Kashif Hafeez Siddiqui

Posts Tagged ‘Jamaat-e-Islami’

A Discussion about Contemporary Services of Syed Abul A’ala Maududi (RA)

In Clsh of Civilizations, Islam - A Study, Pakistan History, Pakistan's Ideology on October 22, 2013 at 1:51 am

A Discussion about Syed Maududi

 

http://http://www.dailymotion.com/us/relevance/search/episode24+syed+modoodi+special/1#video=x1541p5

کرائسز گروپ کی “اسلامی جماعتوں” پر رپورٹ – حصہ دوم

In America, Anti Ahmadiies, Books & literature, I Hate USA, pakistan, Pakistan History, Pakistan's Ideology on January 21, 2012 at 8:18 pm

کرائسز گروپ کی “اسلامی جماعتوں” پر رپورٹ – حصہ اّول

In America, Anti Ahmadiies, pakistan, Pakistan's Ideology on January 21, 2012 at 8:11 pm

سیاسی مارکیٹنگ

In pakistan, Pakistan History, Pakistan's Ideology on December 25, 2011 at 5:05 am

سانحہ مشرقی پاکستان —- ایک جاَیزہ

In pakistan, Pakistan History, Pakistan's Ideology on December 20, 2011 at 2:09 am

عمران خان صاحب ، زرا احتیاط سے

In Miscellaneous, pakistan, Pakistan History, Pakistan's Ideology, Urdu Columns on November 18, 2011 at 6:19 am

بنگلہ دیش میں سیکولر گردی

In Clsh of Civilizations on July 31, 2010 at 3:17 pm


قرآن میں بتائی گئی تاریخ کا بغور مطالعہ اور تجزیہ کیجئے، آپ کو قدم قدم پر کشمکش خیر و شر کی گھاٹیاں اور وادیاں نظر آئیں گی۔ وقت کے اہلِ حق دیوانوں کی طرح اٹھے اور کلمة الحق عوام اور خواص دونوں کے سامنے رکھا۔ مشکلات اور صعوبتیں برداشت کیں، یہاں تک کہ جان سے گزر گئے۔ نبی کریم کے مطابق ان کے جسموں کا گوشت لوہے کی کنگھیوں سے اتارا گیا اور جسم کو آریوں سے چیر دیا گیا، کسی کو بستی سے نکال باہر کیا گیا تو کہیں آگ کے انگاروں پر پھینک دیا گیا۔ ان تمام واقعات کے مخالف فریقین کو دیکھیں تو یہ تمام لوگ انسان کے ہاتھوں بنائے گئے بت اور انسانی بادشاہوں کو بطور ”خدا“ کے تسلیم کروانے کی شیطانی خواہشات نے ان کے نفس کو موٹا، ان کو عقل و خرد سے محروم، شعور سے لاتعلق، فہم سے بے بہرہ اور معاملے کے ادراک کی طاقت سے کورا کردیا تھا، جس کی وجہ سے معاشرے فساد اور ظلم کا شکار ہوگئے۔ انبیا کا پیغام اس کے علاوہ کچھ اور نہیں تھا کہ انسانوں کو انسان کی غلامی سے نکال کر اللہ رب کائنات کی اطاعت میں دیدیا جائے۔ مگر یہ کم عقل انسان ہے جو اپنے آپ کو خدا کی رحمت سے اور برکت سے محروم رکھ کر شیطان کی قربت میں فرحت محسوس کرتا ہے، حالانکہ یہ سراسر خسارے کا ہی سودا ہے۔ انسان کی حیثیت دنیا میں اللہ کے خلیفہ اور اس کے نائب کی ہے، جس کے وجود کا مقصد اس کے علاوہ کچھ اور نہیں کہ وہ زمین پر صرف اور صرف اللہ کی حاکمیت قائم کرنے کی سعی و کاوش کرے، مگر کیا کریں کہ اس انسانی عقل پر ماتم کرنے کا جی چاہتا ہے، جو دین و ایمان کی ٹھنڈی چھاؤں کو چھوڑ کر ”سیکولرازم“ کے نام نہاد تصور کے تحت انسان کو پھر انسان کی غلامی میں دینے کو تیار کھڑا ہے۔

ہمارے سامنے ”پاکستان آبزرور“ میں نوشین سعید کا چھپنے والا مضمون

Separate Religion from Politics

یعنی مذہب اور سیاست کو جدا کیجئے، رکھا ہے۔

  حالانکہ اقبال نے صرف ایک مصرعہ میں دریا کو کوزے میں گویا بند کردیا تھا کہ


جدا ہو دیں سے سیاست تو رہ جاتی ہے چنگیزی

نوشین سعید لکھتی ہیں کہ ”بنگلہ دیش سپریم کورٹ مبارک کی مستحق ہے کہ اس نے مذہبی بنیادوں پر سیاست کرنے پر پابندی لگادی، جو ایک بڑا قدم ہے۔ یہ قدم بنگلہ دیش کو یقینا جدید، خوشحال، لادین، ترقی پسند اور جمہوری ملک بنا دے گا“۔ موصوفہ مزید گل افشانی کرتی ہیں کہ ”جب کبھی ریاست اور مذہب ملتے ہیں تو یہ ملاپ خرابی، انتشار، فساد، ہنگامہ آرائی اور تصادم پیدا کرتا ہے۔ آج کی کثیر الثقافتی تہذیب اور کثیر المذاہب معاشرے میں ”کوئی“ بھی مذہب یہ صلاحیت نہیں رکھتا کہ صورتحال کو قابو میں رکھے اور حکومت اور قانون کی حکمرانی قائم کرے۔ اگر حکومت مذہب کے نام پر قائم کی جائے تو معاشرہ تنزلی کا شکار ہو جاتا ہے۔“

