Kashif Hafeez Siddiqui

Posts Tagged ‘#Success #Failure’

“من ظلمات الجهل إلى نور الاسلام “

In Urdu Columns on August 5, 2015 at 8:40 pm

“من ظلمات الجهل إلى نور الاسلام ”
—————————————–

newlogoarabicآج کا معرکہ ازہان کا معرکہ ہے
تہزیبی مخاصمت اپنے عروج پہ نہیں بھی ہے تو بھی زور آزمائ کسی طور پہ کم بھی نہیں ہے –

کچھ درد دل رکھنے والے دوست ان افراد کے حوالے سے غمگین تھے جو اپنی زندگی کے ابتدائ ایام میں اسلام سے وابستگی کو اپنا اثاثہ سمجھتے تھے، مدارس کی شخصیات اور اسلامی تحاریک سے تعلق رکھتے تھے- مگر عملی زندگی میں آنے کے بعد جب غم روزگار کا شکار ہوۓ تو شیطان نے انکے کان میں کہا کہ
٭ دین کے حوالے سے اپنی ہر پہچان کو کھرچ دو تو دنیاوی طور پہ کامیاب ہو جاؤ گے –
٭اپنی صلاحیتیں اور سوچ، نظریاتی اساس اور اخروی کامیابی کے تصور سے آزاد کرلو تو دھن، دولت تم پہ برسنے لگے گی،
٭ تم اگر اپنے قاری یا سننے والے کے زہن کو دین کے بطور تصور نظام حیات سے پراگندہ کر دو تو تم کو لوگ عقل مند اور فلاسفر سمجھنے لگیں گے-

اسطرح کے لوگ عموما (معزرت کے ساتھ) صحافت کی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں – جو ایک فکر و شعور سے آزاد، اپنے خول میں بند، مزہب بیزار اجتماعیت اور اسکی صحبت سے جلد متاثر ہو جاتے ہیں- جو کسی میڈیا کے بول سے متاثر ہو کر قائد اعظم اور نظریہ پاکستان پہ پست نظر فکری گولا باری شروع کردیتے ہیں یا کسی نارویجین این جی او کے آلہ کار بنکر ( آمدنی کے لحاظ سے کچھ فوائد حاصل کر کے) بن کر مدارس کے طلباء (اپنے کسی ماضی کے تعلق اور حوالے کو بنیاد بنا کر) کو سماجی ہم آہنگی کے کسی مغربی تصور کا سبق کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں سمجھانے کی کوشش کرتے پاۓ جاتے ہیں اور سمجھاتے ہیں کہ ہم ماضی میں غلطی پہ تھے ہم کو تو اب سمجھ میں آیا کہ ریاست کو تو لا مزہب ہونا چاہئے

انہوں نے شاید دین کا تصور کچھ شخصیات کی قربت سے جوڑ لیا تھا اور وہاں سے ملنے والے کچھ زاتی مفاداتی Surprises نے انکو دین کا نقص سمجھ لیا حالاںکہ وہ ان شخصیات کے زاتی اعمال اور معاملات تھے – یا وہ اللہ کی طرف سے دی گئ آزمائیش جو کبھی افلاس دے کر اور کبھی مال دے کر کی جاتی ہے، بھلا بیٹھے

دین کا اصل اور واحد ماخز صرف اور صرف قرآن اور سنت رسول ﷺ ہے –
طریقہ بھی وہی ہے اور دلیل بھی وہی –
اسی کو تھامنے سے دل کھٹے نہیں ہوتے اور
کامیابی سے بندہ متنفر نہیں ہوتا –
کامیابی کے معیارات تبدیل ہو جاتے ہیں اور مقصد زندگی واضح ہو جاتا ہے
اخروی اہداف دنیوی فوائد پہ غالب آ جاتے ہیں
اسی کی روشنی میں، آنکھیں پتھرا نہیں جاتیں اور زہن ماؤف نہیں ہوتے
فکر گمراہ نہیں ہوتی اور قلوب میں اندھیرا نہیں چھاتا
ایک نور کا ہالہ انکا ہاتھ تھامےچاروں طرف نظریاتی حفاظت کیلئے ہر ہر محاز پہ موجود ہوتا ہے – انکو جری اور بہادر بناتا ہے اور غربت اور افلاس کے ڈر سے باہر نکالتا ہے اور نعرہ زن کرتا ہے کہ
” مجھے غلامی نہیں گوارہ”

دنیا کے تمام فلسفے، تمام موشگافیاں، تمام دعوے، تمام نظریات، تمام ترجیحات، تمام دلیلیں، تمام کانفرنسیں، تمام فیس بک اسٹیٹس ان دو روشنیوں کے سامنے ہیچ ہیں
اور ان کو تھامنے سے “من ظلمات الجهل إلى نور الاسلام “کی طرف آنے اور لپکنے کا راستہ روز روشن کی طرح سامنے دکھنے لگتا ہے

آیئے اپنی اصل کی طرف
آیئے اپنی جڑ بنیاد کی طرف
آئیے آخرت میں کامیابی کی طرف

Advertisements