Kashif Hafeez Siddiqui

Archive for the ‘Pakistan's Ideology’ Category

کرگس کی بلا سے کیا حاصل ۔ کیا لطف ہے اس شاہینی کا

In America, I Hate USA, Karachi Karachi, Pakistan's Ideology, Urdu Columns on December 18, 2017 at 7:09 am

معاملہ تو صرف 3 سے 4 گھنٹے کا ہی تھا

25354120_1412308468898004_6785990805049194124_n
بہت آرام سے گزارتے یہ چار گھنٹے
آپ یہ وقت گھر پہ گزارتے ۔ نرم و گرم بستر میں آرام کرتے ۔ شام میں گھر پہ چائے اور سموسے کھاتے یا
فیملی کے ساتھ کسی ماڈرن آوٹ لیٹ میں شاپنگ کرتے یا
کسی دوست کے ساتھ گپ شپ کرتے ۔ کسی رشتہ دار سے ملنے چلے جاتے ۔ یا گھر پہ بیٹھ کہ برا بھلا کہتے کہ راستے بند کر دئیے ۔ یا فلسفہ بگھارتے کہ کراچی میں سب کچھ کر کے کیا فائدہ ؟ اور اگر حکومت تمہارے ہاتھ میں ہوتی تو کون سا تیر مار لیتے ؟ کوئ فتوی لگاتے کہ منافق ہو تم لوگ۔

مگر اس شہر میں ہیں کچھ احمق اور دیوانے ایسے بھی
جو امت کا درد اپنا سمجھتے ہوئے ۔ بنیان المرصوص کو سب رشتوں پہ مقدم رکھتے ہیں
جو اپنی تمام تر زاتی و نجی مصروفیات کو تج کر ۔ حسن اسکوائر پہنچے
یہ ان کیلئے نیا نہیں ۔ یہ پہلے بھی دیوانہ وار نکلے تھے
یہ پہلے بھی غزہ ۔ حلب و شام ۔ کشمیر و برما کیلئے نکلے تھے ۔ یہ شان رسالت کیلئے بھی گھروں سے باہر آئے تھے اور قانون توہین رسالت کے دفاع میں بھی میدان میں آئے تھے
یہ دیوانے ۔ آج رات کو سکون سے سوئیں گے کہ امت کی خاطر اپنے پیر تو غبار آلود کیئے
۔ کچھ تو سعی کی ۔ سروں میں سر اور حمایت میں اٹھنے والے ہاتھوں میں ہاتھ تو شامل کیئے ۔ اللہ کی کبریائ کی آوازوں میں آواز تو شامل کی
اور یہی امت کے دیوانے عبادات میں ہاتھ اٹھا اٹھا کر امت کی سربلندی کیلئے دعائیں مانگیں گے
الحمدللہ آج میں بھی اس زمین کے نمک اور پہاڑیوں کے چراغوں کے ساتھ تھا
جسم تھکن سے ٹوٹ رہا ہے
مگر اللہ کا شکر ہے کہ اس تھکن میں بھی ایک عجب نشہ ہے

25446124_1412308385564679_3401753607911337800_n
افضال خرد کیا سمجھے گی
کیا ذوق ہے عقبی بینی کا
کرگس کی بلا سے کیا حاصل
کیا لطف ہے اس شاہینی کا

Advertisements

دسمبر 16 ۔ سانحات و المیات

In America, I Hate USA, Pakistan History, Pakistan's Ideology, Urdu Columns on December 16, 2017 at 8:46 am

 دسمبر16 ۔ اہل پاکستان کیلئے نہایت دردناک اور الم ناک دن ہے

25299057_10214448470870174_8959825834088556673_n

سقوط ڈھاکہ سے لیکر المیہ آرمی پبلک اسکول ۔ نہ صرف لہو رنگ داستان ہے بلکہ ایسا تلخ باب بھی ہے کس کو ہم نے کبھی بھی درست طریقے سے پڑھنے کی توفیق اہل اقتدار اور اہل اختیار کو نصیب ہی نہیں ہوئ

