Kashif Hafeez Siddiqui

Archive for the ‘pakistan’ Category

زینب کا واقعہ ۔ قسط ۲

In Miscellaneous, pakistan, Urdu Columns on January 12, 2018 at 9:19 am

گزشتہ سے پیوستہ

مملکت خداد پاکستان کا عدالتی نظام
====================

Corrupt-Judges

* تاریخ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اسلام نے ظلم کے خلاف آواز بلند کی اور سستے ترین ، فوری اور بلا امتیازانصاف کے حصول کو یقینی بنایا ‘ محمد بن قاسم کت بت اہل سندھ نے اسکے مسلم ہونے کی وجہہ سے نہیں بلکہ فوری اور بلا متیاز برحق انصاف کی فراہمی کی وجہہ سے بنائے تھے جو بیشک اسلام کے زرین اصولوں پہ مبنی تھے

 

* انصاف کو روز اول سے امرا اور استحصالی طبقے کی دسترس سے دور رکھا گیا ۔ عدالتوں سے وقت کے حکمرانوں حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ، ہارون الرشید اور عالمگیر جیسے جلیل القدر شخصیات کو عدالتوں میں پیش ہونا پڑا اور کئ فیصلوں میں قاضی نے حکمزان طبقے کے خلاف فیصلہ دیا ۔

* عدالتوں نے انصاف کی ایسی مثالیں پیش کیں کہ امن و امان خود بخود قائم ہو گیا ۔ قانون ہاتھ میں لینے کا معاملہ ختم ہوا اورانصاف کے نظام پہ اعتماد نے لوگوں کے جزبات کو قابو میں رکھا

* اسلامی قوانین کا نظام ۔ جن کو آج کے پڑھے لکھے لوگ وحشی قرار دیتے ہیں معاشرے میں ریاست کی رٹ اورجرم اورغلطی پہ بلا امتیاز قانون کا اطلاق کسی بھی بڑے سانحہ کو لگام دیتا ہے

* اسلام کی سزاوں میں وہ درس عبرت ہے جو کسی کو کسی جرم کے نتیجے میں ہونے والی سزا سے ہی خوف کی بدولت کسی اگلے قدم تک پہنچنے سے روک لیتا ہے

* قرآن واضح کہتا ہے کہ انسان کو اس کا علم نہیں کہ اللہ کی حدود کے بلا امتیاز اطلاق ہی میں خیر و برکت قائم ہوتی ہے ۔ اللہ تعالی کے خزانے زمین سے ابلتے اور آسمانوں سے برستے ہیں

* بدقسمتی سے عدالتیں انصاف فراہم نہیں کررہیں ۔ یہ تاثر اعلی ترین عدالتوں سے لیکر سب مجسٹریٹ لیول تک کا ہے ۔

* رشوت ، اقربا پروری اور امتیاز نے عدالتی نظام کو پامال کر دیا ہے ۔ وکلا ہر مجرم کی پشت پر موجود ہیں ۔ عدالتوں میں جنسی زیادتیوں کے کیسسز میں وہ وہ سوالات پوچھتے ہیں کہ آسمان بھی تھرا جائے ۔

* ابھی سندھ میں ہی شاہنواز جتوئ کا کیس ہی دیکھ لیں ۔ فاروق ایچ نائیک پروفیشنل بنکر قاتل کی طرف سے پیش ہوتے ہیں

* اسطرح کے کیسز میں کیونکہ عدالتیں فیصلے بروقت نہیں کرتیں تو کسی کو کوئ خوف نہیں ۔ پیشی پہ پیشی ، پھر مزید پیشیاں ۔ سوال جواب ، کبھی وکلا کی ہڑتال تو کبھی جج صاحب کی چھٹیاں کیا کوئ حصول انصاف کیلئے سوچ سکتا ہے