قارئین! ان کے نزدیک اسلام میں یہ قوت ہی نہیں اور اس کی نظمی صلاحیت اس قدر کمزور ہے کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اسے بطور ریاست کے نظام کے طور پر قائم کیا جاسکے۔ مگر آئیے دیکھتے ہیں کہ سیکولرازم جن نعروں کے ساتھ میدان میں اترتا ہے، یعنی برابری، سب کا اختیارات پر حق اور بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت، اس پر خود کس قدر عمل پیرا ہوتا ہے اور اس کے بظاہر خوبصورت سجے سجائے غازہ بھرے چہرے کے پیچھے کس قدر مکروہ صورت ہے۔

لادین طبقے کو اسلام کے تصور سے اور اس کی برکتوں اور رحمتوں سے خوف آتا ہے۔ پاکستان میں بہرحال کئی بنیادی وجوہات کی بنا پر وہ اپنے خواب کو عملی جامہ نہیں پہنا سکے، تاہم ان کو بنگلہ دیش ایسی زمین کی صورت مل گیا، جہاں انہوں نے اپنا غیر انسانی، غیر اخلاقی، جبر و ظلم سے بھرپور نظام قائم کرنے کی سعی کی ہے۔ اس کی اس سعی میں ہندوستانی اور مغربی مالی تعاون سے چلنے والی لاتعداد NGOs اور سابقہ سوشلسٹ اور موجودہ لبرل سیکولر سیاسی جماعتیں ممد ومعاون ہیں۔ بنگلہ دیش میں کمشکشِ اسلام و جاہلیت اس کے وجود میں آتے ہی مزید تیز ہو چکی تھی۔ ہم تھوڑی دیر کیلئے اگر مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش کے سفر کی کہانی کو، جس کے پیچھے موجود لادین مغرب نواز طبقے کی مکروہ پالیسیوں کو کہ جن کی بدولت عالم اسلام کے سب سے بڑی اسلامی مملکت دولخت ہوئی، ایک طرف رکھ دیں کہ جس کے کردار مغربی و مشرقی پاکستان دونوں طرف موجود تھے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس خطہ زمین میں اس کشمکش کے کئی ادوار اور اتار چڑھاؤ ہیں۔

نظریاتی طور پر بنگلہ دیش کا وجود لادین، ترقی پسندانہ، قوم پرست اصولوں کے تحت لایا گیا۔ 1972ء میں آنے والے دستور کے تحت مذہب کی بنیاد پر سیاست پر پابندی لگا دی گئی اور سیکولرازم کو بنیادی ضابطہ قرار دیا گیا اور ساتھ ہی تمام مذہبی جماعتوں پر پابندی لگا دی گئی۔لیکن اس تمام لادینت کی بنیادوں کے باوجود مسلم اکثریتی ملک کے تاسیسی سربراہ شیخ مجیب الرحمن مذہب سے پیچھا نہیں چھڑا سکے۔ بنگلہ دیش آبزرور کے مطابق 1972ء میں انہوں نے اعلانیہ کہا کہ ”ان کو مسلمان ہونے پر فخر ہے اور ان کی قوم دنیا کی دوسری بڑی مسلم قوم ہے“۔ ان کا بارہا اصرار تھا کہ ”ان کے نظریہ سیکولرازم کے معنی مذہب کا معدوم ہوجانا نہیں۔“ 4 نومبر 1972ء کو دستور کی منظوری کے بعد ایک خصوصی ”مناجات“ کی تقریب میں بھی شرکت کی۔ حکومتی پارٹی یعنی عوامی لیگ نے مدارس کی امداد کے بجٹ کو، جو 1971ء میں 2.5 ملین ٹکا تھا، 1973ء تک 7.2 ملین ٹکا تک پہنچا دیا تھا۔ حکومتی سیکولر پالیسی کے تحت سرکاری میڈیا میں اسلام کے علاوہ ہندومت، بدھ مت اور عیسائیت کو بھی اپنا نقطہٴ نظر بتانے کا بھر پور موقع دیا گیا، جو بجائے لادینیت کی سپورٹ کے مذہبیت کے فروغ کا باعث بنا۔

15 اگست 1975ء کو ایک فوجی انقلاب کے نتیجے میں شیخ مجیب الرحمن اور ان کے خاندان کے افراد کو بے دردی سے قتل کردیا گیا، جس کے بعد ایک خانہ جنگی کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ بالآخر 84 روز کے کنفیوژن کے بعد جنرل ضیاء الرحمن ایک مرد آہن کے طور پر سامنے آئے۔ جنرل ضیاء الرحمن نے اسلامی ایجنڈا اپنے پیش رو کے برعکس اپنایا۔ اسلام سے تعلق اور ریاست کی شناخت، اس کے سرحدی اور ریاستی تحفظ ان کی ترجیحات تھیں۔ 1976ء کے سیاسی جماعتوں کے قانون میں ترمیم کے بعد مذہبی جماعتوں کو سیاسی عمل میں شرکت کی محدود اجازت دی گئی۔ 1978ء میں جنرل ضیاء الرحمن نے ایک سیاسی جماعت قائم کی، جس کی بنیادی پالیسیوں میں اسلام کو روزمرہ کی زندگی میں کردار اور سیاسی رہنمائی کیلئے مشعل راہ کا درجہ دیا گیا۔ ان کی کابینہ میں ایسے افراد کی موجودگی واضح تھی، جن کا اسلام سے تعلق تھا۔

اپریل 1977ء میں ضیاء الرحمن نے چند بنیادی ترامیم کیں جو نہایت دور رس تھیں۔ یہ ترامیم پانچویں ترمیم کہلائیں۔ ان میں سے چند نمایاں یہ تھیں: دستور سے لفظ ”بنگالی“ حذف کرکے ”بنگلہ دیشی“ لایا گیا۔ اس طرح ہندو بنگلہ سے تعلق ختم کرنے کا واضح اعلان کیا گیا اور بھارتی اثرات کو قبول کرنے سے انکار کیا گیا۔ ”آزادی کی تاریخی جدوجہد“ کی جگہ ”آزادی کی تاریخی جنگ“ لایا گیا۔ اسی طرح جدوجہد آزادی میں بنگلہ فوج کا کردار سامنے لایا گیا۔ دستور کے ابتدائیہ اور آرٹیکل 8 میں سیکولرازم کو چار میں سے ایک بنیادی اصول کے طور پر رکھا گیا تھا، جس کو ”اللہ تعالیٰ پر غیر متزلزل ایمان اور اعتماد“ سے تبدیل کردیا گیا اور ایک نئی شق (1A) داخل کی گئی، جس کی رو سے تمام اقدامات کی بنیاد اللہ پر ایمان ہوگی۔ آرٹیکل 12 میں موجود لفظ سیکولرازم کو نکال کر دستور کے اوپر بسم اللہ الرحمن الرحیم کا اضافہ کرکے دستور کو اسلامی رنگ دیا گیا۔ ”سوشلزم“ کا لفظ نکال کر ”معاشی اور معاشرتی انصاف“ لایا گیا۔