دونوں سانحات کو اپنی اپنی عینک سے پڑھنے کی کوشش کی گئ اور اپنے اپنے نتائج اخز کئے گئے ۔ ہم بھی ہر سانحہ اور المیہ کو ایک ہی تصور سے دیکھتتے ہیں اور وہ ہے “الاسلام ھوالحل”

جب اس زاوئیہ نگاہ کے علاوہ کوئ اور تصور کے تحت معاملات کو دیکھا جائے گا تو مباحث تو بہت ہوں گے حل کہیں نہیں ملے گا

سانحہ باجوڑ۔ جو 2006 میں امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں رونما ہوا جس میں 69 بچے شہید ہوئے اور سانحہ آرمی پبلک اسکول 2014 جس میں 148 بچے را اور امریکی اجنٹوں کے ہاتھوں بہیمانہ طریقے سے شہید ہوکئے گئے ۔ ہماری تاریخ کے دکھ بھرے دن ہیں

اوالزکر سانحہ نے امریکہ کے خلاف نفرت کی آگ لگائ اور امریکہ اور اسکے اندرون ملک اور بیرون ملک حواریوں کے خلاف جدوجہد مہمیز ہوئ اور موخرالزکر کے بعد پاکستان میں موجود جہادی قوتوں سے ہر قسم کی ہمدردی و حمایت مفقود ہوگئ اور پوری قوم ایک پیج پر آگئ

مولانا مودودیؓ نے پاکستان کو مسجد قرار دیا اور اسکی حفاظت کو مسجد کی حفاظت سے تشبیح دی اور پھر پیروان تحریک اسلامی نے عصبیت و قومیت کے کسی طوفان کو خاطر میں لائے بغیر۔ ہر قسم کی لادینیت اور قومیت کے طوفان کے آگے سینہ سپر ہوئے

25395739_10154837024045916_1454051662738128785_n

گزشتہ 40 سالوں میں ڈھاکہ و سلہٹ سے لیکر کراچی کے گلی کوچوں میں قومیت کے خونی و ہیبت ناک عفریت کے سامنے خون اور جانوں کے نزرانے پیش کئیے ہیں۔ البدر اور الشمس مسلمانوں کی جدوجہد کی لازوال اور سنہری داستانوں میں سے ایک ہے جو تمام تر غلیظ لبرل ہروپیگنڈہ کے برعکس اہل ایمان کیلئے زمین کا نمک اور پہاڑی کا چراغ ہیں ۔ حد یہ ہے کہ بنگلہ دیش میں پاکستان سے محبت کرنے والوں کو سولیاں تو آج بھی دی جا رہی ہیں

مگر یہ سب کچھ جو بھی ہوا ۔ وہ صرف اسلئے ہوئے کہ حکام نےعدل اجتماعی کو ترک کر دیا اور امریکی کاسہ لیسی میں حد سے آگے بڑھ گئے ۔ اور یہ دونوں عوامل اسلئے ہوئے کہ انکو کلہ لا إله إلا الله محمد رسول الله کی قوت ، طاقت اور مضمرات سے واقفیت ہی نہیں ۔ جبکہ یہی ہر طاقت کا سرچشمہ ہے ۔ کوئ مانے یا نہ مانے

جمعہ کے کلچر کا خاتمہ

In Clsh of Civilizations, Islam - A Study, Pakistan's Ideology, Urdu Columns on December 15, 2017 at 9:56 am

