیل مل ناکام اور زاتی اسٹیل کی ملیں کامیاب کیوں ؟
* سیاستدانوں کی کردار کشی کے مواقع اداروں کو کون فراہم کر رہا ہے ۔ کرپشن کے قلع قمع کرنے کی سنجیدہ کوشش کیا ہے ؟

سب بکھرے بکھرے سوالات ہیں اور جواب کوئ نہیں ۔ مگر یہ طے ہے کہ
بدترین جمہوریت ۔ بہترین آمریت سے بہتر ہے
مگر کیا کرپٹ سیاستدان بھی کرپٹ آمریت سے بہتر ہیں ؟

ملا محمد عمر ہم سے رخصت ہوۓ

In Miscellaneous, Urdu Columns on August 1, 2015 at 11:03 am

ملا محمد عمر ہم سے رخصت ہوۓ-  إِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ – 11813389_897636626990967_4628162187125975554_n
————————————————————–
مسلم تاریخ کا ایک اور بطل جلیل ، مرد کوہسار، مجاہد، جری، بہادر ، دلاور، دلیر، حوصلہ مند،نڈر ،شجاع، مرد میدان، عقاب کوہستان، حریت پسند، طوق غلامی کا منکر، مسلسل برسرپیکار، عزم و ہمت کی ایک لازوال رومانوی کہانی، نقیب حق، راستی کا علم بردار کہ جس کی شخصیت حکمت، دانائ،فراست، عقل مندی اور شجاعت کے جوہروں سے میزن،
اپنے ساتھیوں کا مرکز نگاہ ، مرکز یقین، انکی محبتوں کا گہوراہ۔ الفت کا مینارہ، احترام کا استعارہ، یقین کا منبع ، دو دہائ تک بلا شرکت غیر – ایک متفقہ رہنماء –
تحریک آزادی و حریت کا تابندہ ستارہ، جزبہء ایثار کی لازوال داستان، اپنے فیصلوں میں کوہ گراں اور اپنی جدوجہد میں اولی العزم، حکمت و دانائ کا ایک سیل رواں – ملا محمد عمر – ہم میں نہیں

بقول ایک دوست کے “کچھ لوگ تھے کہ اپنی سب فوجوں، توپوں، طیاروں اور ایٹم بموں کے ساتھ بھی ایک فون کال پر ڈھیر ہو گئے ۔۔ اور ایک شخص تھا کہ خالی ہاتھ ہی زمین کے خداؤں سے لڑ گیا ”

مجھے مرحوم کے دور اقتدار کےبہت سارے دینی و سیاسی تصورات سے شدید اختلاف رہا ہے اور ہے – سخت گیر ، زبردستی مسلط کردہ اسلامی خودساختہ تصورات، خواتین کی تعلیم کو روکنا، جدید زرایع ابلاغ سے کنارہ کشی، حزب وحدت اور شمالی اتحاد سے خوں آشام تصادم وغیرہ – مگر میں امریکی استبداد کے خلاف جدوجہد میں انکا اخلاقی حامی ضرور ہوں –

سمجھنا چاہئے کہ افغان طالبان اور پاکستانی طالبان میں بہت فرق ہے – ایک سراپا جدوجہد – دوسرے کسی ظلم و زیادتی کا رد عمل یا غیر ملکی سازشوں کا شکار یا انکے ایجینٹ -اسلامی دفعات کی موجودگی میں مسلح تخریبی جدوجہد کی کوئ گنجائیش پاکستانی سرحدوں میں نہیں نکلتی – نہ ہم ان کاروائیوں کے حامی اور نہ ہی ساتھی