* دلچسپ بیان سابق وزیر اعظم اور صدر مسلم لیگ ن اور صدر حکمران جماعت جناب نواز شریف نے دیا کہ انصاف اورعدالتی نظام بہت مہنگا ہو چکا ہے انکو اب یہ احساس ہوا کہ عدالت میں مقدمہ لڑنا کس قدر مہنگا ہو چکا ہے اس کے بعد بھی انہوں نے کئی لوگوں کو اُس وقت حیران کر دیا جب انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اگر انہیں یہ بات اُس وقت پتہ چلتی جب وہ ملک کے وزیراعظم تھے تو وہ اس شکایت کو دور کرنے کے اقدامات ضرور کرتے۔ یہ ماننا تقریباً ناممکن ہے کہ یہ بات نواز شریف کو حال ہی میں وزیراعظم کے دفتر سے نکالے جانے کے بعد پتہ چلی ہے کہ ملک میں انصاف کا حصول واقعی بہت مہنگا ہو چکا ہے

* تمام مسائل کا حل صرف اور صرف اور صرف اور صرف اللہ کے نظام کے قیام میں ہے ،جہاں فیصلے تیز ترین اور انصاف پہ مبنی ہوں اللہ کی حدود کا قیام ہی امن اور انصاف کا ضامن ہے

* 1981 میں لاہور باغبانپورہ تھانے کی حدود میں پپو نامی بچہ اغوا ہوا تھا۔ بعد میں اسکی لاش ریلوے کے تالاب سے ملی تھی۔ ضیاءالحق کا مارشل لا تھا۔ قاتل گرفتار ہوئے۔ ٹکٹکی پر لٹکانے کا حکم فوجی عدالت سے جاری ہوا۔ تین دن بعد ٹکٹکی وہاں لگی جہاں آجکل بیگم پورہ والی سبزی منڈی ہے۔ پورے لاہور نے دیکھا پھانسی کیسے لگتی ہے۔ چاروں اغواکار اور قاتل پورا دن پھانسی پر جھولتے رہے۔ آرڈر تھا کہ لاشیں غروبِ آفتاب کے بعد اتاری جائیں گی۔
اسکے بعد دس سال کوئی بچہ اغوا اور قتل نہیں ہوا۔

Advertisements

ظالم کا غرور اور ہماری بے بسی

In pakistan, Pakistan History, Urdu Columns on December 29, 2017 at 12:24 pm

بابے_رحمتے !!! انصاف پھر 5 لاکھ کے مچلکے پہ بے بس ہے#
ایک ایم پی ائے ۔ پھر عدالت سے گزر کہ جیل کے باہر کھڑا ہے

اکڑ رہا ہے ۔ غرور اور تکبر سے سینہ پھلائے کھڑا ہے کہ دیکھو میرا کون کچھ بھی بگاڑ سکا

download (27)
اور اسکے حواری قاتل کو پھولوں کی پتیوں سے استقبال کر رہے ہیں
اور مقتول کی قبر پہ آنسو بہانے والے شاید پھول کی پتیاں بھی غربت کی وجہہ سے نہیں ڈال سکتے

146934_034204_updates

ایک بار پھر #طاقتور_ ظالم جیت گیا اور
مظلوم_مقتول ۔ #انصاف کے دروازے پہ ہی دفن ہو گیا#

اور یہ #ظلم اسلئے ہے کہ
اللہ کا قانون اس زمین پہ نافذ ہی نہیں
اور ہم اسکی جدوجہد کرنے کو تیار نہیں

دسمبر 27, اک داستان خونچکاں

In pakistan, Pakistan History, Urdu Columns on December 27, 2017 at 7:13 am

دسمبر27، 2007 پاکستان کی تاریخ کا ایک اندھوناک دن تھا جس میں بلا شبہ پاکستان کے تمام چار صوبوں میں مقبول رہنما #بے_نظیر_بھٹو کو بیدردی سے قتل کر دیا گیا تھا . اگر یہ نعرہ لگایا گیا کہ “چاروں صوبوں کی زنجیر ۔ بے نظیر بے نظیر” تو قطعی غلط نہیں تھا ۔ یقینا #بے_نظیر_بھٹو #وفاقکی علامت تھیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کو اپنی نڈر قیادت کے زریعے بہت آگے لےجا سکتی تھیں مگرافسوس کہ وہ کسی سازش کا شکار ہو گئیں اور انکو موت کی نیند سلا دیا گیا

Rare-newspapers-Rare-edition-of-Dawn-December-28-2007-giving-news-of-Benazir-Bhuttos-assassination-on-December-27-2007-Old-and-rare-newspapers-about-Pakistan