جمعہ کا دن تھا اور ۱۲ ربیع الاول کی تاریخ

96482247c7ea8d1248e09c7aec1c61de--masjid-faithful.jpg
#جمعہ ۔ تمام دنوں کا سردار دن ۔ کیونکہ ۱۲ ربیع الاول کا دن بھی تھا
طویل عرصہ بعد #مسجد جانے کی تمام تر تیاری کی ۔ صاحبزادے کو ساتھ لیا اور مسجد رضوان پہنچ گیا
پھر ہوا کچھ یوں کہ بچپن کی یادیں ، نکھر نکھر کر یاد آنے لگیں
منظر کچھ نہیں بدلا تھا ۔ بس کردار بدلے تھے 
چھوٹے بچوں کا انبوہ عظیم تھا جو ٹولیوں کی صورت میں اپنے دوستوں کے ساتھ آئے تھے اور امام صاحب کی تقریر سے بے نیاز باتوں میں مشغول تھے
ہر تھوڑی دیر بعد کوئ بڑا انکو گھورتا ۔ کوئ ہونٹوں پہ انگلی رکھ کر خاموش ہونے کا اشارہ کرتا ۔ وہ کچھ دیر کیلئے خاموش ہوتے اور پھر شروع ہو جاتے
یعنی ایک شور تھا جو مسجد میں گونج رہا تھا
چھوٹے چھوٹے بچے تیار ہو کر اپنے والد کے ساتھ ٹوپی پہن کر مسجد خوشی خوشی چلے آئے تھے یہ وہ بچے تھے جو عام دنوں میں انکے والد کی عدم موجودگی میں نہیں آپاتے تھے
گویا کہ ہر مسجد میں شورہوتا تھا اور کچھ بڑے ہوتے تھے جو انکو رضاکارانہ کنٹرول کرنے کی ناکام کوشش کرتے ۔
نماز جمعہ کے بعد کی الگ سرگرمی ۔کوئ کھیل ۔ گپ شپ۔ پھلوں کی خریداری ۔ سوشلائیزیشن اورجمعہ کی نماز کے خصوصی کھانا روایات تھیں
مگر ہوا کچھ یوں کہ جمعہ کی چھٹی اچانک سے ختم کر دی گئ ۔ کہا گیا کہ اس سے ملک کو معاشی نقصان ہے مگر بظاہر نظرنہ آنے والے مسائل فیصلہ کرنے والوں کی موٹی عقل کو نظر نہیں آسکتے تھے اور وہ نہیں آئے
مگر، اب سب کچھ بدل گیا
اب صورت حال یہ ہے کہ چھوٹے بچے اب جمعہ کو جا نہیں پاتے اسلئے کہ گھر میں انکے والد نہیں
دوئم ۔ اسکول کی گاڑیاں ہی ایک بجے نہیں پہنچ پاتیں اور جمعہ کی نماز اور اسکی تیاری اکثر رہ جاتی ہے
میں جہاں نماز پڑھتا ہوں وہاں نہایت کم بچے ہوتے ہیں جن کی عمر ۱۰ سال سے کم ہو
اللہ کی خیر و برکت اور رحمت کا پیمانہ نہایت الگ ہے اسکا کوئ تعلق ظاہری شماریاتی حساب کتاب سے نہیں
اول تو اسلام میں چھٹی کا ہی کوئ تصور نہیں مگر اگر کرنی ہی تو جمعہ کی کیوں نہیں ؟
اہل یہود کی نقل میں ۔ ہفتہ اور اہل نصاریٰ کی پیروی میں اتوار کی چھٹی ہو سکتی ہے تو اہل اسلام کیوں نہ ممیز ہونے کیلئے #جمعہ کو #چھٹی کریں
#نواز_شریف صاحب کو اپنے ساتھ پیش آنے والے مسائل کی وجوہات کا صحیح ادراک نہیں ۔ انکے ساتھ جو کچھ بھی ہوتا ہے اسکی وجوہات کچھ اور ہیں
یہ اللہ کی لاٹھی ہے ۔ اگر وہ کچھ سمجھ سکیں

غلطی واضح پو چکی ہے

In Anti Ahmadiies, Blashphemy Law - An Islamic Perspective, Pakistan's Ideology, Urdu Columns on December 1, 2017 at 7:05 pm

یہ بھی ایک طریقہ کار ہے کہ معاملات کو صاف اور واضح رکھنے کے بجائے اسکو گرے ائیریئے میں رکھا جائے ۔

1511882232

ختم نبوت کے قانون میں باریک مگر نہایت خطرناک تبدیلی کی کوشش میں ناکامی کے بعد مقتدر طبقوں کا موقف یہ ہے کہ یہ کسی فرد واحد کی نہیں بلکہ 34 اور 16 رکنی پارلیمانی کمیٹی کی مشترکہ غلطی ہے ۔