1980ء میں جنرل ضیاء الرحمن ایک فوجی بغاوت میں قتل کر دیئے گئے اور جنرل ارشاد نے جنرل ضیاء کی اسلامائزیشن کے عمل کو جاری رکھا۔ 1982ء میں ایک مذہبی اجتماع میں انہوں نے اعلان کیا کہ نیا معاشرتی نظام اسلام کی بنیاد پر قائم ہوگا اور اس کو قانون میں جائز مقام دیا جائے گا۔ 15 جنوری 1983ء کو انہوں نے اعلان کیا کہ وہ بنگلہ دیش کو ایک اسلامی ملک بنانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ 1988ء میں جنرل ارشاد نے ایک دستوری ترمیم کے ذریعے اسلام کو بنگلہ دیش کا سرکاری مذہب قرار دیا۔ اسلامائزیشن کے اس عمل نے جس کو مذہبی جماعتوں نے نام نہاد قرار دیا، سیکولر قوتوں کو بہرحال ایک قدم پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔ شیخ حسینہ واجد نے جو شیخ مجیب الرحمن کی صاحبزادی ہیں، کچھ اسلامی روایات کو علی الاعلان اپنایا، مثلاً انہوں نے مستقلاً سر ڈھاپنا، اپنی تقاریر میں بسم اللہ اور خدا حافظ جیسے الفاظ کا استعمال کرنا شروع کیا۔ حج اور عمرے کا اہتمام کیا۔ BNP کی رہنما بیگم خالدہ ضیاء نے الزام لگایا کہ اگر عوامی لیگ اور شیخ حسینہ واجد کو اقتدار ملا تو دستور سے بسم اللہ کے الفاظ حذف کرلئے جائیں گے۔ اس کی عوامی لیگ نے بھرپور تردید کی۔ بعد کے مختلف انتخابات اور سیاسی تحریکوں میں BNP، عوامی لیگ اور جماعت اسلامی میں اشتراک عمل رہا اور جماعت اسلامی ملک کی تیسری بڑی قوت کے طور پر سامنے آئی۔ 2004-05ء کے انتخابات کے بعد BNP اور جماعت اسلامی کی مشترکہ حکومت قائم ہوئی، مگر 6 جنوری 2009ء کے انتخابات میں عوامی لیگ نے نہایت بھاری اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کی اور انتقامی سیاست کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ سب سے پہلے تو شیخ مجیب کے قتل میں ملوث 5 افراد کو بہ عجلت مقدمہ چلا کر پھانسی کی سزا دی اور اس پر جلد از جلد عملدرآمد بھی کروا لیا گیا۔ اس وقت ان تمام کی عمریں بالترتیب 50 سے 60 سال کے درمیان تھی۔ پھر ایک سال بعد یعنی 6 جنوری 2010ء کی کینگرو کورٹس کے ذریعے اگست 1975ء اور اپریل 1999ء کی ترامیم کا خاتمہ کردیا گیا، جس کی رو سے دوبارہ مذہبی جماعتوں کو سیاست میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے۔ عوامی لیگ جو کہ 14 جماعتی اتحاد ہے، اس ترمیم کی حامی ہے۔ وزیر قانون احمد شفیق نے واضح کیا کہ بسم اللہ بدستور ابتدائیہ کا حصہ رہے گا اور دستور سے اسلام بطور سرکاری مذہب خارج بھی نہیں کیا جائے گا، البتہ دستور کی بنیادی شقوں میں شامل نہیں ہوگا۔ شفیق احمد صاحب کا فرمانا تھا کہ جماعت اسلامی کو اب اپنے نام اور منشور سے لفظ اسلامی کو نکالنا ہوگا۔ ان ترامیم کے خاتمے کے بعد سے عوامی لیگ نے جماعت اسلامی کیخلاف ایک مہم شروع کر دی ہے اور میڈیا کے تمام ذرائع پر جماعت کے موٴقف کو پیش کرنے پر پابندی بھی لگا دی ہے۔29 جون کو امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش جناب مطیع الرحمن نظامی کو، جن کی عمر اس وقت 70 سال ہے، گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ساتھ ہی جماعت کے سیکریٹری جنرل مولانا دلاور حسین اور ایک رہنما مولانا مجاہد بھی پابند سلاسل کر دیئے گئے۔ 30 جون کو ان کو جب کمرہٴ عدالت میں پیش کیا گیا تو ان کی ضمانت ہوگئی، مگر حکومتی 14 جماعتی اتحاد نے بعجلت 5 مزید مقدمات جن میں 1970ء میں جنگی جرائم کے مقدمات بھی ہیں، قائم کرکے انہیں دوبارہ گرفتار کرلیا اور انہیں 16 روزہ ریمانڈ پر دیدیا، جہاں ان سے بہیمانہ سلوک جاری ہے۔ ملک بھر میں اس وقت 800 سے زائد جماعت کے کارکنان اور ہمدرد گرفتار ہیں۔ صرف ڈھاکہ شہر سے 300 اور چٹاکانگ سے 278 افراد کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھیکل دیا گیا۔ جماعت اسلامی کی ہمدرد طلبا تنظیم اسلامی چھاترو شبر پر ملک گیر کریک ڈاؤن جاری ہے۔ پوسٹرز اور پمفلٹ چھاپنے پر بھی گرفتاریاں کی جا رہی ہیں۔ جیلوں میں ان پر انسانیت سوز سلوک کیا جارہا ہے۔ بنیادی انسانی حقوق کی بھرپور خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ وکلا تک کو ملنے نہیں دیا جا رہا ہے۔