مگر یہی دن #پاکستانیوں کیلئے ایک بھیانک ترین دن بھی تھا ۔ ایسا دن جس میں ہر شخص ایک داستان آج تک ہے – جب #پاکستان کی گلی کوچوں اور شاہراؤں پہ سینکڑوں گاڑیاں جلا دی گئیں پچاس کے قریب افراد بے نظیر کے ساتھ ساتھ موت کے گھاٹ اتار دئیے گئے ، بینکز لوٹے گئے اور بستیوں پہ منظم حملے کیئے گئے ؛ اسکولز اور ٹرینز جلا دی گئیں ۔ یہ سب اسقدر آناً فاناً ہوا کہ کوئ نہ سنبھل سکا ۔

مگر آج ان تمام افراد کی بھی برسی اور یوم شہادت ہے جو اس دن بے #بے_نظیر_بھٹو کی طرح#بےقصور مار دئیے گئے تھے ۔ اس عرصہ میں انکے اہل خانہ کس کرب سے گزرے اسکا حساب بھی ضروری ہے

1100323158-1

یہاں مجھے کہنے دیجئیے اس دن #ریاست اپنے شہریوں کی حفاظت میں قطعی ناکام تھی جس کی زمہ داری پرویز مشرف کو جاتی ہے ۔ ابھی تک یہ عقدہ نہیں کھلا کہ جب شہروں کو لوٹا جا رہا تھا اور ملک انارکی کا شکار تھا ْ اس دن #پاکستانی_افواج بیرکوں میں بیٹھی کیا کر رہی تھیں ؟ عام شہریوں کو لوٹ مار کرنے والوں کے رحم و کرم پہ کیوں چھوڑ دیا گیا تھا ؟ کیا ہماری حفاظت کی زمہ داری#افواج_پاکستان کی نہیں تھی . اس غفلت کی براہ راست زمہ داری ریاست کے زمہ دار اور افواج پاکستان کو بھی جاتی ہیں

اس بات کو بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ اس خطرناک ماحول میں #آصف_علی_زرداری کا #پاکستان_کھپےکا نعرہ بروقت اور دلیرانہ کام تھا۔ اسکی تعریف بہت ضروری ہے۔ سیاسی مخالفت برائے مخالفت درست نہیں

1100322924-1

بہرحال 27 دسمبرہمیشہ بطور داستان خونچکاں ہی یاد کیا جائے گا ۔ اگر#بے_نظیر_بھٹو کو یاد کیا جائے گا تو اس روز #پاکستان کی مظلومیت اور لوٹ مار کے منظم واقعات کو بھی یاد رکھا جائے گا ۔
صرف #بے_نظیر_بھٹو نہیں بلکہ آج متاثر ہونے والے ہرہرفرد کو بھی یاد رکھا جائے گا ۔

ابصار عالم ۔ سابق چیئرمن پیمرا ۔ ایک تن آور درخت

In Govt., Miscellaneous, pakistan, Urdu Columns on December 18, 2017 at 1:00 pm
ابصار عالم ۔ چیئرمین پیمرا کو بھی ایک عدالتی حکم کے تحت گھر بھیج دیا گیا ۔ یہ حکومت وقت کا استحقاق ہے کہ حکومتی مشینری کے عہدوں پہ اپنی مرضی اور منشا کے لوگ مقرر کرے تاکہ اپنی حکومت اپنی ترجیحات اور انتخابی منشور کے مطابق اداروں کی پالیسیاں مرتب کرے
DRULkRzX0AAVE5t
#پیمرا بھی ایک ایسا ہی حکومتی ادارہ ہے جہاں جو بھی لوگ اقتدار میں ہوں گے وہاں وہ اپنی مرضی ، منشا اور ترجیح کا ہی آدمی لائیں گے
 