اور اس موقف پہ انکا اصرار تمام تر میڈیائ طرفداروں کے شور کے ساتھ جاری تھا کہ کل شب جئیو میں حامد میر کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں اس کمیٹی کے 4 ارکان نے حلفا کہا ہے کہ یہ موضوع کمیٹی میں کسی ڈسکشن میں کبھی نہیں آیا ۔

یہ بات بھی سامنے آئی کہ سینٹ اور قومی اسمبلی میں بل کی منظوری سے قبل ہی اعتراضات اٹھائے جا چکے تھے ۔ اتمام حجت مکمل تھا ۔

مگر مخالفت برائے مخالفت اور حمایت برائے حمایت کے نظریئے کے تحت سینٹ میں مخالفت کرنے والی جمعیت العلمائے اسلام کے ارکان بھی قومی اسمبلی میں بل کی حمایت کر گئے

اس بات کو بھی سمجھ لینا چاہیئے کہ قانون سازی حکومت کا کام ہے ۔ اپوزیشن کا کام اعتراض کرنا اور ترامیم پیش کرنا ہے ۔ قانون سازی کا یہ کام 3 سال سے جاری تھا اور سارا فوکس دیگر قوانین پہ تھا اس مسئلہ کو چھیڑنے کا کوئی سوال ہی نہیں تھا ۔ یہی وہ باریک کام تھا جو دیگر شقوں کی منظوری نا منظوری کے شور میں خاموشی سے ہونا تھا مگر جماعت اسلامی کے طارق اللہ صاحب کی واشگاف مخالفت کی وجہ سے ممکن نہ ہو سکا

یہ کہنا نہایت غلط ہے کہ اسکے ذمہ دار زاہد حامد یا انوشے رحمان نہیں ۔ اورمجھے تو کہنے کی اجازت دیں کہ شاید اس تبدیلی کی اطلاع کابینہ اور مسلم لیگ کے تمام ارکان اسمبلی کو بھی نہیں تھی ۔ مگر اعلی ترین عہدیدار اسکے مکمل متعین ذمہ دار ہیں اس میں کوئ کلام نہیں

زاہد حامد صاحب !!!عمرہ اور خانہ کعبہ میں حاضری تو ایک طرف بیت اللہ کے اندر بھی چلے جائیں تو یقینا توبہ کا دروازہ تو کھلا ہے مگر غلطی سے مبرا ہونے کا سوال تو پیدا ہی نہیں ہوتا ۔ آپ کی نسبت خواندہ رسول ﷺ سے ہی کیوں نہ ہو اگر آپ سے غلطی ہوئ ہے تو ہوئ ہے ۔ حضرت نوح کا بیٹا غلطی کر سکتا ہے تو آپ جناب کی کیا حیثیت

 

غلط کو غلط کہنے کی ہمت پیدا کیجئیے

In Blashphemy Law - An Islamic Perspective, pakistan, Pakistan's Ideology, Urdu Columns on November 18, 2017 at 10:08 am

اسلام کی بنیاد توحید، عقیدہ ختم نبوت ﷺ اور معاشرتی انصاف پر قائم ہے۔
قرآن کی زبان میں ظلم صرف یہ بھی نہیں کہ کسی کا قتل کر دیا جائے بلکہ علم رکھنے کے باوجود غلط اور گمراہی پہ اصرار کیا جائے’ یہ بھی ظلم ہے۔ اور بستیوں کی تباہی موخر الزکر ظلم پر ہی ہوئی ہے

گزشتہ روزپارلیمنٹ میں وزیر داخلہ صاحب احسن اقبال نے وزیر قانون زاہد حامد کا جس طرح دفاع کیا تو مجھے زمانہ جاہلیت     ای اپنے قبیلے کی ہر حال میں حمایت و اعانت کی  روایات یاد آگئیں

