Kashif Hafeez Siddiqui

Posts Tagged ‘Osama bin laden’

NO More- امریکہ

In I Hate USA, pakistan, Pakistan's Ideology on May 12, 2011 at 11:35 am

 –
   مجھ سے سوال پوچھا گیا کہ اسامہ بن لادن کے بعد پاکستانی عوام کے کیا احساسات ہیں اور وہ کیا سوچ رہے ہیں میری سوچی سمجھی رائے جو میں نے بلا کم و کاست بیان کر دی وہ یہ تھی کہ “قوم غمگین ہے” یہ ایک ایسا غم ہے کہ جس کا اظہار بھی مشکل ہے اور اقرار کرنا جرم۔ وہ قوم جس کی 87 فیصد آبادی امریکہ سے نفرت کرتی ہے آخر کس طرح کسی امریکی کامیابی پر “خوشی” اور اطمینان کا اظہار کرسکتی ہے امریکہ سے یہ نفرت ہر مکتبہ فکر اور ہر سطح آمدنی کے فرد کے درمیان یکساں نظر آتی ہے امیر غریب، ناخواندہ، پڑھے لکھے کی کوئی تحصیص نہیں ہے۔

اس بات سے قطع نظر اسامہ بن لادن کی پالیسیاں اچھی تھیں یا بری، باوجود اس تفریق کے کوئی ان کو ہلاک، کوئی جاں بحق اور کوئی اسے شہید قرار دے رہا ہے باوجود اس حقیقت کے ہم میں سے کسی کو بھی ان سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی مگر اکثریت کے نزدیک وہ امریکہ کے سامنے مزاحمت کا ایک نشان تھا۔ مزاحمت کے طریقہ کار سے اختلاف ممکن ہے مگر مزاحمت کے تواتر سے انکار ممکن نہیں۔

ہم میں سے اکثر کو امریکی داستان گوئی پر یقین نہیں 5 سال سے رہائش اور 10 ماہ سے مانیٹرنگ کی خبر حماقت سے ہی تعبیر کی جاسکتی ہے۔ تصویر دکھائی جارہی ہے کہ اوبامہ اپنے رفقاء کے ہمراہ کارروائی براہ راست دیکھ رہے ہیں مگر جو کچھ انہوں نے دیکھا وہ میڈیا کے سامنے کیوں نہیں آیا۔ اسکی لاش کیوں نہیں دکھائی جارہی، کارروائی کی ویڈیو کہاں ہے اور لاش کیوں اس قدر جلد سمندر برد کر دی گئی۔ اب امریکہ کہہ رہا ہے کہ ردعمل کا خطرہ ہے تو یہ بات باعث حیرت نہیں کیونکہ حرارت تو مسلم امہ میں اب بھی ہے۔

آج امریکی میڈیا ایک ہی راگ الاپ رہا ہے پورے پروسیس کی تاریخیں بنائی جارہی ہیں ابن صفی کی عمران سیریز یا 007 کی پوری کہانی موجود ہے مگر ان میں کوئی مطابقت نہیں ہے ہر قصہ ادھورا اور ہر بات بے وزن، ہر کہانی طلسماتی ، ہر بیان میں سازش مگر ان کا میڈیا سوال نہیں اٹھا رہا ہے کہ آخر اس”ہائی ویلیوڈ ٹارگٹ“ کو زندہ گرفتار کیوں نہیں کیا گیا اور”زیرو رینج“ سے فائر کرکے بقول امریکہ کے قتل کیوں کردیا گیا؟ اور جس کو قتل کیا گیا اس کی ویڈیو اور لاش کیوں نہیں دکھائی جارہی ہے؟ اور آخر سمندر برد کرنے کی کیا وجہ ہے۔