#ابصار_عالم نے بطور چیئرمن پیمرا بے شمار مثبت اور تعمیرئ کام کیئے ۔ میڈیا کے بے لگام گھوڑے کو سنبھالنا آسان کام نہیں ۔ دوسری طرف کیبل آپریٹرز کی شکل میں بلیک میلرز کا ایک جتھا الگ موجود ہے ۔ عدالتوں نے انصاف کے تقاضے الگ پورے نہیں کئیے اور پیمرا کے ہرہر ایکشن پر جو کسی بھی میڈیا ہاوس یا اینکر کے خلاف لیا گیا ۔ حکم امتناع دیکر آزاد چھوڑ دیا ۔ پیمرا کے صرف ان دو کیسز پہ پیمرا کی حمایت کی جس میں اینکرز نے عدالتوں کو گھسیٹا تھا ۔ سوشل میڈیا کا شتر بے مہار کچھ بھی بولے اسکو سیاسی دشمنی میں حقیقیت کا ادراک نہیں
 
ابصار عالم صاحب کے کسی فیصلے سے اختلاف کیا جا سکتا ہو گا مگر وہ بکاو مال ثابت نہیں ہوئے ۔ انکی بولی لگانے والے بہت ہوں گے مگر خریدار کہیں نہ مل سکا ۔ آج سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے سرمایہ دار خوش ہے ۔ بازاری اینکر اور مخالفت برائے مخالفت کی شطرنج کے کھلاڑی خوش ہیں ۔ دو دو ٹکے کے کیبل آپریٹرز اور لوپ ہولڈرز خوش ہیں جن کو اب ریگولیٹ کیا جا رہا تھا
 
بھارتی ثقافتی یلغار کے آگے سینہ سپر ایک اور دیوار آج گرادی گئ ۔ اخلاقیات کی دیوار کا ایک سہارہ آج راستے سے ہٹا دیا گیا ۔ فیصلہ کرنے والے کو خود اسکے مضمرات کا علم نہیں
download (25)
 
سیاسی مخالفت میں اگر ملک کا نقصان ہو تو یہ بڑی زیادتی والی بات ہے اور اگر مخالفت کا معیار یہ ہو کہ فواد چوہردی کی بات پہ واہ واہ کی جائے تو زہنی اور اخلاقی پستی کی حد ہے ۔ مجھے نہیں معلوم یہ کون سا لاہور کا شہری ہے جو حکومتی فیصلوں کو عدالتوں میں کس کے کہنے پہ چیلنج کرتا ہے اور کیوں کرتا ہے او اسقدر خرچہ کیوں اٹھاتا ہے ۔ اگر اسی طرح کیا جائے گا تو کوئ شریف اور ایماندار آدمی کبھی کسی پوسٹ پہ نہیں آئے گا بالکل اسی طرح جس طرح ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے پارلیمینٹریئن جہانگیر ترین نا اہل ہو گا تو اب کوئ بھی قانون پسند تاجر کبھی بھی سیاست میں نہیں آئے گا
 
انصاف اور احتساب ۔ ایمان اور آخرت میں جوابدہی کے جزبے کے ساتھ ہو گا تو ہی انصاف کہلائے گا ۔ بصورت دیگر یہ وہ فیصلے ہوں گے ۔جن پہ تبصرے جائز سمجھیں جائیں گے

کیا کرپٹ سیاستدان بھی کرپٹ آمریت سے بہتر ہیں ؟

In Govt., Miscellaneous, pakistan, Urdu Columns on December 6, 2017 at 9:25 am

کچھ سوالات ہیں ۔ جن کے جوابات شاید تاریخ ہی دے گی

download (22)