 سمجھیں کہ تعصب کسے کہتے ہیں؟
جنگ یمامہ کے دوران رات کے وقت کچھ مسلمان سپاہی اپنے لشکر سے نکلے تاکہ چہل قدمی کرسکیں- کچھ دور جاکر ان کا سامنا مخالف لشکر کے کچھ سپاہیوں سے ہوگیا- ایک مسلمان سپاہی نے مخالف لشکر کے ایک سپاہی کو پہچانتے ہوئے پوچھا کہ اے فلاں! کیا تم بنی حنیفہ کے اس وفد میں شامل نہیں تھے، جو مدینہ آیا تھا اور اسلام قبول کیا تھا-
س نے اثبات میں جواب دیا-
مسلمان سپاہی نے پوچھا کہ کیا تمہیں یقین نہیں ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ، اللہ کے سچے نبی ہیں اور مسیلمہ کا دعوی نبوت جھوٹ پر مبنی ہے-
مخالف کا جواب محض جواب نہیں تھابلکہ تعصب کا عملی مظاہرہ تھا جو آدمی کی عقل کو اندھا کردیتا ہے اور درست فیصلے کرنے کی صلاحیت سے محروم کردیتا ہے-
اوربعض اوقات دین و دنیا دونوں ہی ہاتھ سے جاتے ہیں-
اس نے جواب دیا تھا کہ
” میرے نزدیک ربیعہ کا جھوٹا مضر کے سچے سے بہتر ہے”
ْ

وزیر قانون نے پارلیمنٹ اپنی توصیف بیان کرتے ہوئے اپنے حج اور عمرہ کا زکر کیا تو خیال آیا کہ محترم سے عرض کروں کہ یقین جانئیے حضور ابوجہل نے آپ سے زیادہ حج اورعمرے کیئے ۔ آپ سے کہیں زیادہ حاجیوں کی خدمت کی ۔ آپ سے کہیں زیادہ حاجیوں کو پانی پلایا ۔
اسکے لئیے تو نبی مہربان ﷺ نے دعا کی ۔ مگرباوجود اسلام کی دعوت کو برحق ماننے کہ وہ محض تعصب میں جہنم نشین بنا کہ نبوت بنو ہاشم میں کیسے آگئ ۔

مشرف کی باقیات کو اصولی طور پہ گلے لگانے کر انکو وزارت کا عہدہ دینے والوں یعنی نواز شریف نے ہی امریکہ کی فرمائیش پہ “باریک کام” کر کے ختم بنوت ﷺ کے اصولی قانون کو بدلا تھا ۔ وہ پریس کانفرنس تو آج بھی موجود ہے کہ جس میں وزیر موصوف نےرعونت آمیز لہجے میں برملا کہا تھا کہ کوئ قانون اقرار ختم نبوت ﷺ تبدیلی نہیں کی گئ ۔ تو پھر کل کون سی ترمیم واپس لی گئ ؟ دال میں کچھ کالا تھا یا پوری دال ہی کالی تھی ؟ آپ کا یہ کہنا آپ کے عمل سے میل نہیں کھاتا کہ ” مجھ سے کوئی ایسی بات منسوب ہو جس سے نبیﷺ کی شان میں نعوذ باللہ کوئی حرف آئے۔ میں نے دو حج کئے ہیں میں سچا عاشق رسول ﷺ ہوں”۔ آپ نے اپنی غلطی کی معافی بھی نہیں مانگئ اسکا اقرار بھی نہیں کیا اور قانون میں کی گئ تبدیلی واپس لے لی ۔ کیا یہ کسی مزاق سے کم نہیں کہ تبدیلی واپس بھی لے رہے ہیں اور غلطی کا اقرار بھی نہیں کر رہے

احسن اقبال صاحب یہ سیاست کا نہیں آخرت کا معاملہ ہے ۔ کالی بھیڑیں کہیں اور نہیں آپ کے ساتھ موجود ہیں ۔ ظلم کا ساتھ تعصب، پارٹی کی محبت اور مخالفت برائے مخالفت کے نام پر مت دیں ۔ اپنی والدہ کے نام کی ہی لاج رکھیئے ‘ آپ کا یہ جملہ نہایت افسوسناک اور کاٹ دار ہے کہ “ہم سب مسلمان ہیں، ہمارا اتنا ہی ختم نبوت پر ایمان ہے جتنا کسی اور کا ہے۔ زاہد حامد کو یہ وضاحتیں پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم ہر کسی کو صفائی دینے کے پابند نہیں ہیں ۔”