جس طرح پاکستان کی سیکولر، لبرل، لادین لابی اسلام سے محبت کرنے والوں کو لال مسجد کی طالبات کی طرح پکڑو، جکڑو، روکو کے نعرے لگاتی ہے، اسی طرح بنگلہ دیش کی لبرل لابی کی اس وقت دیرینہ خواہش ہے کہ کسی نہ کسی طرح جماعت اسلامی کی قیادت کو جنگی مجرم قرار دیکر تختہ دار تک پہنچا دیا جائے۔ وہ یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ وہ منظر کھینچتے ہیں کہ جماعت کی قیادت کو پھانسی دینے کے بعد جماعت کی ایسی قیادت آگے آئے گی جو 1971ء کے بعد کی ہے اور یہ قیادت دراصل جماعت کیلئے امید کی نئی کرن ہوگی۔ ان کا مطالبہ ہے کہ جماعت کے زیر اہتمام چلنے والے درجنوں مالی اور غیر مالیاتی ادارے، اسکول، اخبارات، این جی اوز، ٹی وی چینلز پر پابندی لگا دی جائے اور اس پورے کام کے منصوبہ ساز میر قاسم علی کو گرفتار کرلیا جائے۔

پاکستان کی سیکولر لابی افغانستان کے طالبان کو انتہا پسند قرار دیتی ہے۔ ان پر الزام لگاتی ہے کہ وہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ آزادیٴ اظہار اور آزادیٴ رائے کا حق نہیں حاصل تھا۔ جیلیں مخالفین سے بھر دی گئی تھیں۔ مگر دیکھئے اس وقت بنگلہ دیش میں کیا ہو رہا ہے۔ سیکولر حکومت کے تحت جماعت اسلامی کو ہدف بنایا جارہا ہے۔ جماعت کے 800 سے زائد افراد گرفتار کئے جاچکے ہیں۔ قائدین کی نقل و حرکت پر پابندی ہے۔ وہ بیرون ملک سفر نہیں کرسکتے۔ خفیہ ایجنسیاں ان کے ٹیلی فون ریکارڈ کررہی ہیں۔ ان کے مقدمات لڑنے والے وکلا کے چیمبرز اور گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں۔ فروری 2010ء سے کسی بھی جگہ جلسہ کرنے کی اجازت نہیں، اگر کہیں کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں تو اسی دن اور اسی مقام پر عوامی لیگ اور اس کی طلبا ونگ چھترا لیگ جلسہ کرنے کا اعلان کر دیتی ہے۔ پولیس نقص امن کے تحت جماعت کے ذمہ داران کو گرفتار کرنا شروع کردیتی ہے۔ میڈیا ٹرائیل زوروں پر ہے۔ لگتا ہے عوامی لیگ جماعت Mania کا شکار ہو چکی ہے۔ تحریک سے وابستہ افراد کو گھروں اور تعلیمی اداروں سے گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کیا جارہا ہے۔ دفاتر کو نذر آتش کیا جارہا ہے۔ غرض زندگی تنگ کردی گئی ہے… کیا یہ دہشت گردی نہیں؟ کیا یہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کی جارہی؟ آزادیٴ رائے اور آزادیٴ اظہار کا حق ہی چھین لیا گیا ہے۔ کیا یہ سیکولر گردی نہیں؟ سیکولر ازم جو شرافت کا پر فریب لبادہ اوڑھے بیٹھا ہے، کس قدر خوفناک، مکروہ اور جابرانہ چہرہ رکھتا ہے، بنگلہ دیش کی صورتحال میں وہ عیاں ہو چکا ہے۔

ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ جولائی 1972ء میں شیخ مجیب کی زندگی ہی میں ایک قانون وضع ہوا، جس کی رو سے جو بنگلہ دیش کی جدوجہد آزادی میں شریک نہیں ہوا یا سیاسی اعتبار سے اس کی مخالفت کی یا پاکستانی فوجیوں کی مدد کی یا کسی اور جرم کا ارتکاب کیا، اس قانون کے تحت مجرم ہے۔ چنانچہ 24 جنوری 1972ء کو بنے اس قانون کے تحت ایک لاکھ سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان میں سے 37431 افراد کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا گیا۔ صرف 2848 افراد کیخلاف مقدمہ قائم ہوا اور ان میں سے بھی صرف 952 افراد کو سزا ہو سکی، باقی سب بے قصور نکلے۔ 20 نومبر 1973ء کو شیخ مجیب نے جنگ آزادی سے متعلق ان تمام قصور واروں کو عام معافی دے کر رہا کر دیا۔ 31 دسمبر 1975ء کو یہ قانون جنرل ضیاء نے غیر ضروری قرار دیکر ختم کردیا۔ اب اس ”معافی“ کے بعد مقدمات کیوں؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔

بنگلہ دیش میں ایک طرف تو دینی قوتوں اور ان کی دعوتی و تبلیغی سرگرمیوں پر قدغنیں لگا دی گئی ہیں، جبکہ دوسری جانب عیسائی مشنریوں کو اپنا تبلیغی مشن جاری رکھنے کی مکمل آزادی ہے۔ بنگلہ دیش کے مشہور سرحدی اور پہاڑی علاقے چٹاگانگ کی 45 ایکڑ اراضی کو سرسبز و شاداب بنانے والے 62 لاکھ نفوس کو عوامی لیگ کی حکومت علاقہ چھوڑنے پر مجبور کر رہی ہے اور مقامی اور بین الاقوامی مشنریوں کو یہ زمین الاٹ کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے اور مقامی آبادی کا پٹہ منسوخ کر دیا ہے۔ اس عمل میں اقوام متحدہ بھی شامل ہے۔ اگست 2007ء میں حکومت نے اس علاقے سے فوج بھی نکال لی ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ علاقہ دوسرا مشرقی تیمور بنے گا۔