* عدالتی فیصلے ۔ اسلام کے نظام قضا کے مطابق ایک فرد اور انگریزئ نظام انصاف کے تحت ایک سے ۱۱ افراد تک ہی کر سکتے ہیں
* یہ نہیں ہو سکتا کہ نظام ریاست کو چلانے کیلئے آئین اور دستور میں متفقہ طور پر کچھ اصول و قوانین بنائے جائیں اور انکے تحت ہونے والے فیصلے (چاہے کسی کے حق میں ہوں یا مخالف) اسلئے ناقابل قبول ٹہریں کہ اس سے میری زات کو زک پہنچی
* یہ بھی ممکن نہیں کہ ایک قانون یا فیصلہ کسی ایک کیلئے درست اور کسی دوسرے کیلئے غلط ہو ۔ درست ہے تو سب کیلئے درست اور غلط ہو تو سب کیلے غلط
* قوانین میں موجود خرابیوں کو پیش بینی کے ساتھ درست کرنا حکومت وقت کا کام ہے
* اگر کوئ پرانی رپورٹز جس کی مدعی ریاست تھی نہیں چھپیں تو یہ بھی حکومت وقت کی حکمت و دانائ و پیش بینی یا جرات کا مسئلہ ہے
* کروڑوں لوگوں کے ووٹوں سے منتخب افراد کی کسی بے ضابطی کی گرفت کیلئے ادارے ہی ہوں گے اور وہ چند ہی ہوں گے ۔
* لاڑکانہ سے جاتی عمرہ تک کے در ودیوار کی تزئین و آرائیش اور اطراف کی آبادیوں کی سسکیاں کیا قدرت نہین دیکھ رہی
* صرف مجھے پکڑ رہے ہو باقیوں کو کیوں نہیں یا اگر میرے اخراجات میری آمدنی سے زیادہ ہے تو تم کو اس سے کیا یا میں ایک خاص لائف اسٹائیل رکھتا ہوں اور ٹیکس کسی بینک کے مینیجر سے بھی کم دوں اور کروڑوں کے چیک اپنے بچوں کو تحفتہ دے دوں اور میں ہی مظلوم ۔ تو کوئ بتائے یہ کیا ہے
* سڑکوں کی تعمیر ہی ملکی ترقی کا پیمانہ ہے تو صنعتی ترقی کہاں گئ ؟
* سرکاری اسٹیل مل ناکام اور زاتی اسٹیل کی ملیں کامیاب کیوں ؟
* سیاستدانوں کی کردار کشی کے مواقع اداروں کو کون فراہم کر رہا ہے ۔ کرپشن کے قلع قمع کرنے کی سنجیدہ کوشش کیا ہے ؟

سب بکھرے بکھرے سوالات ہیں اور جواب کوئ نہیں ۔ مگر یہ طے ہے کہ
بدترین جمہوریت ۔ بہترین آمریت سے بہتر ہے
مگر کیا کرپٹ سیاستدان بھی کرپٹ آمریت سے بہتر ہیں ؟

غلط کو غلط کہنے کی ہمت پیدا کیجئیے

In Blashphemy Law - An Islamic Perspective, pakistan, Pakistan's Ideology, Urdu Columns on November 18, 2017 at 10:08 am

اسلام کی بنیاد توحید، عقیدہ ختم نبوت ﷺ اور معاشرتی انصاف پر قائم ہے۔
قرآن کی زبان میں ظلم صرف یہ بھی نہیں کہ کسی کا قتل کر دیا جائے بلکہ علم رکھنے کے باوجود غلط اور گمراہی پہ اصرار کیا جائے’ یہ بھی ظلم ہے۔ اور بستیوں کی تباہی موخر الزکر ظلم پر ہی ہوئی ہے

گزشتہ روزپارلیمنٹ میں وزیر داخلہ صاحب احسن اقبال نے وزیر قانون زاہد حامد کا جس طرح دفاع کیا تو مجھے زمانہ جاہلیت     ای اپنے قبیلے کی ہر حال میں حمایت و اعانت کی  روایات یاد آگئیں

 سمجھیں کہ تعصب کسے کہتے ہیں؟
جنگ یمامہ کے دوران رات کے وقت کچھ مسلمان سپاہی اپنے لشکر سے نکلے تاکہ چہل قدمی کرسکیں- کچھ دور جاکر ان کا سامنا مخالف لشکر کے کچھ سپاہیوں سے ہوگیا- ایک مسلمان سپاہی نے مخالف لشکر کے ایک سپاہی کو پہچانتے ہوئے پوچھا کہ اے فلاں! کیا تم بنی حنیفہ کے اس وفد میں شامل نہیں تھے، جو مدینہ آیا تھا اور اسلام قبول کیا تھا-
س نے اثبات میں جواب دیا-
مسلمان سپاہی نے پوچھا کہ کیا تمہیں یقین نہیں ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ، اللہ کے سچے نبی ہیں اور مسیلمہ کا دعوی نبوت جھوٹ پر مبنی ہے-
مخالف کا جواب محض جواب نہیں تھابلکہ تعصب کا عملی مظاہرہ تھا جو آدمی کی عقل کو اندھا کردیتا ہے اور درست فیصلے کرنے کی صلاحیت سے محروم کردیتا ہے-
اوربعض اوقات دین و دنیا دونوں ہی ہاتھ سے جاتے ہیں-
اس نے جواب دیا تھا کہ
” میرے نزدیک ربیعہ کا جھوٹا مضر کے سچے سے بہتر ہے”
ْ