قارئین! میں اس پورے واقعے میں حکومت کو کوئی دوش نہیں دیتا بلکہ سچی بات تو یہ ہے میں اس پر تنقید بھی نہیں کرتا کیونکہ مجھ کو حکومت سے کبھی بھی کسی نیکی اور جذبہ حریت کی امید رہی ہی نہیں ان میں استقامت اور وقار کی کبھی بھی کوئی رمق دیکھی ہی نہیں۔ ہاں سیاسی جوڑ توڑ میں یہ طاق ہیں، نظریات نام کی کوئی چیز ان کے پاس ہے ہی نہیں۔ ان کو اقتدار سے اس قدر محبت ہے کہ انھوں نے کراچی کو ٹھیکے پر دے دیا مثلاً پہلا الیکشن کا کام اور مردم شماری جو اساتذہ کیا کرتے تھے اب واٹر بورڈ کے حلف یافتہ ملازمین کرتے ہیں۔ ایبٹ آباد کے واقعے پر بھی انھوں نے بے نظیر بھٹو پر حملے کا راگ الاپا ، اسکی خوشی سنائی ا ور بس خود مختاری اور اس کے احترام سے یہ وطن فروش کیسے واقف ہو سکتے ہیں ان سے لفاظی کے علاوہ اور کوئی بھی امید عبث ہے۔ میں ان سے چھٹکارے کی بات اس لئے نہیں کرتا کہ اس کے نام نہاد متبادل بھی انہی جیسے ہیں ان سے بھی کوئی امید نہیں یا تو تبدیلی 360 کے زاوئیے سے ہو ورنہ صورت حال یہی رہے گی۔

دوسری طرف کل کے سوشلسٹ اور آج کے”انجمن غلامان امریکہ“ کے لبرل لابی کے نام نہاد دانشور جو ریمنڈ ڈیوس کو”جناب ریمنڈ“ کہتے نہیں تھکتے تھے۔ ایبٹ آباد کے اس نام نہاد آپریشن کے بعد انٹرنیٹ پر آسمان سر پر اٹھالیا کہ اب ان لوگوں کو خاموش ہو جانا چاہئے کہ جو سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں انتہا پسند نہیں رہتے۔ امریکہ کی خوب تھپکی تھپکتے ہیں کہ زبردست تم نے شاندار کام کیا تم کو یہی کرنا چاہئے تھا بلکہ ابھی اور اسی طرح کرو۔ تم کو حق حاصل ہے کہ تم کسی بھی ملک میں دندناتے ہوئے جائو اور لوگوں کو قتل کردو۔ یہ لبرل فاشٹ اس فرق کو ہی بھول جاتے ہیں کہ جو دہشت گردوں اور ریاستوں میں فرق کرتا ہے دہشت گردوں کی کوئی سرحد نہیں ہوتی جبکہ ریاستیں سرحدوں اور قوانین کی پاسداری کرتی ہیں۔ کل کے ان سرخ انقلاب کے داعیوں اور آج کے لبرلز کے حوالے سے میں نے بارہ بنکی سے تعلق رکھنے والے ہندو اور شاعر جسٹس”آنند نارائن ملا“ کا ایک شعر پڑھا جس کو تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ اس طرح پڑھا جانے لگا۔
                                                                                            ہنگامہ روشن خیالی ہم نے سنا تو ہے مگر
                                                                                        جام وصبو کے آس پاس دارو رسن سے دور دور
ا