اسی اثنا میں حکومت جماعت اسلامی کی مخالفت میں ایک قدم اور آگے بڑھی اور اسلامک فاؤنڈیشن، جو لائبریریز کی دیکھ بھال کا حکومتی ادارہ ہے، کو حکم دیا کہ مولانا مودودی کی تمام کتب ملک کی 24000 لائبریریز سے نکال لی جائیں۔ بی بی سی کے مطابق اسلامک فاؤنڈیشن کے موجودہ سربراہ شمیم محمد افضل کے بقول مولانا مودودی کی کتب جنگی جنون اور انارکی کو فروغ دے رہی ہیں۔ یہ جملہ سیکولر لابی کا رٹا رٹایا موٴقف ہے، جو وہ بار ہا دہرا چکی ہے۔

70 سالہ امیر جماعت اسلامی مولانا مطیع الرحمن نظامی پانچ بار مسلسل ایم این اے رہے، 25 کتب کے مصنف ہیں اور سابقہ وزیر بھی رہے ہیں۔ اگست 2009ء کو عرب نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ

”اگر قومی سوچ والی جمہوریت اور امن پر یقین رکھنے والی مذہبی جماعتوں کا راستہ روکا گیا تو نتیجتاً ملک میں عسکریت پسندی جنم لے گی۔

بنگلہ دیش اس وقت ایک سیاسی بھونچال سے گزر رہا ہے۔ سیکولر لابی جو ہمیشہ تشدد پسند رہی ہے، سمجھتی ہے کہ اگر جماعت اسلامی بنگلہ دیش پر پابندی لگا کر یا اس کے رہنماؤں اور کارکنان کو پابند سلاسل کر کے یا اس کے رہنماؤں کو تختہ دار پر چڑھا کر تحریک اسلامی کو روک لیں گے یا اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو جائیں گے تو یہ ان کی بھول ہے۔ حکومت کی اپنی کارکردگی یہ ہے کہ تازہ ترین عوامی جائزے کے مطابق 52 فیصد لوگ مہنگائی سے پریشان ہیں اور 56 فیصد سمجھتے ہیں کہ اس کے کنٹرول کیلئے کوئی عملی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ 28 فیصد افراد عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے شبہ رکھتے ہیں، جبکہ 36 فیصد کی کوئی رائے نہیں۔ ایک سال قبل حکومتی کارکردگی سے 62 فیصد لوگ مطمئن تھے۔ آج 53 فیصد افراد مطمئن ہیں۔ پہلے 71 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ حکومت صحیح سمت جا رہی ہے۔ آج 10 فیصد کم ہو کر 62 فیصد کی یہ رائے ہے۔ اس طرح حکومتی مقبولیت کا پہاڑ آہستہ آہستہ گھل رہا ہے۔

افغان طالبان کی اسلام پسندی کو انتہا پرستی سے تعبیر کیا جاتا ہے، تو ان سیکولر عناصر کی انتہا پسندی کو کیا کہا جائے گا؟ شرافت و اخلاق کو رخصت کرنے والوں کو کیا کہا جائے گا؟ اگر ایک آدمی سمجھتا ہے کہ اس کی زندگی کا مقصد اسلامی نظام زندگی کا قیام اور حاکمیت الٰہیہ کا قیام ہے تو پھر اعتراض کیا ہے۔ آپ اپنا کام کریں، اس کو اپنا کام کرنے دیں۔ جمہوری کلچر میں تو دونوں کو ہی پنپنا ہوگا۔ بنگلہ دیش جماعت کا جرم اس کے علاوہ کچھ اور نہیں کہ اس نے اسلامی نظام حیات کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ہے اور 1971ء میں پاکستان کی حفاظت کو مسجد کی حفاظت سے تعبیر کیا تھا۔ مطیع الرحمن نظامی سے اس حوالے سے بھی ایک جگہ سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا

یہ بات طے ہے کہ 16 دسمبر 1971ء کے بعد پاکستان علیحدہ ملک ہے اور بنگلہ دیش علیحدہ۔ جب یہ پاکستان تھا تو ہم اس کے وفادار تھے، اب ہماری ساری وفاداریاں بنگلہ دیش کے ساتھ ہیں۔

دراصل بنگلہ دیش میں موجود ہندو لابی، سوشلسٹ لابی، لبرل اور سیکولر لابی کو جماعت اسلامی سے اپنے وجود کا خطرہ ہے۔ ظلم کی سیاہ رات کتنی ہی تاریک کیوں نہ ہو، صبح نے تو آنا ہی ہوتا ہے۔ اگر جماعت کی قیادت کے مقدر میں شہادت ہے تو یہ اس کیلئے بڑی کامیابی ہے۔ اس کی پیشگی مبارکباد۔ تاہم حقیقت یہی ہے کہ تیتو میر شہید کی یہ سرزمین جس پر انگریز سامراج نہ ٹک سکا، تو سیکولرازم کے حامی کیسے ٹک سکتے ہیں، ہم یہی ہیں گے کہ:

اک ذرا صبر کہ جبر کے دن تھوڑے ہیں


A Column dedicated to Marytrs of Lal Masjid 2007

In pakistan on July 19, 2010 at 5:07 am

The bloody game of Secular fascists in Bangladesh

In Clsh of Civilizations on July 17, 2010 at 10:06 am

Bangladesh Pro Indian Secular Govt. bans books written by Maulana Maududi (RA)

The Bangladeshi government has ordered mosques and libraries across the country to remove all books written by Great Islamic

Maulana Maududi (RA)

scholar Maulana Abul A’ala Ma’ududi (RA).

The chief of the government-funded Islamic Foundation told the BBC that according to his perspective the books by Syed Abul Ala Maududi encouraged “militancy and terrorism”.

Maualana  Maududi (ra) – who died in 1979 – is the founder of the Jamaat-e-Islami party.

His works are essential reading for supporters of the Jamaat-e-Islami party in the region.

Born in India, the Pakistani scholar is considered the most prominent theorist of revolutionary Islam in modern South Asian history.