وزیر قانون نے پارلیمنٹ اپنی توصیف بیان کرتے ہوئے اپنے حج اور عمرہ کا زکر کیا تو خیال آیا کہ محترم سے عرض کروں کہ یقین جانئیے حضور ابوجہل نے آپ سے زیادہ حج اورعمرے کیئے ۔ آپ سے کہیں زیادہ حاجیوں کی خدمت کی ۔ آپ سے کہیں زیادہ حاجیوں کو پانی پلایا ۔
اسکے لئیے تو نبی مہربان ﷺ نے دعا کی ۔ مگرباوجود اسلام کی دعوت کو برحق ماننے کہ وہ محض تعصب میں جہنم نشین بنا کہ نبوت بنو ہاشم میں کیسے آگئ ۔

مشرف کی باقیات کو اصولی طور پہ گلے لگانے کر انکو وزارت کا عہدہ دینے والوں یعنی نواز شریف نے ہی امریکہ کی فرمائیش پہ “باریک کام” کر کے ختم بنوت ﷺ کے اصولی قانون کو بدلا تھا ۔ وہ پریس کانفرنس تو آج بھی موجود ہے کہ جس میں وزیر موصوف نےرعونت آمیز لہجے میں برملا کہا تھا کہ کوئ قانون اقرار ختم نبوت ﷺ تبدیلی نہیں کی گئ ۔ تو پھر کل کون سی ترمیم واپس لی گئ ؟ دال میں کچھ کالا تھا یا پوری دال ہی کالی تھی ؟ آپ کا یہ کہنا آپ کے عمل سے میل نہیں کھاتا کہ ” مجھ سے کوئی ایسی بات منسوب ہو جس سے نبیﷺ کی شان میں نعوذ باللہ کوئی حرف آئے۔ میں نے دو حج کئے ہیں میں سچا عاشق رسول ﷺ ہوں”۔ آپ نے اپنی غلطی کی معافی بھی نہیں مانگئ اسکا اقرار بھی نہیں کیا اور قانون میں کی گئ تبدیلی واپس لے لی ۔ کیا یہ کسی مزاق سے کم نہیں کہ تبدیلی واپس بھی لے رہے ہیں اور غلطی کا اقرار بھی نہیں کر رہے

احسن اقبال صاحب یہ سیاست کا نہیں آخرت کا معاملہ ہے ۔ کالی بھیڑیں کہیں اور نہیں آپ کے ساتھ موجود ہیں ۔ ظلم کا ساتھ تعصب، پارٹی کی محبت اور مخالفت برائے مخالفت کے نام پر مت دیں ۔ اپنی والدہ کے نام کی ہی لاج رکھیئے ‘ آپ کا یہ جملہ نہایت افسوسناک اور کاٹ دار ہے کہ “ہم سب مسلمان ہیں، ہمارا اتنا ہی ختم نبوت پر ایمان ہے جتنا کسی اور کا ہے۔ زاہد حامد کو یہ وضاحتیں پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم ہر کسی کو صفائی دینے کے پابند نہیں ہیں ۔”

وزیر صاحب ، اپنی گردن میں سریا مت لائیے ۔ سچ بولیں ۔ اتنا بڑا باریک کام زاہد حامد صاحب نے ایسے ہی نہیں کیا ۔ اقرار کریں ۔ اس دنیا اور آخرت دونوں میں آپ کا قد بلند ہو گا

تحریک لبیک یا رسول اللہ ﷺ کی حکمت عملی اور طریقہ کار سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر مطالبے سے نہیں ۔ وزیر قانون زاہد حامد جو مشرف کی باقایات ہیں انکو فوری طور پہ برطرف ہونا چاہئے