مریکی غلامی میں طاق اور اسلامی قوتوں کے خلاف سرگرم عمل، ملک کی نظریاتی اساس کو تبدیل کرنے میں فعال وسرگرداں یہ لبرل طبقہ آج امریکی نمک حلالی کا حق ادا کرنے کی پوری سعی وکاوش کررہا ہے۔ یہ ہر چیز کو Logic کے نام سے دیکھتا ہے اور غلامی کے ہر حکم کو عقل کا تقاضہ کہتا ہے، ہر بے عزتی کو نوشتہ دیوار سمجھتا ہے اور حمیت اور خود مختاری کی فروخت کو مجبوری کہہ کر قبول کرلیتا ہے۔ اس کو سعادت وشہادت کے جذبے سے کیا آگاہی۔ ان کو وہ جزبہ ایمانی کیا معلوم جو مظلوم ومسکین مسلمانوں کی اعانت وومدد کیلئے دولت مند خاندانوں اور عیش ونعم کے ماحول میں پلے نوجوانوں کو سب کچھ چھوڑ کر سر ہتھیلی پر لئے         فی اللہ نکل آنے پر اکساتا ہے۔ جو آرام دہ بستروں اور نرم قالینوں کو چھوڑ کر برفیلے پہاڑوں کی چوٹیوں اور اس کے غاروں میں لے جاتا ہے اور ظاہری سازوسامان میں اپنے سے کہیں بڑے اور خون آشام درندے امریکہ کے سامنے نڈر ہو کر کھڑا کر دیتا ہے۔ ان کی یہ ساری کوشش، جدوجہد اور سعی کسی ذاتی مفادات کیلئے نہیں بلکہ بنائے ملک وملت کیلئے ہے۔ دربدر بھٹکنا آسان نہیں کوئی جاکر گوانتاناموبے اور بٹگرام کے زندان خانوں اور پنجروں میں قید عزیمت کے ان میناروں اور ایمان کی ان قندیلوں سے معلوم کرے کہ جن پر تشدد کی انتہا کر دی جاتی ہے جن کو رات رات بھر جگایا جاتا ہے، جن پر کتے چھوڑ دئیے جاتے ہیں۔ وکی لیکس کے مطابق خالد شیخ کی 127 سے زائد راتیں پانی میں کھڑے رکھ کر گزروائی گئیں۔ وہ یہ سب تشدد صرف اس لئے برداشت کررہے ہیں کیونکہ زندگی کے اس پار ان کو جنت نظر آرہی ہے۔ ہم کو نہیں معلوم کہ ہم اسامہ کو کیا لکھیں، مقتول یا شہید اور ان دونوں میں سے کوئی بھی کیفیت ان کو کب ملی ہم میں سے کسی کے پاس بھی مصدقہ اطلاع نہیں مگر یہ بات طے ہے کہ ان کو درد امت کے علاوہ کوئی اور غم نہ تھا۔

اسامہ کے قتل کے حوالے سے ہی زبردست کنفیوژن ہے امریکی کہتے ہیں کہ اسامہ کو زیرو فاصلے سے کنپٹی پر فائر کرکے ہلاک کیا گیا، ڈان اخبار کا کہنا ہے کہ اسامہ کو ان کے محافظ نے ہی فائر کرکے قتل کردیا۔ ایک اور اخبار کے مطبابق کہ وہ چھت پر مقابلہ کرتے رہے اور یہاں تک کہ شہید ہوگئے اور پھر ان کی صاحبزادی بابا کہتے ہوئے ان کے جسم سے لپٹ گئی۔ آج جیو نیوز کے مطابق اسامہ تیسری منزل پر کمرہ میں تھے اور نہتے تھے جہاں ان کو امریکی فوجیوں نے قتل کردیا۔ اس طرح میڈیا کسی ایک داستان پر یکسو نہیں۔ این این آئی کی رپورٹ کے مطابق اس آپریشن میں 6 امریکی میرین بھی ہلاک ہوئے غرض جتنے منہ اتنی ہی باتیں۔
جیساکہ ہم نے گزشتہ مضمون میں عرض کیا تھا کہ مریکہ ابھی تک اس بات کا کوئی بھی ثبوت دینے سے قاصر ہے کہ جس سے ثابت ہو سکے اس آپریشن میں اسامہ بن لادن ہی نشانہ بنے۔ امریکی میڈیا پروپیگنڈے میں ماہر ہے۔ غلط کو صحیح اور صحیح کو غلط ثابت کرنے کا خاص ملکہ رکھتے ہیں۔ اپنے تئیں تاریخوں کے حساب سے پوری داستان گڑھ لی اور پوری ایک تصوراتی کہانی بنا ڈالی۔ مغرب کا نام نہاد آزاد میڈیا آخر کیوں اسامہ بن لادن کی لاش کو میڈیا کے سامنے نہ لانے پر اعتراض نہیں کررہا اور جو کچھ ان کو بتایا گیا ہے اس پر یقین کرانے پر کیوں تلے ہوئے ہیں کیوں اس بات پر بحث نہیں کہ گزشتہ چار سالوں میں اسامہ کی ایک بھی آڈیو یا ویڈیو منظرعام پر نہیں آئی۔