ملا عمر عزم و حوصلے کی ایک عظیم داستان ہے – امریکی حملے کے بعد اپنا سب کچھ (اپنے مہمانوں کیلئے) قربان کر دینا آسان کام نہیں تھا – زبردست کارپٹ بمباری کا مقابلہ کرنا – پہلے پیچھے ہٹنا اور پھر یہاں تک کہ فوجی لحاظ سے صف اول کی اقوام کے اتحاد کو برابری کی بنیاد پہ لا کھڑا کرنا – انکو شکست خوردہ واپس جانے پہ مجبور کر دینا – 3000 سے زائد لاشیں اور 30 ہزار سے زائد زخمیوں اور اتنے ہی زہنی مریض ان ممالک میں واپس بھجوا کر وقت کے طاغوتوں کو اپنے پیروں میں جھکا لینا اور سر عام رسواء کر دینا – ایک بڑا کارنامہ ہے- تاریخ میں جب بھی اب جدید فوجی حکمت عملی پڑھائ جاۓ گی – وہاں ناممکن ہے کہ ملا عمر کی مزاحمت کا زکر نہ ہو – انکی اسٹڑیٹیجی کی بات نہ کی جاۓ- انکے ساتھیوں کی دلیری کا تزکرہ نہ ہو- انکے ساتھیوں کی جاں فروشی اور سرعت کا زکر نہ و – آج کابل میں بیساکھیوں پہ کھڑی لرزتی کانپتی ایک امریکی حمایت یافتہ مجہول حکومت موجود ہے-جس کا اپنا مستقبل غیر ملکی ، کابل تک محدود طاقتوں پہ منحصر ہے- مرحوم کی سنہرے لفظوں میں لکھی جانے والی جدوجہد آزادی نے دنیا کو دکھا دیا کہ ایمان کیسے کامیاب ہوتا ہے اور تمام انسانی خواہشیں، زرایع اور سازشیں کیسے ناکام ہوتی ہیں- باقی رہے بس نام اللہ کا

انہوں نے کبھی ناموری کی زندگی نہیں گزاری – گوشہ نشینی اختیار کی، احتیاط کا دامن چھوٹنے نہیں دیا – نہ کبھی بلند و بانگ دعویٰ کیا – اپنی زمیں پہ رہے۔ وہیں جدوجہد کی، وہیں مشکلیں سہیں اور اب اسی زمین میں دفن ہو گۓ – رعب اسقدر کہ دو سال تین ماہ تک صرف نام ہی چلتا رہا – آدھے سے زائد افغانستان کو پنجہ استبداد سے آزاد کرو الیا- دنیا کی تمام ٹیکںولوجی فیل اور ایمان کامیاب رہا

بقول رعایت اللہ فاروقی کے “وہ اپنے حصے کا کام کر بھی گئے اور منوا بھی گئے۔ وہ ایسے وقت میں دنیا سے رخصت ہوئے جب ان کا دشمن اپنی ایک لاکھ پچیس ہزار میں سے ایک لاکھ سے زائد فوج شکست کھا کر نکال چکا۔”

ہم انکی مغفرت اور بلند درجات کیلئے دعاء گو ہیں

بڑا مبارک جہاد ہے یہ، سحر کی امیـــــــــــــــد رکھنا زندہ
نہ چین ظلمت کو لینے دینا -شبوں کی نیندیں اڑاۓ رکھنا

سر کی جنگ اور شہداےَ کشمیر

In Clsh of Civilizations, Islam - A Study, Miscellaneous, pakistan, Pakistan History, Pakistan's Ideology, Urdu Columns on January 29, 2012 at 5:50 am

مارننگ شو اور لبرل لابی کے تضادات

In Advertisement, Clsh of Civilizations, Miscellaneous, Urdu Columns on January 27, 2012 at 2:18 am

جنازے اور جائزہ

In Clsh of Civilizations, Islam - A Study, Miscellaneous, pakistan, Urdu Columns on January 19, 2012 at 1:54 pm

جدیدیت اور اقبال کے تصورات

In Clsh of Civilizations, Islam - A Study, Miscellaneous, Pakistan History, Urdu Columns on December 31, 2011 at 4:53 pm

عرب دنیا میں تبدیلی اور مغربی خدشات

In America, Clsh of Civilizations, Miscellaneous on December 10, 2011 at 9:15 am