دوسرا معاملہ علی امین گنڈا پور کا ہے ۔ جن کا تعلق تحریک انصاف سے ہے ۔ جو کچھ بھی ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوا ہے اسکی آزادانہ تحقیقات کی جانی چاہئے ۔ موصوف کی گاڑی سے شہد کی بوتلیں پہلے بھی برامد ہو چکی ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ وہ آبرو ریزی کے واقعے کے براہ راست زمہ دار نہ ہوں مگرانکی ظالم ؛ طاقتور، بااختیار، جاگیردار طبقے کی حمایت تحریک انصاف کے چہرے کو داغدار کر رہی ہے

ہمت کریں اور سچ بولیں ؛ اگر موصوف زمہ دار ہیں یا براہ راست یا بالواسطہ یا مجرموں کی حمایت اور طرف داری میں ملوث ہیں تو انکو اپنی پارٹی کے ہی کٹہرے میں کھڑا کیجئیے ۔

کسی معصوم کی عصمت و عفت و عزت و حرمت کسی بھی قسم کی سیاست سے اور سیاسی مفادات سے بالہ تر ہے ۔
بنی کریم ﷺ نے فرمایا اپنے بھائ کی مدد کرو ظالم ہو یا مظلوم اور ظالم کی مدد اس طرح کرو کہ اسکو ظلم سے روکو

تو کیا تحریک انصاف کی قیادت ظالم کےساتھ ہے یا مظلوم کے ساتھ ۔ اسوقت حقیقت اور واقعات کچھ اور بتا رہے ہیں ْ مظلوم بچی کے ساتھ ابھی تک سوائے Lips Servicing کے کچھ نظر نہیں آیا

انسانوں کی دنیوئ اور اخروی زندگیوں کی تباہی ۔ صرف اور صرف تعصب اور وابستگی کے نام پہ ظلم کا ساتھ دینے پر ہے ۔ آئیے ان زنجیوں کو توڑیں

اور یاد رکھئے ۔ آخرت موجود ہے ورنہ قدرت ظالم ہوتی

کم از کم مجھے ان کی وفات کا کوئ غم نہیں

In pakistan, Urdu Columns on August 1, 2015 at 11:19 am

download (4)بھارت کے سابق مسلم صدر ابوالکلام اس جہان فانی سے اپنے تمام اعمال کے ساتھ کوچ کرگۓ – کچھ انفرادی اعمال ہوتے ہیں جن کا تعلق بندے اور اسکے رب سے ہوتا ہے اور کچھ اجتماعی اعمال ہوتے ہیں جن کا تعلق امت سے ہوتا ہے –

مثلا میر صادق اور میر جعفر ہو سکتا ہے اپنے انفرادی معاملات میں سراج ادولہ اور ٹیپو سلطان سے زیادہ پاکباز، صالح، نمازی، انسانیت کے دوست، زکوۃ صدقات کرنے والوں ہوں ، لیکن انکے اجتماعی فیصلے انکو کچھ اور ہی بتاتے ہیں – نوبل انعام دینے سے کیا ڈایئنامائیٹ کے خالق کے قصور معاف ہو جائیں گے –

اسی طرح ایک مسلمان امت کو چھوڑ کر وطنیت کے جزبے سے سرشار ہو اور مسلمانان پاکستان اور کشمیر کے خون سے رنگے ہاتھوں والے ازلی دشمن کو مسلمانوں کے ہی خلاف ایٹمی قوت بنانے میں ممدومعاون ہو – جو شہید افضل گورو کی معافی کی درخواست کو رد کر چکا ہو – جو “سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا” میں عمر بھر مگن رہے اور ” مسلم ہیں ہم وطن ہیں سارا جہاں ہمارا” کو بھلا بیٹھے

کم از کم مجھے اسکے مرنے کا کوئ غم نہیں

آزادی کی مختلف تشریحات

In Clsh of Civilizations, Islam - A Study, pakistan, Pakistan History, Pakistan's Ideology, Urdu Columns on March 23, 2012 at 1:35 am

خدارا ، کچھ تو کیجَےِ

In Advertisement, Clsh of Civilizations, Karachi Karachi, pakistan, Pakistan's Ideology, Urdu Columns on March 5, 2012 at 8:21 am

بااختیار عورت ؟؟؟؟

In Clsh of Civilizations, Islam - A Study, Karachi Karachi, pakistan, Urdu Columns on February 25, 2012 at 6:18 am