ایبٹ آباد کے اس واقعہ کے فوری بعد سے پاکستانی افواج اور خفیہ ادارے عالمی تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں پاکستان سے وضاحت طلب کی جارہی ہے کہ آخر اس کو کیوں علم نہیں تھا کہ اسامہ اس کی سرزمین پر فوجی علاقے میں رہ رہے ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہورہا ہے کہ القاعدہ کا ہر رہنما پاکستان کے ہی کسی شہر سے دریافت ہورہا ہے۔ امریکہ اور پاکستان کے درمیان پہلے سے ہی بداعتمادی کی ایک فضا قائم تھی اب تو امریکی سی آئی اے کے سربراہ کا تو یہ بھی کہنا تھا کہ اگر یہ خبر پاکستان کو دیتے تو راز افشا ہو جاتا۔ امریکی ایوان نمائندگان میں اب مطالبہ ہو رہا ہے کہ پاکستان کی سالانہ امداد بند کردینی چاہئے۔ فرانس وزیراعظم سے وضاحت طلب کرے گا، بھارت بھڑک مار رہا ہے کہ اس طرح کی کارروائی کی صلاحیت بھارت کے پاس بھی ہے۔ برطانیہ بھی آنکھیں دکھا رہا ہے اور تو اور افغانستان کو بھی زکام ہو گیا ہے۔

قارئیں! سچ بات تو یہ ہے کہ اوباما نے اپنی صدارتی مہم سے ہی پاکستان کے حوالے سے سخت لب ولہجہ اپنایا ہوا تھا کوئی ان کو اگر پاکستان کا دوست یا خیرخواہ سمجھتا ہے تو وہ”جنت الحمقاء“ میں رہتا ہے۔ اوباما کے دورہ صدارت کی ابتدا سے ہی Do-More کا مطالبہ بڑھتا گیا۔ بلیک واٹر کی دخل اندازی شروع ہوگئی۔ ریمنڈ ڈیوس جیسے سیکٹروں ایجنٹ داخل کئے گئے۔ شمالی علاقوں میں ڈرون حملوں سے 30 ہزار سے زائد افراد قتل کردئیے گئے۔ ملک میں خودکش دھماکے تیز ہوگئے۔ کیری لوگر بل کے ذریعے گھیرا تنگ کیا گیا اور اب اسامہ بن لادن کے Long Play کا اختتام 2 مئی کی شب کو کردیا گیا۔ اسامہ بن لادن کو پہلے بھی 7 دفعہ ہلاک کیا جاچکا ہے۔ اب آخری دفعہ خود اوباما نے اعلان کرکے اس ڈرامے کا مستقل خاتمہ کردیا۔ مگر ایک سازش کے تحت پاکستان میں ایک نام نہاد کارروائی کرکے پاکستان آرمی، فضائیہ اور ISI کو خجالت سے دوچار کردیا۔ عوام کا بھی ان اداروں پر اعتماد تنزل ہوگیا۔ عالمی طور پر آپ کو بداعتماد ساتھی ثابت کردیا۔ ایک ڈبل پلے کرنے والے ملک کا تاثر عام کردیا۔ ساری انگلیاں اب پاکستان کی طرف اٹھ رہی ہیں۔ وزارت خارجہ کے ترجمان کوئی واضح موقف اپنانے میں ناکام رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ جائز مگر ملکی خود مختاری اور قیمت کا سودا یا خلاف ورزی قابل قبول نہیں۔ ایک اخباری اطلاع کے مطابق ISI نے بھی پاکستانی عوام سے اس کوتاہی پر معذرت کی ہے مگر صدر اور وزیراعظم خوش ہیں اور مطمئن ہیں کوئی فرانس کے دورے پر روانہ ہوا تو کوئی کویت کو سدھارا۔