But Bangladeshi officials say Mr Maududi’s writings promote radicalism and his ideological goal was to capture power in the name of Islam.

“His writings are against the peaceful ideology of Islam. So, it is not correct to keep books of Mr Maududi in mosques,” Islamic Foundation Director-General Shamim Mohammad Afjal told the BBC.

The government has now ordered nearly 24,000 libraries attached to mosques to remove his books immediately. Some have already started to do so.

A senior official from Jamaat-e-Islami, ATM Azharul Islam, described the move as an attack on Islam.

“Mr Maududi’s books are being published in many countries and there have been no complaints against his writings so far,” he said.

The decision by the Awami League-led government is widely seen as part of its efforts to curb the activities of Jamaat-e-Islami, accused by many Bangladeshis of collaborating with the Pakistani army during the 1971 war of independence.

Five senior leaders of the party were arrested recently on charges of committing mass murder during the war. The party denies the accusations.

Jamaat-e-Islami Bangladesh Statement on the situation :

On 29th June 2010, the Ameer of Bangladesh Jamaat-e-Islami and former cabinet Minister Maulana Motiur Rahman Nizami and Deputy Ameer, the internationally reputed Islamic thinker Maulana Delawar Hossain Sayedee and Secretary General of Jamaat-e-Islami, Ali Ahsan Mohammad Mojaheed were arrested showing false cases. The people of Bangladesh are completely astonished at the arrest of these three top ranking leaders of the largest Islamic party on the ground of so called hurting religious sentiment. The arrest of such leaders on the plea of hurting religious sentiment, who are engaged throughout their life in establishing the religious order, has not only become the laughing stock for the people, but also demonstrates without doubt the conspiracy of the government. It may be mentioned that after the arrest of these leaders on 30th June, they were produced before the court, which granted them bail. But the present alliance government hurriedly filed five more cases and sent them to jail. It is crystal clear that the planned arrest of these leaders of Jamaat-e-Islami is to harass as a part of conspiracy of the government. The remand order by the court for long 16 days on the plea of obstructing the functions of the police has proved that the government by showing thumb to the Constitution and rule of law has taken the path of torturing the political rivals.

It is to be mentioned that one speech by the City Ameer of Jamaat-e-Islami in a religious meeting (Seerat Mahfil) has been concocted by some of the government supported news papers. On the basis that speech, cases about hurting religious sentiment were filed on behalf of the ruling party in five different places of the country. However, none of Maulana Nizami and Mr. Mojaheed was present in the said Seerat Mahfil. Maulana Rafiqul Islam Khan, City Ameer of Jamaat protested the concocted circulated news and stated that there was no question of comparison of Maulana Nizami with the Holy Prophet (Sm); even he did not make such type of comparison. So it is evident that the conscious people of this country have no confusion about the bogus propaganda of the media and the planned case instituted on the plea of hurting religious sentiment. Some nefarious activities of the government are outlined below to know the actual picture of the present government, who want to portrait them as democratic:

1.    The government has taken up all these steps to take revenge on Jamaat-e-Islami and it’s big proof is that the government involved the leaders in the case of a student killing in Rajshahi University four months ago. The government after the incident of killing of the student of Rajshahi University in February 2010 started combing operation against Jamaat-e-Islami and Islami Chhatrashibir (student organization) and arrested more than one thousand leaders and workers throughout the country. The incident happened in Rajshahi University has no connection with Jamaat and Shibir. The arrest of hundreds of workers of Jamaat and Shibir and filing of false cases throughout the country including Dhaka, Chittagong, Satkhira, Bogra, Kushtia, Mymensingh by the government has no justification and legal ground.
2.    Hundreds of leaders and workers of Jamaat and Shibir were injured throughout the country by the attack of the police, Chhatra League (Student wing of ruling party) and Awami League terrorists.
3.    The police is not allowing any meeting, procession, protest rally of Jamaat and Shibir in any place throughout the country including capital city Dhaka since February 2010. The police is continuously creating obstruction in every programme of Jamaat and Shibir imposing section 144 and charge batons and file cases under Druta Bichar Ain (speedy trial law) after arrest of leaders and workers. Even the Metropolitan Police commissioner, Dhaka has ordered not to hold any programmes by Jamaat and Shibir, who have been protesting the arrest of their three top ranking leaders.  How and where the police officer got such authority to deprive the constitutional and human rights of Jamaat-e-Islami?
4.    The government again started arresting the leaders and workers of Jamaat-e-Islami involving in false cases throughout the country after the arrest of three top leaders of Jammat. After arresting about 800 leaders and workers throughout the country (including 300 in Dhaka and 178 in Chittagong), the government filed cases against them under Druta Bichar Ain (Speedy Trial Law), which is completely based on wrong notion and this is one kind of oppression. The police is behaving in inhuman and uncivilized manner to the leaders and workers of Jamaat-e-Islami. About two thousand leaders and workers were arrested during the rule of this government.
5.    In addition to the above, a good numbers of central working committee members and district leaders were arrested showing false cases. Important among them are- Mr. Ataur Rahman, Ameer of Rajshahi City and veteran freedom fighter, Professor Mian Golam Parwar, Ameer of Khulna City, Mr. Abdul Wahed, District Ameer of Kushtia and former MP, Deputy Ameer Principal Faridul Haq, Mr Abul Kalam Azad, Secretary, Rajshahi City, Principal Siddique Hossain, Assistant Secretary, Rajshahi City, Upazila Chairman Mokbul Hossain, Rajshahi, Maulana Abdul Baten, Secretary, Sherpur District and Shamsul Alam Golap, President, Islami Chhatrashibir, Rajshahi University. These leaders and other workers are in jail living in inhuman condition; but they are not granted bail. Moreover, a large number of leaders and workers cannot stay in their houses due to chase of police in the false cases filed against them.
6.    Maulana Matiur Rahman Nizami is now about 70. He was elected Member of Parliament (MP) for two terms, a successful former cabinet minister and the Chief of the third largest party of the country. Maulana Sayedee is a country renowned scholar and world famous Muffassere Quran. He was also elected Member of Parliament twice and at present Deputy Ameer of Jamaat-e-Islami. Mr. Ali Ahsan Mohammad Mojaheed was a successful former cabinet Minister and at present Secretary General of Jammat. Keeping these three top leaders for 16 days in remand in such an unhealthy atmosphere is totally unprecedented and inhuman. The countrymen are anxious and astonished for torturing these national leaders keeping them in remand. Earlier more than three hundred leaders and workers were tortured keeping them in remand.
7.    The plain cloth police has entered into the chamber of Barrister Abdur Razzak, senior advocate of Bangladesh Supreme Court, who is the law counsel of these three top leaders. The government is not allowing the lawyers to meet the leaders in custody. As a result, complications arise in respect of legal assistance and the government is obstructing the normal course of rule of law. Even the family members are not allowed to meet the leaders; and as such they are passing days in anxiety.
8.    The government cancelled the permission of meeting of Jamaat-e-Islami at the fag end of preparation in Paltan Maidan by imposing section144 on 31st May 2010. As a result, the meeting was foiled. Police obstructed Maulana Motiur Rahman Nizami and Ali Ahsan Mohammad Mojaheed to go to different meetings imposing section 144. Till to-date meetings of about 25 places were obstructed in the same manner. The Tafsir Mahfil of Maulana Sayedee were not allowed to be held in 14 different places imposing section 144.
9.    The government is creating obstacle in the free movement of Jamaat leaders. They obstructed Maulana Sayedee, Mr. Kamruzzaman and Barrister Abdur Razzak, Assistant Secretary General, Dr. Syed Abdullah Mohammad Taher, Ex MP, Mr. AHM Hamidur Rahman Azad, sitting MP, member of Central Working Committee in going abroad. The government is clearly violating of Constitution and fundamental rights of these leaders in their movement and foreign visit.
10.     On 27th June during the daylong strike, the police and RAB entered into the house of Mirza Abbas, former Minister and BNP standing committee member and tortured him and his family members including women. This is a clear act of enmity and barbarism. The countrymen are astonished at the arrest by police and torture by student front leaders of Awami League on Mr. Shahiduddin Choudhury Anny MP. The veteran freedom fighter and former foreign secretary and ambassador, Mr Shamsher Mobin Choudhury (who is partially disabled) was also tortured by the same group and arrested by police alleging that he ignited a vehicle on the day before strike. He was also taken into remand 4 days.
11.    The Acting Editor of vernacular daily “Amar Desh,” Mr. Mahmudur Rahman was arrested and the publication of the daily was stopped and kept the press under lock only due to criticizing the nefarious activities of the government. At dead of night he was arrested from the office of the daily and tortured him taking his clothes off during remand. This is a vivid example of the present government who cannot tolerate criticism by the opposition and media. 31 defamation cases were filed by the supporters of Awami League against Mahmudur Rahman in different places of the country. He alleges against Joy, the son of Prime Minister regarding corruption in his daily and for that matter he is facing such torture. In the same case, Mr. jainal Abedin Faruq MP, the Chief Whip of the Opposition in Parliament was indicted in so many cases.
12.     Not only that the government has suddenly closed the satellite TV Channel, namely Channel 1; imposed ban on publicity of Jamuna TV Channel. The government has also stopped the ‘Talk Show’ in the name of ‘Point of Order’ of TV Channel Bangla Vision. In addition to those, other TV Channels including Diganta TV Channel are scared in fear of closing of programmes. The long-established English daily ‘The Bangladesh Observer’ has been closed by the government showing different causes. All these acts are nothing but evidence of restricting media and news papers of the country like 1975.
13.     The present alliance government is conspiring to abolish the 5th Amendment of the Constitution and reinstate 1972 Constitution. If the government succeeds in doing the above, it will not only close the functions of Islamic political parties, but also the country will emerge in darkness of secularism again. By the influence of leftists and communists, two ministers of the present Cabinet are trying to impose the secular education based on Kudrat-e-Khuda Education Commission by abolishing the Islamic and Madrasha education.
14.     The pro-Indian alliance government is trying to give corridor to India hampering our national security and independence. They are giving permission to use the sea ports of Chittagong and Mongla and Ashuganj River port by India as per three agreements, two memorandums of articles and joint communiqué signed by the Prime Minister Sheikh Hasina during her recent visit to Delhi without considering our sovereignty. In addition to those, the government is trying to help implement the ‘Tipaimukh Dam’ (like the ‘Farrakka Dam’) on the River Barak by India, which is a curse for the people of Bangladesh. All these are done to protect the power in hand and make the government a puppet one.
15.     The government is totally failed to keep commitment given during the election on 29th December 2008, the result of which was previously settled through conspiracy with the then power-house of Mainuddin and Fakhruddin. Among the commitments, important issues are- price control, enforcing Law and order, curbing corruption and terrorism, problems of gas, water and electricity, rice for Taka.10 per Kg, free distribution of fertilizer, creating job in every family and to establish the rule of law in the country. None of these commitments were materialized. Moreover, the workers of Awami League, Jubo League and Chhatra League have created very bad environment by killing, extortion, hijacking tender documents, looting, illegally occupying trade, politicizing the administration, etc. As a result the people are suffering grievously and their back is dashed against the wall. The people of this country are withdrawing their support and the popularity of the government has reduced tremendously only in eighteen month’s rule. The verdicts of recent elections in City Corporation of Chittagong and in different occupational organizations have gone against the present parties in power. As a result the alliance government is impatience and puzzled. It is a historical fact that a government normally starts torturing people and depends on police force when it faces no confidence and becomes unpopular. That is why the Awami and alliance government started oppression on Jamaat-e-Islami and BNP. Virtually the government has lost its confidence over its population and themselves.

The government planned to destroy Jamaat-e-Islami because of some reasons, namely (a) the commitments given during election not possible to be fulfilled; (b) the people of this country raised their voice against the misrule, the failure of the government and conspiracy of creating of puppet state; and (c) the government will have to quit if the united movement of nationalist and Islamic forces of BNP and Jamaat to overthrow them. If they succeed in their programs, they would ruin the opposition and establish one-party undemocratic rule of BKSAL like 1975. For this purpose, they have brought forward the war crime issue, which is a long settled issue. It has multifarious goals also. Through this issue, the alliance government wants to divide the nation for ever, wants to keep the country instable and restless, so that Bangladesh cannot be self-sufficient economically.