وزیر صاحب ، اپنی گردن میں سریا مت لائیے ۔ سچ بولیں ۔ اتنا بڑا باریک کام زاہد حامد صاحب نے ایسے ہی نہیں کیا ۔ اقرار کریں ۔ اس دنیا اور آخرت دونوں میں آپ کا قد بلند ہو گا

تحریک لبیک یا رسول اللہ ﷺ کی حکمت عملی اور طریقہ کار سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر مطالبے سے نہیں ۔ وزیر قانون زاہد حامد جو مشرف کی باقایات ہیں انکو فوری طور پہ برطرف ہونا چاہئے

دوسرا معاملہ علی امین گنڈا پور کا ہے ۔ جن کا تعلق تحریک انصاف سے ہے ۔ جو کچھ بھی ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوا ہے اسکی آزادانہ تحقیقات کی جانی چاہئے ۔ موصوف کی گاڑی سے شہد کی بوتلیں پہلے بھی برامد ہو چکی ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ وہ آبرو ریزی کے واقعے کے براہ راست زمہ دار نہ ہوں مگرانکی ظالم ؛ طاقتور، بااختیار، جاگیردار طبقے کی حمایت تحریک انصاف کے چہرے کو داغدار کر رہی ہے

ہمت کریں اور سچ بولیں ؛ اگر موصوف زمہ دار ہیں یا براہ راست یا بالواسطہ یا مجرموں کی حمایت اور طرف داری میں ملوث ہیں تو انکو اپنی پارٹی کے ہی کٹہرے میں کھڑا کیجئیے ۔

کسی معصوم کی عصمت و عفت و عزت و حرمت کسی بھی قسم کی سیاست سے اور سیاسی مفادات سے بالہ تر ہے ۔
بنی کریم ﷺ نے فرمایا اپنے بھائ کی مدد کرو ظالم ہو یا مظلوم اور ظالم کی مدد اس طرح کرو کہ اسکو ظلم سے روکو

تو کیا تحریک انصاف کی قیادت ظالم کےساتھ ہے یا مظلوم کے ساتھ ۔ اسوقت حقیقت اور واقعات کچھ اور بتا رہے ہیں ْ مظلوم بچی کے ساتھ ابھی تک سوائے Lips Servicing کے کچھ نظر نہیں آیا

انسانوں کی دنیوئ اور اخروی زندگیوں کی تباہی ۔ صرف اور صرف تعصب اور وابستگی کے نام پہ ظلم کا ساتھ دینے پر ہے ۔ آئیے ان زنجیوں کو توڑیں

اور یاد رکھئے ۔ آخرت موجود ہے ورنہ قدرت ظالم ہوتی

A Discussion about Contemporary Services of Syed Abul A’ala Maududi (RA)

In Clsh of Civilizations, Islam - A Study, Pakistan History, Pakistan's Ideology on October 22, 2013 at 1:51 am

A Discussion about Syed Maududi

 

http://http://www.dailymotion.com/us/relevance/search/episode24+syed+modoodi+special/1#video=x1541p5

آزادی کی مختلف تشریحات

In Clsh of Civilizations, Islam - A Study, pakistan, Pakistan History, Pakistan's Ideology, Urdu Columns on March 23, 2012 at 1:35 am

عورت اور معاشرے کا البم

In Advertisement, Islam - A Study, Pakistan History, Pakistan's Ideology, Urdu Columns on March 12, 2012 at 10:37 am

خدارا ، کچھ تو کیجَےِ

In Advertisement, Clsh of Civilizations, Karachi Karachi, pakistan, Pakistan's Ideology, Urdu Columns on March 5, 2012 at 8:21 am

تعلیمی اداروں میں میوزیکل کنسرٹ – ایک جاَیزہ – حصہ سوم

In Clsh of Civilizations, Islam - A Study, pakistan, Pakistan History, Pakistan's Ideology on February 21, 2012 at 1:56 am