آج امریکی پاکستان سے وفاداری کا سرٹیفکیٹ طلب کررہے ہیں جنرل مشرف کے پاکستان میں تو آپ کو تین ہوائی مستقر فراہم کردئیے گئے جہاں سے ہزارہا ٹن بارود آپ نے افغانوں پر انڈیلا، گوانتاناموبے اور بٹگرام میں چند اکثریت عرب مجاہدین پاکستان کے ہاتھوں ہی گرفتار ہوئے، طالبان کے سفیر کو الف برہنہ امریکہ کو فراہم کرنے کا کارنامہ ہم ہی نے انجام دیا۔ اپنی قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ بھی خوشی خوشی دے دی۔ ڈرون حملوں سے بھی ہم نے آننکھیں بند کرلیں۔ حسین حقانی وہاں بیٹھ کر آنکھیں بند کرکے ویزے جاری کرتے رہے۔ یعنی تلوے چاٹنے کے علاوہ ہم نے کونسا کام اور کونسی خدمت امریکی بہادر کی انجام نہیں دیں مگر یہ تعلقات شک کے موسموں میں ہی رہے اور آج تو شدید گرمی میں ہیں اور کسی مزید ناخوشگوار صورتحال کی پیش بینی ہے۔

اس بات پر گزرتے وقت کے ساتھ مزید یقین ہوتا جارہا ہے کہ اسامہ بن لادن ایک کردار کے علاوہ کچھ اور نہیں تھا جس کو اب ہمیشہ کیلئے ختم کردیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ کی افغانستان میں اس کی نام نہاد”دہشت گردی کے خلاف جنگ“ کا جواز بھی ختم ہو چکا ہے اور اب اس کو افغانستان سے واپسی کا سفر شروع کرنا ہی پڑے گا مگر ایسا لگتا نہیں۔

دوسری طرف میڈیا کی حماقتیں جاری ہیں، سمجھ نہیں آرہا کہ وہ ملکی مفادات میں کام کررہے ہیں یا امریکی مفادات میں۔ کسی تھکے سے تھکے امریکی اخبار میں اگر یہ لکھا ہوا آ جاتا ہے کہ”اسامہ کے کپڑوں میں 500 یورو سلے ہوئے تھے“ تو اس کو بریکنگ نیوز کے طور پر دیتے ہیں۔ گھر کے تعمیراتی کام کے ٹھیکیدار کا بیان آرہا ہے حتیٰ یہ کہ گیس کے کتنے میٹر لگے ہیں بریکنگ نیوز کے طور پر آرہے ہیں میڈیا کے ٹھیکیدار خود ساختہ طور پر فیصلہ کرنا چاہ رہے ہیں کہ علاقہ کمانڈر سے پوچھ گچھ ہو گی یا نہیں۔ غیر ضروری سنسنی پیدا کرکے غیر ذمہ دارانہ حرکت کررہے ہیں اور اپنے خیال میں نام نہاد رپورٹنگ کررہے ہیں اور بریکنگ نیوز سب پہلے سے دینے کی دوڑ میں فخر کررہے ہیں۔ رائی کا پہاڑ بنایا جارہا ہے بلکہ بے پر کی اڑائی جارہی ہے۔

اس مایوس کن صورت حال سے نکالنے کی صلاحیت موجودہ حکمرانوں میں نہیں۔ اس کے لئے اپنے لوگوں کی ضرورت ہے جو خوف خدا اور حکمت وصلاحیت اور تدبر کی دولت سے معمور ہوں جو امریکہ کو No کہہ سکتے ہوں جن کے نظریات واضح ہوں، کردار صاف ہو اور ماضی بے داغ ہو، جو تمام تر قوت کا منبع اللہ کی ذات کو سمجھتے ہوں اور جدید علوم اور اختراعات سے واقف ہوں اور ان پر عبور بھی رکھتے ہوں، جو ذات سے بڑھ کر مشاورت پر یقین رکھتے ہیں، جو قرآن وسنت کو رہنمائی کیلئے استعمال کرتے ہیں جو اسلام کو مسلک وفرقہ سے بلند تر ہو کر اس کی آفاقیت کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ جو عزم وحوصلے اور جرات وہمت کے پہاڑ ہیں، جو امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر واضح طور پر بول سکیں کہ اب
America – No-More                                                                                                                       

Advertisements

اسامہ کے بعد

In America, I Hate USA, pakistan on May 4, 2011 at 1:59 am

Killing of Osama Bin Laden

In Uncategorized on May 2, 2011 at 12:26 pm

Is it end

or

Start of new war???