In this situation, Bangladesh Jamaat-e-Islami has decided to face the conspiracy of the alliance government in democratic and constitutional way. It is possible to counter the conspiracy of the imperialists’ network through unity of the people including nationalist and Islamic forces. The government will make mis-propaganda against the constitutional movement of the people. We fervently call to the people including leaders and workers of Jamaat and other democratic political parties to build up united movement against the anti-state, anti-democratic, anti-human rights and anti-Islam activities of the Awami and alliance government. We are surely hopeful; as days come after nights, lights after darkness; so the oppression of the present autocratic and tyrant government would come to an end. The Almighty Allah does not tolerate such type of repressive and tyrant government.

Nadeem Farooq Paracha (NFP) – A Square All-Rounder

In Clsh of Civilizations on April 7, 2010 at 5:53 am

By: Syed Aal-e-Imran

Source : http://tajzia.wordpress.com/ 

Nadeem Farooq Paracha is one of the most widely respected intellectual giants of the country. Throughout his life, he has dedicated himself to contribute towards the betterment of the society on issues of critical importance.

During the 1990s, when The News ran its ‘Vibes’ section in its weekend supplement, NFP, as he is affectionately known, made priceless contribution by highlighting some of the most critical issues relevant to the masses some of which are as follows:

  1. Top Ten Songs of All-Time in Pakistani Pop Music (revisited and updated at least thrice with Sar Kiye Yeh Pahar by Strings always coming out on top)
  2. Top Ten Albums of All-Time in Pakistani Pop Music (again, revisited and updated a number of times Vital Signs Vol. 2 featuring Junaid Junaid Pakistan was always up there)
  3. Precursors of Psychedelic Rock
  4. The Earth, Wind, Fire and Water in Rock Music
  5. The fact that Pepsi destroyed Vital Signs and other bands
  6. Perils of Bubblegum Pop
  7. Musicians and why they had no right to have sponsorships
  8. Dinosaur Acts
  9. Aatish Raj and how to sit and mindlessly roll a coke bottle on guitar strings and record it noise and release it as music
  10. Several literary masterpieces that should have been acted out – they were proper dramas with heroes such as ‘Junaid Junaid Pakistan’

Thereafter, he disappeared till a millennium went away and another came our way.

He then resurfaced and started writing for Dawn and has increasingly become more focused on politics. Such has been his dedication that he exposes Jamaat-e-Islami, Maududi and at times, Tableeghi Jamaat as well, everytime he writes. Imran Khan too always gets the limelight he deserves. There are occasional references to Junaid Jamshed as well – very few people remember that in 1995, in his Vibes column, NFP had written an exposition of Junaid for supporting Imran Khan. Junaid had written that ‘Imran Khan remains the only Pakistani who promised his nation something and then actually delivered it’.

NFP is an expert on Jihadi outfits as well and has actually read Amir Mir’s book himself. Similarly, his very statement that ‘the 2008 Mumbai attacks’ that were ‘undertaken by Pakistani Jihadis’ is the final word – Pakistanis never budge to American or Indian Pressure. You have to believe him when he implies that ‘The Dawah’ and Taliban have the same agenda. He is also correct when he clarifies the retro-Maududi’ist and Tablighi notions of ‘Islamic Society’ which have no difference. Very few have had better grips of Syed Qutb and Maududi that he has. Not many realize, for example, the death of Mustafa Akkad was actually an admission of failure from the proponent of Maududified Qutubi ideologies.

NFP’s expertise is not limited to politics, music – he is the ultimate (read square) all-rounder and can write and talk endlessly on any issue till kingdom come. He knows more about cricket and its management than Imran Khan and others ever did. It is extremely saddening to realize that Pakistani cricket team was humiliated in the 2007 World Cup which was lost because Tableeghi Jamaat exists as testified by NFP.  P. J. Mir also said that and Bob Woolmer would have done the same had he been alive. It is unfortunate that two important members of the team, Shoaib Akhtar and Muhammad Asif, could not deliver at the time because they could not get the NFP recipe for getting things right. Because he is an expert on cricket, you have to believe him that Waqar was appointed captain in 1999 even if he only played two tests and two one-dayers that year. That is because Khalid Hassan said so too. Munir Hussain, that old sadist, was entirely wrong when he mentioned in his World Cup 1992 account that Khalid Hassan spread lies about the Pakistan Team. His eyes lied. Nadeem’s pen didn’t.

If we were to follow Nadeem Farooq Paracha’s thought, the world would be diarrhea-free, conspiracy-theory-free. Everyone would be applying Aafia Beauty and Bleach Cream all the time made from the flesh of that terrorist criminal, the Amazon-like Dr. Aafia Siddiqui who can easily tackle half a dozen American Marines on her own and snatch a gun from them. Everyone would ensure that Farhat Hashmi is bashed every time anything is discussed. In fact, every discussion should start with an exposition of Farhat Hashmi.

Nadeem Farooq Paracha can read between the lines. He knows that these silly SMSs, despite the fact that they are at times actually contain fabricated Hadiths, are actually aiming to make people respect Hadiths. So he has done a great service to humanity by exposing this grand conspiracy. In fact, it is not a conspiracy but a fact because Nadeem Farooq Paracha doesn’t believe in conspiracies and because he doesn’t believe in conspiracies, they do not exist.

We love Nadeem Farooq Paracha for his humble, honest, well-informed, anarchic, Marxist, non-fascist and any-other-prefix-that-he-loves opinions and his highly ethically, completely-in-line-with-journalistic ethics, his ethically and humble ethical personality.

What would we have done without him? Our limited knowledge is nothing compared to the encyclopedia that Nadeem Farooq Paracha is. Hence, we do not know if he believes in Paradise. But if he did, he would be the first to enter it.